ہار کا خوف، سردار تنویر الیاس اخلاقیات بھول گئے، راجہ یاسین کے خلاف مغلظات ۔۔

اسلام آباد (ورلڈ ویوز اردو) ہار کا خوف یا کچھ اور، سردار تنویر الیاس کی راجہ یاسین کے خلاف اخلاق سے گری ہوئی گفتگو، وسطی کے عوام سراپا احتجاج
آزادکشمیر میں وزارت عظمی کے مبینہ امیدوار اور مبینہ طور پر پیسے کے بل بوتے پر وسطی باغ سے ٹکٹ لینے والے سردار تنویر الیاس ایل اے 15 وسطی باغ سے اپنی کمزور پوزیشن کو دیکھتے ہوئے شرفا کی پگڑیاں اچھالنے لگے۔ موصوف نے اپنے خطاب میں سابق وزیر حکومت آزادکشمیر ایل اے 15 وسطی باغ سے مسلم کانفرنس کے ٹکٹ ہولڈر جو اس وقت حلقے میں تگڑے امیدوار سمجھے جاتے ہیں کی کردار کشی کی اور اس طرح کی گفتگو فرمائی۔ ’’جو سیاسی شعور رکھتے ہیں ان کو پتا ہے کہ اس کے حصے میں ایک پاؤ یا آدھا سیرآئے گا لیکن دوسرے کی بھینس لگوانے میں اس کو گراں نہیں گزرتا”۔ “جو ہم نے ماضی میں تحریک انصاف کی لیڈرشپ نے مسلم کانفرنس کے ساتھ اتحاد کئے حوالے وہ ایک بڑا اچھا پروگرام تھا”۔ ان ستم ظریفوں نے ان ستم ضریفوں میں ایک دیوانہ وسطی میں ملتا ہے، وسطی کی بستی میں ملتا ہے وہ دیوانہ، مسلم کانفرنس کے سارے مرکزی قائدین کہیں چلے گئے اور وہ اب کسی برادری کے پیچھے پڑا ہے، لیکن اس دیوانے کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اس نے اپنے حصے کے لیے وہ نظریاتی جامعت جو سو سالہ تاریخ رکھتی ہے اس کے ساتھ کیا کیا ہے۔ ارے باولے پارلیمانی بورڈ نہیں ہے درخواستیں نہیں مانگی گئی تیرا دماغ کام کرتا ہے تو اپنا ٹکٹ کا اعلان کرتا ہے صرف سردار تنویر کو روکنے کے لیے‘‘
اپنا حلقہ چھوڑ کر وسطی باغ سے انتخابات میں آنے والے سردار تنویر الیاس خود دولت کے بل بوتے پر تحریک انصاف کا حصہ بنے، مبینہ طور پر سیاست، صحافت اور ووٹوں کی خریدوفروخت ان کا نظریہ ہے۔ جبکہ جس شخص پر الزامات اور زبان درازی کی اس شخص نے سیاسی کیریئر کا آغاز مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے کیا متعدد بار دیگر جماعتوں سے پیشکش ہوئی لیکن مسلم کانفرنس اور اپنے نظریے کو نہ چھوڑا۔ حلقے کی تمام برادریوں کی حامیت حاصل رہی جس کی بنا پر الیکشن جیتتے رہے۔ وزیر، مشیر اور اب مسلم کانفرنس کے پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں