مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے کے لیے لندن میں سیمینار کا اہتمام

لندن:آرگنائزیشن آف کشمیر کوئلیشن نے لندن میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے سلسلے میں ایک سمینار کا اہتمام کیا جس میں مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک حق خودارادیت کے دوران بھارتی فوجیوں کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو اجاگر کیا گیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق آرگنائزیش آف کشمیر کوئلیشن کے ایگزیکٹو رکن بیرسٹر عبدالمجید ترمبو نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے شرکاءکو تحریک حق خودارادیت کے دوران کشمیری عوام کی طرف سے دی جانے والی قربانیاں یاد دلائیںجنہیں مسلسل شہید کیا جارہاہے ، تشدد ، تذلیل اور بے حرمتی کا نشانہ،نظربند اورگرفتارکیا جارہا ہے اورخوراک ، صحت اور اظہار رائے کی آزادی سمیت بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے تنازعہ کشمیر کے قانونی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی اور عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بامقصد پالیسی اختیار کرے۔ قونصلر راجہ اسلم نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری عوام طویل عرصے سے بالخصوص 5اگست 2019ءسے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا کررہے ہیں جب بھارتی حکومت نے جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ نیشنز ود آؤٹ سٹیٹس کے ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین گراہم ولیم سن نے کہا کہ5اگست کے بھارتی اقدامات کا مقصد کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے ۔ انہوں نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ حق خودارادیت کے حصول کے لیے متحد رہیں۔ سیمینار سے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے برطانیہ و یورپ کے صدر ایوب راٹھور، گلوبل وژن 2000 کے منیجنگ ڈائریکٹر معین یاسین اور کشمیر یوتھ اسمبلی کے چیئرمین زیبر اعوان نے بھی خطاب کیا اور اس میں ماہرین تعلیم، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں