جیت گئی سیاست ،ہار گئی انسانیت/ابوبکر راٹھور

حیات انسانی کے ارتقاء میں اہمیت نظریات و عقائد کی رہی ہے ۔ سیاست ، معاشرت ، معیشت ہو یا مذہب ، لازم ہے کہ نظریات کی بنیاد پر انسانی ارتقاء کو پرکھا جائے اور رائے قائم کی جائے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ نظریات و حیات کی اس جنگ میں زیادہ تر جیت مفاد کی رہی ہے بلکہ نظریاتی گروہ کی فہرست میں ایک گروہ ایسا بھی ہے کہ جس کا نظریہ ہی مفاد پرستی رہا ہے ۔

یہ مفاد پرست گروہ کسی بھی موقع پر اور کسی بھی حالت میں اپنے عقیدے اور نظریے کے خلاف نہیں جاتا ۔ ان کے لیے اہم ترین اور لازم ترین عمل اپنا مفاد ہے ۔ مفاد پرست قبیلے کا مشاہدہ کیا جائے تو جان جائیں گے کہ ان کے نزدیک نظریات و عقائد افکار و خیالات کا وہ ڈھیر ہیں کہ جن کی اہمیت صرف اتنی ہے کہ سرد طویل برفانی راتوں میں انھیں آگ لگائی جائے اور جسم کو حرارت پہنچائی جائے ۔ ان کے لیے نظریات و عقائد صرف اور صرف دل و دماغ کو گرم رکھنے کے لیے ہونے والی بحث کا ایندھن ہیں وگرنہ ان کی کوئی حیثیت یا اوقات نہیں ۔ اگر حیثیت و وقعت کسی شے کا نام ہے تو وہ صرف اور صرف ان کا مفاد ہے اور اس مفاد کے حصول کی خاطر وہ کسی بھی حد سے گزرنے سے گریز نہیں کریں گے ۔

کائنات میں قیمتی ترین حیثیت انسانی جان کی ہے ۔ انسان کے احترام اور وقار کے عوض کسی بھی مادی شے کو قربان کیا جا سکتا اور یاد رہے کہ یہ نظریہ ان لوگوں کا ہو گا کہ جن کے نزدیک انسان صرف کسی ‘شے’ کا نام نہیں ہے ۔ جب کہ دوسری طرف مفاد پرست قبیلے کو دیکھا جائے تو ان کے لیے انسان اور انسانیت کی بھی وہی اہمیت ہے جیسی کہ دیگر نظریات زندگی کی ۔ مفاد پرستوں کے نزدیک اپنے مفاد کے لیے سماج ، مذہب اور معیشت کے ساتھ ساتھ انسان یا انسانیت کی قربانی کوئی بڑے معنی نہیں رکھتا کیوں کہ مفاد اہم تھا ، اہم ہے اور اہم ریے گا ۔ تاریخ اقوام عالم گواہ ہے کہ جب بھی مشکل وقت آیا اور مشکل اور بڑے فیصلے لیے گئے ، مفاد پرست قبیلے نے ہمیشہ اپنے مفاد ہی کا سوچا ۔ سماج اور انسان کی فلاح اور بھلائی کبھی ان کے منشور میں نہیں رہا ۔ سیاست کا کھیل اور اس کا میدان وہ مقامات ہیں جو مفاد پرست قبیلے کو ہمیشہ سے محبوب رہے ہیں ۔

تاریخ عالم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی جان کی قربانی سماج میں اجتماعی مفاد اور مثبت نتیجے کا مؤجب رہی ہے لیکن ضلع حویلی آزاد کشمیر کا المیہ ہے کہ یہاں پر ہمیشہ انسانی جانوں کا سودا بہت سستا ہوا ۔ اپنے مفاد اور نتائج کے حصول کے لیے انسانی جان کی قربانی کوئی بڑی قربانی نہیں سمجھی گئی ۔ مفاد پرست ٹولے نے ہمیشہ مفاد کی سیاست کی ۔ ہمیشہ اپنی کامیابی اور ناکامی کا سوچا ۔ ہمیشہ اپنی منزل کو ذہن میں رکھا اور اس کے لیے اقدامات کیے ۔ حالیہ سانحے کا المیہ  بھی کچھ جدا نہیں ہے ۔ اس مرتبہ بھی سیاسی جماعتوں اور مفاد پرستوں نے اس موقع  کو ضائع نہیں جانے دیا ۔

ماں اور بیٹی قتل ہوئیں ۔ لاشیں ابھی پھندے پر لٹک رہی تھیں اور مقتولین کی آنکھوں میں ابھی بے جرم مارے جانے کی نمی باقی تھی ۔ سر سے چادریں ڈھلکی نہ تھیں ۔ ابھی تو بچھڑنے کا دکھ پھیلا بھی نہ تھا ۔ ابھی دل تھا کہ اس ظلم کو قبول بھی کرنے پر آمادہ نہ ہوا تھا لیکن دوسری طرف مفاد پرست گروہ تھا کہ آن کی آن میں سب کچھ طے کر چکا تھا ۔ کیا کرنا ہے ؟ کیسے کرنا ہے اور کب کرنا ہے ؟ ۔ سب طے ہو چکا تھا ۔ قتل کی اطلاع سے لے کر جنازے کی ادائیگی اور میتوں کے دفنانے تک ہر قدم پر ایک نظم دکھائی دیا ۔ اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اس گروہ کا تعلق کسی ایک جماعت سے نہ تھا ۔ یہاں سب نے مل کر انسان اور انسانیت کی توہین کی ۔ کسی نے قاتل کو للکارا تو اپنے مفاد کی خاطر اور پھر قاتل کو چھپایا بھی تو اس میں بھی مفاد ہی تھا ۔ جنازے اٹھے نہیں تھے ابھی کہ ایک سیاسی جماعت کے امیدوار کو نجات دہندہ قرار دیتے ہوئے نعرے بازی ، دوسرے کو حمایتی امیدوار اور تیسرے کو شریک غم قراد دیا جانے لگا ۔ سوگ کا اعلان کیا گیا اور تمام سیاسی مصروفیات کو ترک کرنے کا اعلان کیا گیا جو کہ صرف اعلان ہی رہا کیوں کہ مفاد پرست ٹولا جانتا کہ اگر آرام سے بیٹھ گئے اور ہونے والے قتل کو سیاست میں نہ لایا گیا تو موقع ضائع ہو جائے گا اور ہم جان چکے ہیں کہ مفاد پرست سب کچھ قربان کر سکتا ہے لیکن موقع نہیں ۔

مقتولین کو سپرد خاک کیا گیا اور اگلے ہی روز ڈھول باجوں کے ساتھ سیاسی جماعت کا جلوس اور جلسہ ، جلسے میں قاتلوں کی گرفتاری کے لیے بلند بانگ دعوے ، سیاسی نعرے بازے اور ووٹوں کے جوڑ توڑ کا دھندا عروج پر رہا ۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو ٹکٹ کے حصول کے لیے مظلوموں کے دکھوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے دوسرے امیدوار اسلام آباد اور حویلی کے درمیان شٹل کاک بنے رہے ۔ ٹکٹ کے اعلان پر ہونے والے جشن اور آتشبازی سے کسی طور یہ ثابت نہیں ہوتا تھا کہ دو دن قبل یہ علاقہ ایسے کسی سانحے سے گزرا ہے کہ جس کے ذکر سے زمین و آسمان بھی لرزتے ہیں ۔ ٹکٹ کی دوڑ میں شامل ، رکاوٹوں کو کھڑے کرنے والے اور ناکام ہونے والے تمام سیاسی قائدین دو دن تک کسی بھی قانونی پیشرفت سے بے خبر رہے ۔

کاش کہ ایسا ہو جاتا کہ تمام سیاسی قائدین اور ان کے جیالے اور متوالے آپس کی نفرت اور سیاست کو بھلا کر ایک ہو جاتے ۔ سیاست کے دائرے سے باہر نکلتے اور اگلا ایک ہفتہ ریاستی ذمہ داروں سے ملاقات اور بھاگ دوڑ سے قاتلوں کی تلاش میں جلد از جلد تعاون کی کوششوں میں گزارتے ۔ مل کر اس بات کا عہد کرتے کہ ہم سیاست کو انسانیت پر حاوی نہیں ہونے دیں گے ، ہم قاتلوں کی نشاندھی اور قرار واقعی سزا کے لیے بلا تعصب قبیلہ اور جماعت ایک رہیں گے ۔ ہم سب کسی مفاد پرست نظریے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے لیکن یہ حسرت ناتمام ہی رہی کہ سیاست ان سب پر حاوی آ گئی اور سب اپنے اپنے کارڈ لیے کھیل میں مشغول رہے ۔  ہر کوئی فریق دوم کو سیاست کے میدان میں پچھاڑنے کے لیے اپنی اپنی لڑائی میں مصروف ہو گیا اور مفاد پرستوں نے اپنی دکان سجا لی ۔ سیاست نے انسانیت کو شکست سے دو چار کیا اور جیت گئی سیاست ، ہار گئی انسانیت کیوں کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ نظریات و حیات کی اس جنگ میں زیادہ تر جیت مفاد کی رہی ہے بلکہ نظریاتی گروہ کی فہرست میں ایک گروہ ایسا بھی ہے کہ جس کا نظریہ ہی مفاد پرستی رہا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں