بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر کے سیاسی رہنماؤں کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات۔۔۔۔۔نتیجہ کیا ہے؟؟

علی حسنین نقوی

گزشتہ روز بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے نئی دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کی بھارت نواز سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس کی صدارت کی ۔
اجلاس میں آٹھ سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 14 سیاسی رہنماؤں بشمول چار سابق وزرائے کے علاوہ بھارت کے وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول، کشمیر میں تعینات بھارتی حکومت کے نمائندے، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور بھارتی وزیر اعظم کے دفتر میں تعینات وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے شرکت کی۔

اجلاس میں کشمیری سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے جانب سے پانچ(5) مطالبات پیش کیے گئے ۔
ریاست کی بحالی
اسمبلی انتخابات کا انعقاد
زمین اور نوکریوں کو آئینی تحفظ
کشمیری پنڈتوں کی کشمیر میں آبادکاری
سیاسی قیدیوں کی رہائی ۔

اجلاس سے قبل بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو لیکر جو ایک بڑی پیش رفت کی خبریں گردش کرتی ہیں، اجلاس ان تمام خبروں اور توقعات کے برعکس نکلا، کشمیری سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے پیش کیے گئے پانچ مطالبات میں سے کسی ایک کو بھی بھارت سرکار کی جانب سے قبول نہ کیا گیا۔

اجلاس سے قبل ایک تاثر یہ بھی تھا کہ کشمیری رہنماؤں کی جانب سے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے سے مذاکرات ،تجارت کی بحالی جیسے معاملے پر بات ہوگی تو تفصیلات کے مطابق تین گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں کشمیری رہنماؤں نے پاکستان اور مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے حوالے سے ذکر تک نہیں کیا۔

اجلاس میں بھارت سرکار نے کشمیری سیاسی رہنماؤں کے تمام تر مطالبات کو یہ کہہ کر پس پشت ڈال دیا کہ آپ اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے عمل میں حصہ لیں پھر ہم وہاں انتخابات ہونگے اسکے بعد دیگر مطالبات پر بات چیت ہوگی۔

اجلاس میں کشمیری سیاسی رہنماؤں کی اکثریت نے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کی منسوخی کے حوالے سے اس بات پراتفاق کیا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کے اجلاس کا کوئی ایجنڈا طے نہیں کیا گیا تھا، ایک کشمیری سیاسی رہنما نے اس معاملہ پر جب داخلہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ میٹنگ کا ایجنڈا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کسی بھی معاملے یا موضوع پر بات کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پانچ اگست 2019 کے ہندوستانی اقدامات کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ کشمیر کے بھارت نواز سیاسی رہنماؤں بھارتی وزیراعظم نے باقاعدہ اجلاس کے لیے مدعو کیا تھا۔اجلاس میں جن سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی ان میں نیشنل کانفرنس سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ، پی ڈی پی سے محبوبہ مفتی، کانگریس سے غلام نبی آزاد، تارا چند اور غلام احمد میر، پیپلز کانفرنس سے سجاد غنی لون اور مظفر حسین بیگ، اپنی پارٹی سے الطاف بخاری، بی جے پی سے رویندر رینہ، نرمل سنگھ اور کویندر گپتا، سی پی آئی (ایم) سے محمد یوسف تاریگامی اور نیشنل پنتھرس پارٹی سے پروفیسر بھیم سنگھ شامل تھے۔

اجلاس کے حوالے صوبہ کشمیر میں لوگوں کا ردعمل ملا جلا نظر آیا، لوگوں کا کہنا تھا کہ بھارت سرکار سے خیر کی امید کبھی نہیں کی جاسکتی، اجلاس میں شریک سیاسی رہنما ذاتی فائدے کے عوام کا سودا کرنے سے گریز نہیں کرتے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی سے قبل اجلاس بے بنیاد ہیں، بھارت سرکار ریاست بحالی کا جھانسہ دیکر کشمیر میں انتخابات اور اپنے کارندوں کو نوازنے کے لیے راہیں ہموار کررہی ہے۔

دوسری جانب صوبہ جموں میں ہندوؤں تنظیموں نے گپکار رہنماؤں کی اجلاس میں شرکت پر بھارت سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا اور محبوبہ مفتی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا۔

جموں و کشمیر پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کے مطابق گزشتہ روز کا اجلاس مودی سرکار پر سیاسی پریشر کا نتیجہ تھا، مودی سرکار جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت بحالی کا ارادہ رکھتی ہے نہ جموں وکشمیر کی عوام کے زمینی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے کسی مطالبے کو مانے گی ۔اجلاس جموں کشمیر میں کسی بڑے مسئلے میں الجھے بغیرنانتخابی حلقوں کی از سر نو حد بندی اور انتخابات کی راہیں ہموار کرنے کی ایک کوشش ہے۔

جنبش قلم

اپنا تبصرہ بھیجیں