مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری صدیق نے عباسپور سے آزاد امیدوار الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ۔

عباسپور(سائرہ چغتائی)مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری صدیق ایڈووکیٹ نے آج ریسٹ ہاوس میں ایک پرہجوم ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں حلقہ نمبر 1 ایل اے 18پونچھ سے آزادامیدوارکی حثیت سے الیکشن لڑنے کااعلان کرتاہوں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری صدیق قمرایڈووکیٹ نے کہاکہ میں سکول،کالج،یونیورسٹی لائف سے ہی سیاسی کارکن رہا ہوں پہلے میں ایم ایس ایف میں تھا 1987 سے لیکر ایک متحرک سیاست کاکرداراداکیا۔آزادکشمیر میں جب مسلم لیگ ن کاقیام عمل میں آیا تومیں نے اپنا بنیادی کرداراداکیا اوراپنے ضلع کامنتخب سیکرٹری جنرل ہوں۔ 2001,2006,2011,2016 میں بھی الیکشن لڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا مگرمیں نے ہمیشہ جماعتی فیصلوں کی پاسداری کی 2001 ء میں مسلم کانفرنس کا ٹکٹ چوہدری یاسین گلشن کو ملاتو میں واحدآدمی انکے ساتھ ٹکٹ کے حصول کیلئے گیا 2006 میں ٹکٹ نہیں ملاتو انہوں نے ایم سی کو چھوڑدیا میں نے کھبی یاسین گلشن کے الیکشن کو کھبی کسی کاالیکشن نہیں سمجھا بلکہ اپنا ذاتی الیکشن سمجھ کران کے ساتھ کھڑارہا اورنہ صرف کھڑارہا بلکہ پیرا بھی دیتا رہا جس کارذلٹ یہ ملا کہ ہم سیاسی کارکنوں کونظرانداز کیاگیا آج دن تک کوئی بھی الیکشن چوہدری یاسین گلشن نے اپنے پاؤں پرکھڑے ہوکر نہیں لڑابلکہ سیاسی کارکنوں،نوجوانوں کی ہمت پرآج دن تک وہ جیت کرآتے رہے جن نوجوانوں کو انہوں نے پانچ سال میں نظراندازکیا یاسین گلشن کو علم ہی نہیں ہوتا تھا کہ الیکشن کمپین کس طرح چلائی جاتی ہے کوئی پروگرام ہوتا وزیراعظم آزادکشمیر کا دورہ یاکسی صدر کادورہ ہوتا ان کواوران کے بیٹوں کو خبرہی نہیں ہوتی تھی کہ کس طرح سے ہم ان کے جلسے جلوسوں کوکامیاب کرواتے رہے مجھے ان کے بیٹے اوربھائی یہ کہہ کراستعمال کرتے رہے کہ حلقہ نمبر1اورمسلم لیگ ن کی سیاست کوآپ کی ضرورت ہے اورمیں ایک مضبوط چٹان کی طرح ان کے ساتھ اپنے ساتھیوں کولیکر کھڑارہا اور جب کام کی بات کی جاتی تب آئیں بائیں شاہیں کہہ کرٹال مٹول کردیا جاتا آج دن تک آزادکشمیر اسمبلی میں اپنے حلقہ کے مسائل کونہیں اٹھاسکے ایک عباسپور ہسپتال جس کی عمارت عرصہ بیس سے بنی اس کو یہ فنگشنل نہیں کرواسکے کوئی ٹھیکہ ہوتا وہ اپنے بھائی کودیا جاتا ان پانچ سالوں میں کوئی مسلم لیگ ن کا اجلاس منعقد نہیں ہوا یاسین گلشن نے کھبی گوارہ نہیں کیا بلکہ اپنے ووٹروں،سپورٹروں کو مایوس کیا مجھے ندامت اور شرمندگی ہوتی ہے جب میں ان لوگوں سے ملتا ہوں جہنوں نے ان کو ووٹ دیئے ان کی سپورٹ کی اوران کے کام تک نہیں کرسکے میں نے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کو آگاہ بھی کیا کہ آپ ہمارے پسندیدہ وزیراعظم ہیں ٹکٹ کافیصلہ سوچ سمجھ کرکیجئے گا انہوں نے کہاکہ وہ سٹی ایم ایل ہیں میں نے جواب دیا کہ وہ سٹی ایم ایل نہیں Sleeping MLA ہیں جوسوئے رہتے ہیں عباسپور کے اندرلوگوں کی تذلیل کرنے میں چوہدری یاسین گلشن نے کوئی کسرنہیں چھوڑی اگر مجھے ایک ووٹ بھی ملا میں پیچھے نہیں ہٹونگا اگر ان نوجوانون کی وجہ سے میں دوسوووٹ لونگا تو پندرہ سوووٹ خراب کرونگا لیکن ان کے حقوق پرکسی کو ڈاکہ نہیں ڈالنے دونگا۔لہذا میری وزیراعظم فاروق حیدرسے درخواست ہے کہ وہ اس ٹکٹ کے فیصلے پرنظرثانی کریں اور اپنا یہ فیصلہ واپس لیں اگروہ ایسا نہیں کرتے تو میں حلقہ نمبر1 سے آزادامیدوارکی حثیت سے الیکشن لڑنے کااعلان کرتاہوں میں کسی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا جن کے خلاف کھڑاہوں عباسپور کا حلقہ پرامن ہے دھاندلی کی سیاست کے سخت خلاف ہوں قانون کے دائرے میں ر ہ کر الیکشن لڑینگے اور آئندہ کالائحہ عمل میٹنگ کاشیڈول جاری کیاجائیگا اورپوری قوت سے الیکشن لڑینگے اس موقع پر چوہدری ممتازاحمد کیانی ایڈووکیٹ نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی پریس کانفرنس میں میاں حلیم ایڈووکیٹ،راجہ ممتازحسین کیانی،ڈی ایچ او (ر) چوہدری عبدالقدوس،چوہدری ساجدایوب،سردارسرورخان،نورالدین ضیاء،چوہدری فاروق،چوہدری ایوب،حوالدار عبدالعزیز،ملک مقبول محمد حسین،چوہدری محمد دین (ر) مدرس،،خان محمدماگرے،سمیت دیگر موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں