ہائے رے پی ایس سی تیری کون سی کل سیدھی

تحریر :اسد اللہ چنگیزی
آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن آزاد کشمیر کا سول سروسز رکروٹمنٹ کا سب سے بڑا اور نمائندہ ادارہ ہے۔ اس کمیشن کے قیام کا مقصد آزاد کشمیر میں سول سروسز رکروٹمنٹ کے عمل کو شفاف، معیاری اور غیر جانبدارانہ انداز میں سرانجام دینا تھا لیکن بدقسمی سے اس کے قیام سے لے کر تا حال شدید تنقید کی ذد میں ہے۔ کبھی اس کے پیپر سیٹنگ کے معیار پر حرف اٹھتے ہیں تو کبھی اس کی غیرجانبداری پر۔ اتنی مدت گزر جانے کے باوجود نہ تو کمیشن سیاسی اثر رسوخ سے باہر آسکا اور نہ ہی خود کو جدید تقاضوں پر استوار کر سکا۔
پیپر سیٹنگ اور مارکنگ کامعیار کمیشن پر تنقید کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ پیپر سیٹنگ کے دوران کسی قسم کی تحقیق کے بجائے مختلف قسم کی ویب سائیٹس کا سہارا لیا جاتا ہے اور کبھی کبھار پورا کا پورا پیپر ایک ہی ویب سائیٹ سے اٹھا کر دے دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سالہا سال سے التواء کا شکار امتحانات بھی پی ایس سی کے ماتھے پر کلنک ہے۔ کبھی اس التواء کی وجہ کمیشن کی اپنی عدم توجہی اور پہلو تہی ہوتی ہے اور کبھی عدالت کی طرف سے اسٹے کی صورت میں۔
گزشتہ برسوں میں ہونے والے امتحانات کمیشن کی ساکھ میں بہتری لانے میں کسی حد تک کامیاب ہوئے اور امیدواران کے کمیشن پر اعتماد بحالی کی بھی وجہ بنے لیکن رواں برس ہونے والے امتحانات کے دوران جو بلنڈرز ہوئے وہ امیدواران میں شدید مایوسی اور بے چینی کا باعث بنے۔ کچھ پیپرز میں پیپر شروع ہونے سے محض چند منٹ پہلے امتحانی حال کے باہر نوٹس لگایا گیا کہ بوجہ حکم امتناعی عدالت پیپر ملتوی کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے دور دراز سے سفر کرکے آئے امیدواران کو مایوس لوٹنا پڑا۔ لیکچرر معاشیات کوٹلی کا پیپر اس کی بہترین مثال ہے۔اس کے علاوہ دیگر پرچہ جات جیسا کہ لیکچرر انگریزی کے پیپر میں جو بلنڈرز ہوئے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔
لیکچرر انگریزی کا پرچہ 25 مارچ 2021 کو منعقد ہوا۔ باظاہر دیکھنے میں پرچہ متوازن نظر آتا تھا کیونکہ اس میں ادب اور لسانیات دونوں سے سوالات شامل تھے۔ لیکن پرچہ شروع ہونے کے تقریبا بیس منٹ بعد یہ اعلان کیا گیا کہ امیدواران نے سوال نمبر ا تا 30 ابھی حل نہیں کرنے۔ اس پر حال میں شور شروع ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ ہم وہ سوالات حل کر چکے ہیں جس پر کہا گیا کہ اس کے بارے آپ کو تھوڑی دیر بعد ہدایات دی جائیں گی۔ تقریبا ایک گھنٹہ بعد یہ اعلان کیا گیا کہ جزو نمبر دو 11 تا 20 میں (Synonym) مترادف کے بجائے
(Antonym) متضاد کرنے ہیں۔اور جن لوگوں نے یہ جزو پہلے حل کر لیے تھے ان کو فلیوڈ دیا جائے گا وہ کاٹ کے دوبارہ کر
لیں۔ انکی مینول مارکنگ ہو گی۔پیپر کا وقت ختم ہوا اور بہت سارے امیدواران جو کہ بہت ساری توقعات لے کر شاملامتحان ہوئے تھے خدشات کے ساتھ گھروں کو لوٹ گئے۔ انگریزی کہ اس پیپر نے کمیشن کے پیپر سیٹنگ کے معیار کی قلعی کھول دی اور بہت سارے سوالات کو جنم دیا۔ جیسا کہ 1: کیا اتنے بڑے پیمانے کے پیپر کے لیے پروف ریڈنگ کا کوئی انتظام نہیں جو اسے اغلاط سے پاک کرسکے؟ 2: کیا جن پرچوں پر ایک دفعہ فلیوڈ استعمال ہوا دوبارہ استعمال نہیں ہو سکتا؟ 3: کیا ببل شیٹ پر فلیوڈ کا استعمال امتحان کو مشکوک نہیں بناتا؟ 4: امتحانی حال میں نظم و نسق قائم کرنا اور ماحول کو امیدواران کے سازگار بنانا کہ جس میں وہ مکمل کنسنٹریشن کے ساتھ پیپر حل کر سکیں،کس کہ ذمہ داری ہے؟ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔امیدواران کی مایوسی اور بے چینی میں اضافہ اور اس امتحان کی شفافیت کا بھانڈا اس وقت پھوٹتا ہے جب اس امتحان کے نتیجہ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ پیپر میں فلیوڈ کا ستعمال پہلے ہی اسے مشکوک بنا رہا تھا لیکن اصل شکوک اس وقت پیدا ہوئے کہ جب انگریزی کے پیپر میں کہ جس میں ساری اصناف سے سوالات موجود تھے میں 100 میں سے 96 تک نمبرات حاصل کیے گئے۔ پیپر صرف کسی ایک صنف سے آیا ہو تو پھر بھی اتنے نمبرات ممکن نظر نہیں آتے۔ یہ پی ایس کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ میری چئیرمین پبلک سروس کمیشن اور وزیراعظم آزاد کشمیر سے درخواست ہے کہ اس کی ٹھوس اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور کسی قسم کے نقص کی صورت میں سخت سے سخت ردعمل اپنایا جائے تاکہ لوگوں کا وزیراعظم کے نعرے “میرٹ کی بالاستی” پر اعتماد بحال ہو سکے۔ اس کے علاوہ پبلک سروس کمیشن کو آزاد، خود مختار اور شفاف اور مثالی ادارہ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ لوگوں کا اسپر اعتماد بحال ہو اور ان کی مایوسیوں کا اذالہ ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں