مذہبی سماج و استحصال مذہب۔

تحریر: افتخار راجپوت

انسائیکلوپیڈیا کی تعریف کے مطابق مذہب کا لفظی مطلب راستہ یا طریقہ ہے۔ اردو لغت کی تعریف کے مطابق مافوق الفطرت قوت کو عزت دینے، اطاعت، عبادت کے لیے بااختیار تسلیم کرنے کا عمل یا پھر رب واحد یا ایک یا زائد دیوتاؤں پر ایمان لانے اور ان کی عبادت کا ایک مخصوص نظام مذہب کہلاتا ہے یعنی مختلف خطوں کے لوگ اپنے روحانی تقاضے پورے کرنے کے لیے جو امتناعات، پابندیاں، اُصول و قوانین، ضوابط وغیرہ عائد کرتے ہیں اُن کا مجموعہ مذہب ہے۔ کراہ ارض کے تمام بڑے مذاہب انسانی تہذیب کا اہم جزو ہیں اور انسانی تہذیبیں انہی کے اصولوں پر کھڑی ہیں سادہ الفاظ میں مہذب ہی تہذیب کا ماخذ ہے چونکہ تہذیبوں کا جنم عقائد سے ہوتا ہے جبکہ زبان لباس رسوم و رواج وغیرہ تمدن ہے گویا تہذیب کا تعلق سماج اور تمدن کا تعلق فرد سے ہے اس لیے دونوں الفاظ لازم و ملزوم ہیں۔ اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ مشرق تا مغرب انسانی تہذیب نے جو بھی ترقی کی منازل طے کیں اس کا سہرا مذہب کے سر ہے لیکن بدقسمتی سے وہ مذہب جس نے انسانی تہذیبوں کی بنیاد رکھی جس نے انسانی سماج کی تشکیل کی وہ گزرتے وقت، جدت زمانہ کے ساتھ ستم ظریفی کا شکار ہوا۔

اگر مغرب میں دو ارب تیس کروڑ سے زائد یعنی دنیا کی کل آبادی کے اکتیس اعشاریہ گیارہ فیصد مسیحیوں نے اسے سماجی ترقی میں رکاوٹ قرار دے کر ریاستی نظام سے الگ کر کے کتابوں میں بند کر دیا تو دوسری طرف ایک ارب ستانوے کروڑ دنیا کی کل آبادی کے چوبیس اعشاریہ نوے فیصد مسلمانوں نے بھی اس کے ساتھ وہی کھلواڑ کیا یا پھر دنیا کی کل آبادی کے سولہ فیصد ملحدین، پندرہ فیصد ہندوؤں، سات فیصد بدھ متوں، صفر اعشاریہ انتیس فیصد سکھوں، صفر اعشاریہ دو فیصد یہودیت یا ساڑھے پانچ فیصد دیگر مذاہب کے پیروکار نے مذہب کے بطن سے جنمی انسانی تہذیبوں سے استفادہ تو کیا، معاشرتی زندگی کے ضابطے تو سیکھے لیکن اپنا مفاد نچوڑ کر اسی مذہب کو فرسودہ، انسانی ترقی میں رکاوٹ، جدت سے دور سمجھنا شروع کر دیا حالانکہ شاید ہی کسی انسانی مذہب کی بنیاد برائی کی تلقین پر قائم ہو کراہ ارض میں تمام انسانی مذاہب خواہ وہ الہامی ہوں یا افسانونی تلقین بھلائی کی کرتے ہیں۔

اگر خدائے واحد کے الہامی مذاہب میں آفاقی اصولوں پر مبنی دین برحق اسلام کی مثال لی جائے تو اس کی اعلٰی تعلیمات بہترین اخلاقی قدروں کے باعث مشرق سے مغرب صدیوں تک دیگر مذاہب کی بے شمار کوششوں کے باوجود نہ تو اس کی شبیہ کو نقصان پہنچا نہ ہی اس کی عزت پر حرف آیا لیکن بدقسمتی سے بالآخر اس دین کو اسی کے ماننے والوں نے اپنی بے عملیوں سے رسوا کیا امن کے نام پر فساد، حلال کے نام پر حرام، جہاد کے نام پر قتال نے اس آفاقی دین برحق کا چہرہ ہی بدل دیا حالانکہ وجہ تخلیق کائنات ﷺ کی تعلیمات انسان و علم دوستی کا مجموعہ ہیں اسلام تو آیا ہی جہالت مٹانے، باطل اڑانے، انصاف، مساوات، معیار قائم کرنے، مثالی انسانی معاشرہ تشکیل دینے جس میں واحدنیت کا پرچار ہو اور انسانیت کو عروج ہو ہر انسان کو مکمل حقوق حاصل ہوں اور تمام انسان اپنے مذہبی عقائد کی روشنی میں آزادانہ زندگی گزار سکیں لیکن وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل گیا مذہب کے ماننے والوں نے صرف اور صرف اپنے مطلب کا فلسفہ نچوڑا اسے اپنے مفاد کے معنی پہنائے اور چلتے بنے جدت زمانہ و من چاہی مذہبی تشریح تو سماج کا حصہ ٹھری لیکن اس کی اصل روح کہیں اور رہ گئی یہی وجہ ہے کے مشرق سے مغرب تک دین برحق پر یقین رکھنے والے اپنے عقائد نہیں بلکہ حرکات کے سبب تماشہ بن گئے۔

اگر ارض مقدس منقسم ریاست جموں و کشمیر اقصائے تبت ہا کے مسلم سماج پر نظر دوڑائی جائے تو یہاں مذہب کی نرالی ادا رائج ہے۔ مذہب کی اپنی تشریح ہی تو تھی کہ اس ریاست بے مثل کو نہ صرف الہامی و آفاقی مذہب کے نام پر ٹکڑوں میں بٹنا پڑا بلکہ یہاں مجبور نہتے لوگوں کو اپنے گھر و جائیداد سے ہاتھ دھونا پڑا ان کی جان و عزت کو پاؤں تلے روندا گیا وہ مذہب جس کے پیغمبر برحق ﷺ سے ایک غزوے میں قید ہو کر آنے والی حاتم طائی کی بیٹی کا ننگا سر نہ دیکھا گیا اور جا کر نہ صرف اس کے سر پر اپنی چادر دی بلکہ اسے رہائی کی نوید دی پھر اسی کی سفارش پر اس کے سارے قبیلے کو امان ملی۔ اس مذہب کے ماننے والوں نے مذہب کے نام پر اپنی ہی دھرتی کی بیٹوں کی عزتیں تار تار کر کے انہیں خودسوزی پر مجبور کر کے اپنے ہی مذہب کی روح کو شرما دیا وہ مذہب جس کے پیغمبر برحق ﷺ نے اپنے راستے میں کانٹے بچھانے والوں، کوڑا پھینکے والوں، برا بھلا کہنے والوں، اذیت دینے والوں کو نہ صرف معاف کیا بلکہ ان کی ہدایت کی دعا کی انہیں اپنے اعلی اخلاق و کردار سے متاثر کر کے دین برحق میں داخل کیا بلا تخصیص مذہب پڑوسی کے حقوق متعین کیے، والدین، بچوں، بوڑھوں، عورتوں، کمزوروں، یتیموں، مسکینوں کے ساتھ نرمی کا حکم دیا، جانوروں سے جانداروں تک سب کے حقوق متعین کیے۔

جنگ کے قاعدے بنائے امن کے فروغ کے لیے قانون بنائے انصاف کی مثالیں قائم کی مساوات کا سنہرا ضابطہ متعارف کروایا انسانیت کی بہتری و بھلائی کی نئی تاریخ رقم کی انسانوں کی بھلائی کے لیے قانون وضع کیے احسان معافی بھلائی کو دین کی روح قرار دیا اسی مذہب کے ماننے والوں نے خون کی ندیاں بہا دیں دھوکا دہی کی نئی داستانیں رقم کی اقراء پروری اور رشوت ستانی کی نئی مثالیں قائم کی۔ وہ مذہب جس نے ملاوٹ ریاکاری کو گناہ قرار دیا اس میں دودھ سے دہی تک، تولنے سے ماپنے تک سرعام ہیرا پھیری کرنا، اصل دکھا کر نقل بیچنا نام نہاد مذہبی سماج کا خاصہ ہے۔ ناجائز منافع خوری ہو یا جعلسازی اس سماج میں سب ہی چلتا ہے۔ وہ مذہب جس نے امیر کی زکوٰۃ کو غریب کے لیے مختص کیا، بدعنوانی کو کچلنے کا حکم دیا اس مذہبی سماج میں آج غریب کے حق کی زکوٰۃ کھلے عام کھا جانا، اس کے حق پر ڈاکہ ڈالنا بدعنوانی سے مال کمانا عزت و ثروت کی نشانی ہے۔ یہ دنیا کا عجب مذہبی سماج ہے جس میں میراثیے حسینؓ کے پڑھے جاتے ہیں پر تقلید یزید کی ہی کی جاتی ہے یہاں نعتیں محمد عربی ﷺ کی پڑھی جاتی ہیں پر روگردانی انہی کی سنت
کی جاتی ہے، تکبیریں اللہ کریم کی کبریائی کی گونجتی ہیں لیکن انحراف انہی کے قرآن مقدس کے احکامات سے کیا جاتا ہے۔ نعرہ جہاد کا لگتا ہے پر برپا فساد ہوتا ہے نعرہ حرمت نبوی ﷺ کا لگتا ہے پر تکلیف کا شکار انہی نبی ﷺ کی امت کو کیا جاتا ہے۔

وہ مذہب جس نے مسلم سماج میں غیر مسلم شہریوں کو مکمل انسانی و شہری حقوق دئیے ان کے جان مال عزت آبرو کے تحفظ کی ضمانت دی انہیں اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دی جس نے ایک بے گناہ انسانی قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا وہاں آج عقائد کے نام پر جبر عقائد کے نام پر قتل ناحق معمول کی بات ہے وہ مذہب جس نے ایک انسان کی جان و مال کو دوسرے انسان پر حرام کر دیا، کمزور کا استحصال نہ کرنے و طاقتور کو للکارنے کا فلسفہ پیش کیا اس مذہب کے نام پر آج مجبور پر ظلم لیکن طاقتور کی اطاعت معمول کی بات ہے۔ وہ مذہب جس نے ظالم سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد قرار دیا وہاں طاقتور کے نعرے لگانا اس کے سامنے فرشی سلام کرنا معمول کی بات ہے۔ وہ مذہب جس نے حاکم وقت کو رعایا کے مال کا نگران و نگہبان بنایا اس کے انتخاب کی بنیادی شرط ہی اعلی اوصاف و کردار کا مالک ہونا طے کی اس مذہبی سماج میں آج بدترین خائن کا حاکم بننا معمول ہے وہ مذہب جس نے حاکم وقت کو رعایا کا خادم قرار دیا آج اسی مذہبی سماج میں بے بس رعایا حاکم وقت کی خادم و خدمت گار ہے۔ وہ مذہب جس نے قانون کی پاسداری کا حکم دیا اس میں قانون کا رلنا معمول کی بات ہے جس نے علم کو سماج کی بنیاد قرار دیا استاذ کو عظمت کا مینار قرار دیا اسے روحانی باپ قرار دیا اس میں عالم و استاذ کا رلنا معمول کی بات ہے وہ مذہب جس نے منصف کا راست باز ہونا ضروری قرار دیا وہاں خائن کا منصف کے منصب پر پہنچنا معمول کی بات ہے اس کا بک جانا معمول کی بات ہے۔

درحقیقت یہ استحصال مذہب سے بھرپور مذہبی سماج ہے جس میں حسینؓ حق کے نعرے و تقلید یزید کے ساتھ بلکتا قانون، بکتا انصاف اس عجب انوکھے مذہبی سماج کے نام پر تماچہ ہے چونکہ بدقسمتی سے اس مذہبی سماج میں عقیدے کے مسلمان لیکن اعمال کے کافر بستے ہیں جن کا مذہب اپنا مفاد ہے یہاں سب کی اپنی تشریح مذہب ہے۔ ملائیت ہو یا پیریت یہاں سب کے اپنے ہی اہداف ہیں جس کے حصول کے لیے حسب ضرورت حسب ذائقہ مذہب کا تڑکہ تسلی بخش لگایا جاتا ہے تاکہ اس کے سواد کی آڑ میں مالی، نفسانی، سماجی، سیاسی مفاد و آرزو کی تکمیل ہو سکے۔ بلاشبہ اس سرزمین مقدس پر نہ صرف تاریخ کا بلادکار ہوا سچائی کا قتل ہوا حقائق کا قتل ہوا بلکہ مذہب کے نام پر مذہب کا استحصال ہوا لیکن یہ سرزمین آزاد ہے یہاں فلاسفر پر جاہل مسلط ہے، حق پر باطل مسلط ہے، سچ پر جھوٹ مسلط ہے یہاں معیار ہو یا قاعدہ وہ ضابطے کی قید سے آزاد ہے یہاں غلامی کا نام ہی آزادی ہے بکنے کا نام ہی اصول ہے مفاد کا نام ہی مذہب .

اپنا تبصرہ بھیجیں