آزادکشمیر میں اپنی سیاسی جماعت قائم کرنے والی پہلی خاتون۔

تحریر:
ملک محمد حسیب ایڈووکیٹ

سردار نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کا نام آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں کسی تعارف کا محتاج نہیں، 1996 میں طالبعلمی کے زمانے سے سیاست کا آغاز کیا پھرمرکزی سیاست میں جموں و کشمیر پیپلزپارٹی جس کے صدر سردار خالد ابراھیم تھے کے ساتھ بھرپور کردار ادا کیا ۔ سردار خالد ابراھیم کی سیاسی تربیت ان کے مرحوم والد غازی ملت سردار ابراہیم خان نے کی تھی جبکہ نبیلہ ارشاد صاحبہ کی سیاسی تربیت کا صحرا سردار خالد ابراہیم خان کے سر جاتا ہے ، جموں کشمیر پیپلز پارٹی کی مرکزی چیئر پرسن لائرز فورم رہیں مرکزی سیکرٹری جنرل جموں و کشمیر پیپلزپارٹی رہیں اور پھر جماعت کی سینئر وائس پریذیڈنٹ بھی رہیں۔

سردار خالد ابراھیم کی وفات کے بعد پارٹی میں غیر جمہوری فیصلوں پر اختلافات پیدا ہونے کی بناء پر انھیں پارٹی سےالگ ہونا پڑا اور انہوں نے سال 2019 میں اپنی الگ سیاسی پارٹی جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی بنائی۔
یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ نبیلہ ارشاد صاحبہ آزاد کشمیر کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی پارٹی کا قیام عمل میں لایا جو کہ ایک انتہائی مشکل کام ہے پارٹی بنانا اور اسے بہترین انداز میں چلانا ایک غیرمعمولی بات ہے۔
کہتے ہیں وکالت اور سیاست کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اسی وجہ سے نبیلہ ارشاد صاحبہ دونوں کو ساتھ لیکر چل رہی ہیں جیسی قابل سیاستدان ہی ویسی ہی قابل وکیل ہونے کے ساتھ بہترین خاتون خانہ بھی ہیں فیملی کو بھی وقت دیتی ہیں ان ساری چیزوں میں توازن رکھنا کافی مشکل کام ہے۔

سردار نبیلہ ارشاد صاحبہ 2016 میں جموں و کشمیر پیپلزپارٹی کی حلقہ ایل اے 23 سے ٹکٹ ہولڈر تھیں لیکن ان سے کیے گے وعدے وفا نہ ہو سکے جس کی وجہ سے وہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا
حصہ نہ بن سکی لیکن سردار خالد ابراہیم خان نے اسمبلی میں محصوص نشست پر اپنا ووٹ دے کر یہ تاریخ رقم کردی کہ دراصل انکے ووٹ کی اصل خقدار نبیلہ ارشاد ہی ہیں۔

2021 آزاد جموں و کشمیر میں الیکشنز کا سال ہے اور ۲۵جولائی میں انتخابات کا دن ہے اسی وجہ سے آجکل آزاد جموں و کشمیر کے قرب و جوار میں سیاسی جلسے جلوس کارنر میٹنگز کا سلسلہ جاری ہے تمام امیدوار اپنی اپنی الیکشن کیمپین میں مصروف نظر آتے ہیں عوام اور پارٹی کارکنان اپنے اپنے امیدواران کی کامیابی کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔

سردار نبیلہ ارشاد صاحبہ بھی اپنی پارٹی جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر ایل اے 23 سدھنوتی ایک سے انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور اپنی الیکشن کیمپین میں زور و شور سے مصروف ہیں۔ ایسی پڑھی لکھی باشعور مخلص نڈر اور دلیر خاتون کا انتخاب لڑنا ان کے حلقے کے عوام کی خوش نصیبی ہے اور حلقہ کے باشعور عوام کو یقینا ان کا ساتھ دے کر ایک بہترین قیادت کا انتخاب کرنا چاہیے۔ نبیلہ ارشاد صاحبہ کا ماضی سب کے سامنے ہے نہ کسی سے ڈرنے والی ہیں نہ جھکنے والی اور نہ بکنے والی۔ بااصول خاتون ہیں، جاندار آواز ہیں، اپنی ریاست اور عوام کے ساتھ وابستگی کی بہترین مثال مسئلہ کشمیر پر ہونے والی ہر کانفرنس اجلاس اور سیمینار کا حصہ ہوتی ہیں۔
اگر ہم نے ذاتی مصلحت پسند ناپسند علاقے قوم قبیلے اور برادری ازم یا کسی تعصب کی بنیاد پر اپنے قیمتی ووٹ کا فیصلہ کیا تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو گا اور ہم خود اپنی تباہی و بربادی کے ذمہ دار ہوں گے۔

آزاد کشمیر کے عوام اللہ کے فضل و کرم سے باشعور باخبر تعلیم یافتہ اور خوشحال ہیں اگر برادری ازم کے بجائے میرٹ پر پڑھے لکھے سنجیدہ اور باشعور لوگوں کا ساتھ دیں تو ریاستی خطے میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ریاست اور حلقے کے عوام کے پاس اپنی قسمت بدلنے کا یہی واحد طریقہ اور راستہ ہے کہ وہ ووٹ کی امانت اسے لوٹائیں جو ان کے ووٹ کا اہل ہو اور جسے وہ اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل سونپ سکیں۔ اگر اس وقت قوم بیدار نہ ہوئی تو ہمیشہ کی طرح سیاسی مداری آپ کو سبز باغ دکھا کر اور آپ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر آپ کو بیوقوف بنا کر ووٹ لے کر غائب ہو جائیں گے اور آپ دیکھتے رہ جائیں گے اور ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں