آزاد کشمیر انتخابات اور تحریک آزادی کشمیر کا آپس میں کوئی تعلق نہیں؛ الطاف بھٹ۔

اسلام آباد(ورلڈ ویوز اردو) سینیئر حریت رہنما اور جموں وکشمیر سالویشن موومنٹ کے صدر الطاف احمد بھٹ نے کہا ہے جب پہلی مرتبہ آزاد کشمیر میں حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تو اسکا بنیادی مقصد ریاست جموں و کشمیر کے باقی حصے کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانے اور تحریک آزادی کشمیر کی تقویت کے لیے کام کرنا تھا یہی وجہ تھی کہ آزاد کشمیر کو آزادی کا بیس کیمپ کہا گیا لیکن بدقسمتی سے آزادی کا بیس کیمپ اپنا کردار ادا نہ کرسکا، آزاد کشمیر میں حکومت آتی جاتی رہی اور اپنے سیاسی مفادات حاصل کرتی رہی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک اخباری نمائندوں کو انٹرویو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا آزاد کشمیر میں پہلی حکومت کے قیام کے بعد سرکاری سطح پر نوٹیفیکیشن جاری ہوا تھا کہ آزاد کشمیر حکومت مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے کام کریگی تو سوال یہ ہے کہ کیا کام کیا گیا تو اسکا واضح جواب ہے کہ کوئی کام نہیں کیا جاسکا،بھارت جسطرح کے ظلم و ستم کے پہار مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر توڑ رہا ہے اسکے جواب میں آزاد کشمیر حکومت کا کردار مایوس کن رہا ہے، 5 اگست کے ہندوستانی گھناؤنے اقدامات کے بعد بھی آزاد کشمیر حکومت کا کوئی کردار نظر نہیں آیا کیونکہ آزاد کشمیر آزادی کا بیس کیمپ نہیں رہا یہاں حکومتیں سیاسی مفادات کے لیے بنتی ہیں ۔انہوں نے کہا یہ بات خلاف حقائق ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات اور تحریک آزادی کشمیر کا آپس میں تعلق ہے میری نظر میں یہ دونوں الگ الگ ہیں، آزادکشمیر کے انتخابات اور اسکے بعد قائم ہونے والی حکومت سے اگر یہ آس لگائی جائی کہ ان سے تحریک آزادی کشمیر کو تقویت ملے گی تو یہ بھی حقیقت سے نظریں چرانے والی بات ہے ۔انہوں نے کہا بدقسمتی یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں کشمیر کی اپنی کوئی سیاسی جماعت فعال نہیں اور پاکستان کی ساری بڑی جماعتیں وہاں پر موجود ہیں یہ کشمیریوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے، انہوں نے کہا آزاد کشمیر کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ووٹ سوچ سمجھ کر اسے دیں جس سے یہ امید لگائی جاسکے کہ یہ تحریک آزادی کشمیر کی تقویت کے لیے کام کرسکے گا کیونکہ ہماری منزل کل بھی کشمیر کی آزادی تھی اور آج بھی کشمیر کی آزادی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں