آزادی کا بیس کیمپ اور سیاسی شعور کا جنازہ

تحریر: علی حسنین نقوی /جنبش قلم

کہتے ہیں جسمانی غلامی سے خطرناک ذہنی غلامی ہوتی ہے اور جب کسی قوم پر ذہنی غلامی کا ایک طویل عرصہ گزر جائے تو وہ اس غلامی سے اس حد تک مانوس ہوجاتی ہے کہ وہ عروج غلامی کو آزادی سمجھنے لگتی ہے۔
جسمانی غلامی کا شکار قومیں فکر اور سوچ میں آزاد ہوتی ہیں اور وہ طویل یا مختصر جدوجہد کے بعد آزادی کی نعمت حاصل کرلیتی ہیں لیکن ذہنی غلامی کا شکار قومیں کبھی آزادی حاصل نہیں کرسکتی کیونکہ وہ اپنی فکر اور سوچ میں آزاد نہیں ہوتی اور نہ ہی حالات اور واقعات کو اپنی نظر سے دیکھتی ہیں ،انکے حکمران انہیں جس طرف چاہتے ہیں جو راستہ انہیں دکھلاتے ہیں وہ اسی راستے پر چلنا شروع کردیتی ہیں۔

منقسم ریاست جموں وکشمیر کے دو حصے غلامی کی دونوں اقسام کا شکار ہیں، بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جسمانی غلامی کا شکار ایک قوم آباد ہے جبکہ پاکستان کے زیرانتظام آزادی کے بیس کیمپ (آزاد کشمیر) میں ذہنی غلاموں کا ایک بے ہنگم ہجوم ہے جسے جس سمت دھکیلا جاتا ہے اسی سمت چلنا شروع ہوجاتا ہے ۔

بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں غلامی سے آزادی کی جدوجہد ایک طویل عرصے سے جاری ہے لیکن اگر بات کی جائے آزادی کے بیس (آزادکشمیر) کی تو یہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ ذہنی غلامی پختگی اختیار کرتی جارہی ہے۔آزادی کا بیس کیمپ جو اقتدار کا ریس کیمپ بن چکا ہے اس پر حکومت کرنے والے نام نہاد ذہنی غلام لیڈران آزاد کشمیر میں بسنے والے ذہنی غلام ہجوم کو ایک عرصہ سے مختلف سمتوں میں دھکیل دیتے ہیں اور یہ ہجوم اسی سمت چلنا شروع ہوجاتا ہے ۔

المیہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں بسنے والے اس ہجوم کا سیاسی شعور بھی سلب ہوچکا ہے، حکمران مفاد پرستی، اور اقتدار پرستی کے لیے جماعتیں بدلتے ہیں اور اپنے اپنے پیروکار ہجوم کے ٹکروں کو ساتھ لے جاتے ہیں ۔
1985سے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات باقاعدگی سے ہورہے ہیں ،بظاہر تو سیاسی جماعتیں اپنے نامزد امیدواروں کے ذریعہ انتخابات میں حصہ لیتی ہیں، اپنے سیاسی نظریات کا پرچار کرتی ہیں، انتخابی منشور بتاتی ہیں لیکن حقیقت میں ان سیاسی جماعتوں کے نہ اپنے نظریات ہیں اور نہ ہی کوئی منشور ہے۔

آزاد کشمیر کے الیکشن کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم سے لے کر حکومت بنانے اور پھر حکومت چلانے تک کے فیصلے آزاد کشمیر کی بجائے لاڑکانہ، رائےونڈ، بنی گالہ اور اسلام آباد میں ہوتے ہیں یہاں تک کہ وزارت عظمیٰ سے لیکراہم عہدوں پر تقرریوں کے فیصلے بھی آزاد کشمیر میں نہیں ہوتے ۔

آزادکشمیر کی لاشعور سیاست کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وفاق میں جس جماعت کی حکومت ہوتی ہے اسی جماعت کے ذہنی غلام آزاد کشمیر کے لیڈران آزادکشمیر میں برسراقتدار آتے ہیں ۔
آزادکشمیر میں اس وقت الیکشن کا موسم اپنے جوبن پر ہے اور آزاد کشمیر کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن اپنی مدت پوری کرچکی ہے، پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور آزادکشمیر میں تحریک انصاف نومولود جماعت سمجھتی جاتی تھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو آزاد کشمیر میں مضبوط جماعتیں سمجھا جاتا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ اس بار وفاق کی ہوا آزادکشمیر کی طرف نہیں جائے گی اور نام نہاد انتخابی دنگل پہلے سے مختلف ہوگا لیکن الیکشن کا وقت جوں ہی قریب آیا اور اسمبلی ممبران نے اپنی آخری تنخواہ وصول کی تو تحریک انصاف جسے نومولود جماعت کہا جاتا تھا اس نے اپنی پوزیشن مستحکم کرنا شروع کردی کئیں وزرا ن لیگ سے وفاداری کا حلف توڑ کر تحریک انصاف کے ہوگئے اور جو نہیں جانا چاہتے انہیں بلیک میل کرکے تحریک انصاف کا حصہ بننے پر مجبور کیا جارہا کیونکہ یہ پہلے سے طے ہے کہ آزادکشمیر میں اقتدار تحریک انصاف کو دینا ہے اس لیے ذہنی غلام ہجوم کے ذہنی غلام لیڈران کو خرید کر یا بلیک میل کرکے تحریک انصاف کا حصہ بنانا بھی طے تھا سو اس پر عمل شروع ہوچکا، خیر یہ تو لمبی کہانی ہے مسلم لیگ ن سے تحریک انصاف میں جانے والوں کی کیونکہ یہ کہانی مسلم کانفرنس سے شروع ہوتی ہے مسلم کانفرنس زوال کا شکار ہوئی تو اسے توڑ کر مسلم لیگ ن بنائی گئی اور مختلف جماعتوں سے موسمی پرندے لاکر تحریک انصاف کو آزادکشمیر کی بھی حکومتی جماعت بنانے کی کوششیں اپنے مراحل میں ہیں ۔
ہمارا موضوع سیاسی لاشعور ذہنی غلام ہجوم تھا جو الیکشن کے اس موسم میں ذہنی غلامی کا واضح ثبوت دے رہا ہے، وفاداریاں بدل رہی، بک رہی، موسمی پرندے اڑان بھر چکے اور کچھ اڑان بھرنے کو تیار ہیں، آنے پانچ سال تک ایک جماعت سے یہ مفادات لیکر اگلی باری کہیں اور لگائیں گے اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا اور اس سب کی ذمہ دار آزادی کے بیس کیمپ کی ذہنی غلام، مفاد پرست، اقتدار پرست نام نہاد قیادت ہے۔
سات دہائیوں تک لیلائے اقتدار کے گیسو سنوارنے والی ،اقتدار کی زلف گرہ گیر کی اسیر بیس کیمپ کی قیادت نے اب تک ریاستی عوام کے لیے کیا کیا ہے؟
بیس کیمپ کی قیادت سات دہائیوں میں بیس کیمپ میں بسنے والی عوام کی تقدیر تو سنواز نہ سکی، کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے نئی نسل تو تیار نہ کرسکی البتہ تحریک آزادی کشمیر کے نام بیس کیمپ میں چند سیاسی خاندان قابض ضرور ہوئے پھر وراثتی سیاست کو عروج ملا، برادری ازم اور ذاتی مفادات کو فروغ دیا گیا، تحریک آزادی کشمیر کے نام پر بھاری وفود کے ہمراہ بیرون ملک کے دورے ہوئے، کشمیر فنڈز کے نام پر اکاؤنٹس بھرے گے، ترقیاتی فنڈز کے ذریعے آزاد کشمیر میں وہ ترقی تو نہ ہوسکی جو ہونی چاہیے تھی ہاں مگر کچے مکانوں اور کیمپوں میں رہنے والے لیڈروں، سیاستدانوں نے پاکستان کے مہنگے ترین علاقوں میں کوٹھیاں ضرور بنالی، دیکھنے کے قابل وزیراعظم ہاؤس اور کشمیر ہاؤس تعمیر ہوگے، نیلم اور چکار کے خوبصورت گیسٹ ہاؤس بنے، وائٹ ہاؤس نے عوام میں مقبولیت حاصل کی، سیاسی خاندانوں نے بیرون ملک جائیدادیں بنالی اور اپنے اپنے کاروبار کو وسعت دے دی ۔باپ کے بعد بیٹا وزارت کا حقدار ٹھہرا، اور بیٹے کے بعد اسکی اولاد، خاندان میں کوئی بےروزگار نہیں، اور زندگی گلزار نظر آنے لگی، مگر دوسری طرف کبھی کوئی سحرش انصاف کے لیے روتی رہی اور کبھی کسی سابق وزیراعظم کے حلقے میں ہسپتال میں ناکافی عملہ اور سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے کسی معصوم کی ماں دم توڑ جاتی، کبھی شاہراؤں کی خستہ حالت کی وجہ سے روڈ ایکسیڈنٹ سے پورا پورا خاندان داعی اجل کو لبیک کہہ جاتا، تو کبھی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ملازمین کو ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جاتا رہا، تو کبھی گڈ گورننس کے نام ہر بے بس عوام کے جذبات سے کھیلا جاتا رہا، کبھی بھٹو کو بیس کیمپ میں زندہ کیا جاتا رہا تو کبھی نواز شریف کو آقا بیس کیمپ کا مسیحا بنانے کی کوشش رہی اور خان کو مسیحا بنایا جارہا۔

لگژری گاڑیوں میں گھومنے والے، نرم بستر پر سونے والے، اے سی رومز میں بیٹھ کر کشمیر کی بات کرنے والے قوم کو ہجوم اور ہجوم کو ذہنی غلام بنانے والوں سے سات دہائیوں کا حساب کون لے گا؟ سرینگر کے عقوبت خانوں میں کشمیریوں کی نسلیں سڑ گئی اور آپ جائیدادیں بنانے اور اقتدار کی ریس میں بے لگام گھوڑے کی طرح دوڑتے رہے، آپ بیس کیمپ کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو کشمیر پر ہونے والی پیش رفت، اقوام متحدہ کی قراردادوں، اور مسئلہ کشمیر کی حقیقت بارے نہیں بتا سکے تو بیرون ملک کے دورے، سرکاری اخراجات،بادشاہوں والی زندگی یہاں تک آنے والی نسلیں تک سنوار لی لیکن آزاد کشمیر کے باسیوں کو تباہ کردیا۔
5 اگست کے ہندوستانی اقدامات کے بعد آزاد کشمیر کے سٹیٹس کو لیکر مختلف متنازعہ باتیں سامنے آتی ہیں، کبھی مہاجرین جموں و کشمیر کی سندھ آباد کاری اور کبھی آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی باتیں سامنے آتی ہیں لیکن یقین مانیں آنے والے وقت میں جب تحریک انصاف کے انصاف کے ساتھ کسی دوسری جماعت کی کٹھپتلیاں آزاد کشمیر میں مسند اقتدار پر ہونگی تو آزادکشمیر اگر ختم بھی ہوگیا تو ان کٹھپتلیاں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگے گی اور یہ ذہنی غلام ہجوم انہی کے پیچھے چلتا رہے گا کیونکہ ذہنی غلامی اور فکری بالیدگی سلب کرلیتی ہے اور سیاسی شعور کا جنازہ نکل جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں