حکومت 15 اگست سے تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے والے سکولوں کے خلاف کسی بھی تادیبی کاروائی سے باز رہے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز اینڈ مدارس الائنس

اسلام آباد ( ورلڈ ویوز اردو ) نجی تعلیمی اداروں کی مختلف تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز اینڈ مدارس الائنس کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، جس میں نجی تعلیمی اداروں کی مختلف نمائندہ تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی ، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تمام تنظیموں کے عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ملک بھر کے 70 ملین سے زائد طلبائ و طالبات کا 70 فیصد حصہ نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں ، کورونا کی وجہ سے سرمائی علاقوں میں گزشتہ دس ماہ سے اور میدانی علاقوں میں 6 ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں ، جسکی وجہ سے نجی تعلیمی ادارے شدید بحرانی کیفیت کا شکار ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ والدین ، طلبہ و طالبات بھی ہیجانی کیفیت سے دو چار ہیں ، گیلپ سروے کے مطابق 84 فیصد والدین فوری اور مکمل تعلیمی اداروں کی بحالی کے حق میں ہیں ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سے مطالبہ کیا کہ وہ تعلیمی اداروں کی فوری اور مکمل بحالی کا اعلان کرے ، ورنہ مستقبل میں تعلیمی بحران کے ساتھ ساتھ مزید بے روزگاریوں کا خدشہ ہو سکتا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے بین الاصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کے فیصلے کے بعد آئندہ کا لائحہ بھی تیار کر لیا گیا ہے ، لانگ مارچ اور دھرنوں کیلئے بھی تیاری مکمل کر لی گئی ہے ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت کو یہ بھی باور کروایا کہ 15 اگست سے بحال شدہ تعلیمی اداروں کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کاروائی سے گریز کریں ورنہ کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کیا جائے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں