سانحہ حویلی ۔۔۔ انسانیت کا قتل /ابوبکر راٹھور


سیاست کی تعریف میں کسی نے لکھا تھا کہ “سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا” ۔ سیاست کی جو بھی تعریف کی جائے اور اس تعریف کو اس جملے کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو اس جملے کی حقانیت کو جھٹلایا نہیں کا سکتا ۔
آزاد ریاست جموں وکشمیر میں آمدہ الیکشن کے حوالے سے گہما گہمی ہے لیکن اس گہما گہمی میں چند روز قبل ایک المناک حادثے کی اطلاع نے ریاست کے شہریوں اور انسانیت پسندوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کے گاؤں اپر گگڈار میں ماں بیٹی کی لٹکتی ہوئی لاشوں کی تصاویر اور ویڈیوز چند ہی لمحوں میں سوشل میڈیا ایپ کے زریعے ملک اور بیرونِ ملک لوگوں تک پہنچ گئیں ۔ حقائق کی تلاش اور فیصلہ کرنے کا اختیار جن معتبر اداروں کو ہے وہ یقینا اس سلسلے میں مصروف عمل ہیں لیکن دوسری طرف سماجی سطح پر اس سانحے نے عجب رخ اختیار کر لیا ہے ۔
ضلع حویلی کی سیاسی تاریخ میں دو بڑے قبائل ، گجر اور راٹھور ، ہمیشہ سے آمنے سامنے رہے ہیں ۔ ہر الیکشن پر ان قبائل کے مابین تصادم آزاد کشمیر کی الیکشن تاریخ کا ریکارڈ ہیں ۔ اس حادثے سے قبل تک ضلع بھر میں سیاسی گہما گہمی کے باوجود امن و سکون کے دن گزر رہے تھے اور دونوں فریقین اپنی اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے لیکن انتیس مئی کی قیامت انگیز صبح جب ماں بیٹی کی جھولتی لاشیں منظر عام پر آئیں تو اس امن و امان پر ایک کاری ضرب لگی ۔ گجر قبیلے کی خواتین کے لرزے خیز دوہرے قتل کی خبر آن کی آن میں ہر طرف پھیل گئی اور سوشل میڈیا کے مقامی صارفین نے اگلے چند ہی لمحوں میں تفتیش کو مکمل کرتے ہوئے قتل کا فیصلہ بھی سنا دیا ۔ قتل ہونے والی خواتین میں ماں بیٹی شامل ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ مقتولہ ماں کے بیٹے اور مقتولہ بہن کے بھائی نے چند ماہ قبل دوسرے قبیلے کی لڑکی سے اس کے ورثاء کی مرضی کے خلاف نکاح کر لیا تھا ۔ جلد باز سوشل میڈیائی منصفین اکرام نے اس نکاح کو قتل کی وجہ قرار دیتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیا ۔ بعد ازاں ایف آئی آر میں بھی یہ مؤقف اختیار کیا گیا ۔
قاتل کون ہے اس کا فیصلہ تو ذمہ دار اداروں کی تفتیش کی صورت میں سامنے آئے گا نہ کہ ان صارفین کے کہنے پر ۔  یہ بھی درست ہے کہ ایسے حالات میں سوچ کا اس طرف مڑنا فطری امر ہے اور کیسے ممکن ہے کہ گھر کے آنگن میں دو لاشیں لٹک رہی ہوں اور جذبات عقل پر حاوی نہ ہوں لیکن یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسے وقت میں کیے گئے فیصلے درست ثابت نہیں ہوتے ۔ متاثرین نے راستے بند کیے ، احتجاج کیا ، کئی املاک کو نقصان پہنچایا ، گاڑیاں تباہ کی گئیں اور بالآخر انتظامیہ کی طرف سے جلد قانونی کارروائی کی یقین دہانی پر اگلے دن دونوں خواتین کی میتوں کو سپرد خاک کیا گیا ۔
مقتولین کے ورثاء نے راٹھور قبیلے کے چودہ افراد کو ایف آئی آر میں بطور ملزمان نامزد کیا ۔ سوشل میڈیا پر قاتلوں کی گرفتاری کے لیے پوسٹ جاری رہیں ۔ اس سب کے برعکس راٹھور قبیلے کا مؤقف قانونی رہا ۔ پہلی اطلاع سے لے کر اب تک ہر کسی نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ قبیلے کے سربراہ نے مقتولین کے گھر میں ان کے ورثاء سے ملاقات میں اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ قاتل کوئی بھی ہو وہ اپنی سزا پا کر رہے گا ۔
راٹھور قبیلے کے بقول ان کے افراد نے قانون کی عملداری اور بالادستی کے پیش نظر گرفتاریاں پیش کی ہیں اور ان گرفتاریوں کا واحد مقصد ہے کہ قانونی کارروائی کے سلسلے کو آگے بڑھایا جائے لیکن ان کا مؤقف یہ ہے کہ تفتیش کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس کے دائرے کو وسیع کیا جائے تاکہ اصل حقائق تک پہنچا جا سکے ۔  ان کے مطابق ایک مجرمانہ اور ظالمانہ فعل کو بغیر کسی تفتیش و تحقیق کے ان کی برادری سے منسوب کرنا غلط ہے اور وہ کسی طور بھی اس دوہرے قتل کی واردات کی حمایت نہیں کرتے اور ہم چاہتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن ترتیب دیا جائے ۔ ویسے یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ملزمان کی طرف سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست کی جا رہی ہے جب کہ دوسری طرف گجر برادری میں موجود غم و غصہ کی شدت فوری کارروائی کی متقاضی ہے ۔
اس حقیقت سے کسی طور انکار ممکن نہیں کہ انسانی قتل کائنات میں بدترین فعل ہے ۔ بے گناہ انسانی جانوں کا ضیاع کائنات کے بدترین انسانوں کا فعل ہے لیکن دونوں قبائل کے درمیان تعلق کی تاریخ گواہ ہے کہ اگر اس سانحے کے بعد دونوں طرف سے جذبات کو قابو میں نہ رکھا گیا تو خدانخواستہ کسی اور بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ایک سانحہ یہ بھی ہے کہ چند نا عاقبت اندیش عناصر کی طرف سے اس سانحے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ آنے والے الیکشن میں اس واقعے کو سامنے رکھتے ہوئے سیاست کی جائے ۔ یہ سازشی عناصر کم سہی لیکن ان کی موجودگی اور فعالیت سے انکار ممکن نہیں ۔ سماجی معاملات میں بد امنی پیدا کرنے میں یہ اکثر کامیاب بھی رہتے ہیں ۔ ان کا تدارک لازم ہے ۔ ضروری ہے کہ عوام کو ان سے  بچایا جائے ۔
ریاستی انتظامیہ کو چاہیے کہ ضلع بھر میں امن و امان کو یقینی بنائیں ۔ دونوں قبائل کے درمیان کسی بھی کارروائی کو روکنے کے لیے لازم ہے کہ جلد از جلد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور الیکشن تک اس کو لٹکا کر سیاسی مفاد کی کوشش کو ناکام کیا جائے ۔ ضلع حویلی کی عوام کے مطالبے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا قیام کرتے ہوئے قاتلوں کی تلاش کی جائے اور تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے ۔ اس کا نتیجا یہ نکلنا ہے کہ ضلع حویلی میں اطمینان کی فضا قائم ہو گی اور آیندہ کے لیے اس لعنت کا خاتمہ ہو گا ۔
اس سب کے دوران  ضلع حویلی کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ آگے بڑھے اور قانون کی عملداری کے لیے بلا تفریق رنگ و نسل آواز بلند کرے ۔ سیاست کی چالبازیوں میں مظلوم کی حق تلفی کا خدشہ ہمیشہ رہے گا اور عین ممکن ہے کہ اس بے رحم قتل کی واردات کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا جائے ۔ اگر ایسا ہوا تو پھر یہ سلسلہ رکنے والا نہیں کہ ہم جانتے ہیں “سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا”

اپنا تبصرہ بھیجیں