فیصلہ۔۔۔نعرے۔۔۔کتاب/ابوبکر راٹھور

“فیصلہ”
نیرنگ خیال محمد حسین آزاد کی نثر کا شاہکار ہے ۔ زبان و بیان کے ساتھ ساتھ اس میں شامل موضوعات بھی منفرد ہیں ۔ نیرنگ خیال کا ایک مضمون “انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا” میرا پسندیدہ مضمون ہے ۔ کئی بار یہ مضمون پڑھا ہے اور ہر مرتبہ آزاد کے اسلوب کو بڑھ کر پایا ۔ ہر مرتبہ فکر و بیان کا ایک نیا در وا ہوا ۔ واقعی انسان کبھی خوش نہیں ہوتا ۔ عرصہ ہوا دسویں جماعت کا فزکس کا پرچہ تھا اور پرچے کے بعد ایک متوسط درجے کا طالب علم بھی خوش تھا ۔ خوشی کی دو وجوہات تھیں ۔ ایک یہ کہ پرچہ آسان تھا اور دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ آسان یا مشکل ایک طرف رہ گئے ، کم از کم ایک پرچہ تو کم ہوا تھا ۔ اس نے اپنی خوشی کا راستہ تلاش کر لیا تھا ۔ کم از کم اگلے دو سے تین ماہ تک کوئی غم نہ تھا لیکن اس کے برعکس کلاس کا سب سے لائق طالب علم اداس تھا اور اس کا کہنا تھا کہ اہم سوالات میں سے ایک بھی نہیں آیا ۔ سب آسان آسان سوالات تھے اور میری ان کی تیاری نہیں تھی ۔ میں نے مشکل سوالات تیار کیے ہوئے تھے ۔ کیا فضول امتحان تھا اور کیا فضول دن ہے ۔ ایک ہی چھت کے نیچے اور ایک جیسی صورت حال میں سے گزرنے والے مختلف کیفیات میں جی رہے تھے ۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہمارے آس پاس بھٹک رہی ہوتی ہیں اور ہم بڑی خوشیوں کے غموں کا بوجھ اٹھائے زندگی بھر سسکتے رہتے ہیں ۔ ہم ایک ایک پیسا جمع کرتے ہوئے روپیا اور پھر سو کا نوٹ کیوں نہیں بناتے ؟ ۔ ہم سو سو کے نوٹ ملا کر لاکھ بنانے کی خواہش میں کیوں تڑپتے رہتے ہیں ؟ ۔ اندر ہی اندر خود کو کھاتے رہتے ہیں ۔ دکھ سکھ کہیں باہر کی دنیا میں نہیں پلتے یا مرتے ، یہ ہمارے اندر ہی اندر ہیں ۔ بس ہم نے سوچنا ہے کہ ہم نے خوشی کے پودے کو پانی دینا ہے یا اداسی کی ضرر رساں جڑی کو اکھاڑ پھینکنا ہے ۔ ہم نے خوش رہنا ہے یا اپنی کل کی خوشی کو تلاش کرتے کرتے اپنے آج کا لطف برباد کرنا ہے ۔ ہم نے کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے یہ فیصلہ ہمارا اپنا ہے ۔ محمد حسین آزاد کے مذکورہ مضمون کی ابتدائی سطریں ہیں کہ “سقراط حکیم نے کیا خوب لطیفہ کہا ہے کہ اگر تمام اہل دنیاکی مصیبتیں ایک جگہ لاکر ڈھیر کر دیں اور پھر سب کو برابر بانٹ دیں تو جو لوگ اپنے تئیں بدنصیب سمجھ رہے ہیں وہ اس تقسیم کو مصیبت اور پہلی مصیبت کو غنیمت سمجھیں گے” ۔

“نعرے”
ہر ڈھلتی شام الیکشن کو اور قریب لا رہی ہے ۔ سیاسی جنازے ادا ہو رہے ہیں ۔ چار سال پہلے مرے ہوئے “پیاروں” کی فاتحہ پڑھی جا رہی ہے اور مرحوم کےدرجات میں بلندی کی دعا ہو رہی ہے۔ دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ ناراض دوستوں ، ووٹروں اور عزیز و اقارب کو منانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ کہیں متوالے ہیں تو کہیں جیالے ۔ کہیں ایک نظریے کے قائل فلگ شگاف نعروں میں مصروف ہیں تو کہیں مخالف نظریاتی پیروکار گلے کی رگیں پھلائے جمہوریت کی حمایت میں مصروف ہیں ۔ شہر ہو یا گاؤں ، مسجد ہو یا بازار ، ہر طرف بس نعرے ہی نعرے ۔ کارنر میٹنگز ، استقبالیہ ریلی اور جلسے ، ہر جگہ بس نعرے ہی نعرے ۔ دکھ ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور قائدین کے نعرے بلند کرتے کرتے ہم اپنا آپ بھول جاتے ہیں ۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ نعرے مخالف جماعت سے زیادہ ہمارے خلاف ہیں ۔ان کے شور میں ہم اپنا مقصد اور اپنی زندگی کو بھلا دیتے ہیں ۔ کیا کڑکتی دھوپ میں ، گلے کی پھولی ہوئی رگوں کی مدد سے زوردار نعرے لگاتے ہوئے ہم نے کبھی سوچا کہ ہم تو لڑنے مرنے اور ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر تیار ہیں لیکن یہ ہمارے قائدین ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھےقہقہے لگاتے ہوئے لیموں پانی کے مزے کیسے لے سکتے ہیں ؟ ۔ کسی کے لیے مرنے سے پہلے ایک مرتبہ اپنے لیے جینے کا سوچیں ۔ سوچیں کہ آپ کی ذات کے لیے آپ سے بڑھ کر ہمدرد کوئی سیاستدان نہیں ۔  سوچیں ایک لمحے کے لیے کہ آپ کی اپنی رائے کیا ہے ؟ ۔

“کتاب”
کتاب بہترین ساتھی ہے ۔ کتاب ان مول خزانہ ہے ۔ کتاب حکمت کا دریا ہے ۔ کتاب نئی دنیا ہے ۔ یہ سب فرمودات بچپن میں پڑھتے اور سنتے آئے اور اب  تو عرصہ ہوا کہ ایسی کسی عبارت کو کہیں لکھا ہوا نہیں دیکھا ۔ اب گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ کتاب کا ایک نیا تعارف سامنے آ گیا ہے اور یہ تعارف بھی صرف نصاب کی حد تک ہے ۔ کتاب نمبروں کا خزانہ ہے ۔ کتاب اچھے گریڈز کی ضمانت ہے ۔ کتاب امتحان میں کامیابی کی سیڑھی ہے ۔ بھلا دور تھا کہ یونیورسٹی کالجز میں “ریڈنگ سرکل” ہوتے تھے ۔ نئی کتاب پڑھی جاتی تھی اور مباحثے ہوتے تھے ۔ ہر اشاعتی ادارہ کچھ عرصے بعد نئی فہرست شائع کرتا تھا ۔ آنے والی مطبوعات کی خبر رکھی جاتی تھی ۔ لائیبریری جانے اور وقت گزارنے کی روایت تھی ۔ نئی کتاب اور کچی مٹی پر برستی بوندوں میں سے بہترین مہک کا فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا ۔ اب بس یہ سلسلے محدود ہو گئے ہیں ۔ کون ذمہ دار یے یا نہیں اس پر پھر کبھی بات ہو گی ۔ ہمیں انفرادی سطح پر کتب بینی کی روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنی ہے اور آپ بس ایک کتاب ہر مہینے خریدنے کا عہد کر لیں اور اپنے بچوں کو بھی اس طرف راغب کریں ۔ ہماری آیندہ نسلیں صرف سانسیں نہیں لیں گی بلکہ زندہ بھی رہیں گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں