عباسپور،پولیس کے ذریعے پانی دوسری جگہ لے جانے پر عوام مشتعل

عباسپور (سائرہ چغتائی)عباسپور یونین کونسل کھلی درمن گریٹر واٹر سپلائی سکیم کے حوالے سے پولیس فورس کے ذریعے انتظامیہ کی جانب سے مقامی ابادی کو نظر انداز کرکے پانی لیا جارہا تھا جس پر مقامی آبادی اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر نکل آئی اورکہا کہ جب تک مقامی آبادی کو پانی نہیں دیا جاتا ہم اس پانی کو نہیں لیکر جانے دیتے اس سے قبل بھی ہمارے خلاف پرچے درج ہوئے ہمارا اس وقت بھی یہی کہنا تھا کہ مقامی آبادی کو پانی دیکر جدھر مرضی لے جائیں لیکن ہمیں نظر انداز کرکے پانی لیکر جانا کہاں کا اصول ہے اس پر بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے زبردستی بذریعہ پولیس فورس آج یہاں پر ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا جسے ہم کسی صورت ہم کامیاب نہیں ہونگے ہماری لاشوں سے گزر کریہ سکیم لیکر جائیں وہ الگ بات ہے ہمارے جیتے جی ایسا نہیں ہوسکتا کہ مقامی آبادی کو نظر انداز کرکے پانی لیجاسکے۔عوام علاقہ کھلی درمن نمجر سے کثیر تعداد میں عوام اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر نکل آئے جس کے باعث انتظامیہ کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔عوام علاقہ نمجر،کھلی درمن کی عوام کا کہنا تھا کہ ہم طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں کوشش کی جا رہی ہے آخری حد تک پرامن رہیں میں ھم یہ بات سوچنے پر مجبور ہیں۔یہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں اور کیا سوچتے ہیں کیا طاقت کی بنیاد پر یہ کامیاب ہو جائیں گے وزیر اعظم آزاد کشمیر بھی احکامات جاری کر چکے ہیں کہ اس واٹر سپلائی سکیم کو ری ڈیزائن کیا جائے لیکن اس کے باوجود چند لوگوں کو خرید کر اس منصوبے کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے چند گرفتاریاں اگر ہوگی پھر معاملہ بہت دور چلا جائے گا آج پولیس کی اتنی بڑی نفری لے کر آنے والے ٹھیکیدار شہزاد سردار امجد یوسف سابق مشیر حکومت بھی شامل ہیں سردار امجد یوسف اس سکیم کو کامیاب نہیں ہونے دیتے بلکہ جو پہلے سے پیسے خرچ ہو چکے ہیں اس کو ہضم کرنا چاہتے ہیں ھم لوگوں نے ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں اور اکثریت میں ووٹ بھی دیے لیکن یہاں پر لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنے کے بجائے پیسے عزیز ہو گے غیر قانونی طریقے سے اس واٹر سپلائی سکیم کو لگایا جارہا ہے اگر کوئی حادثہ ہوا اس کی ذمہ دار انتظامیہ وزیر حکومت چودھری یاسین گلشن سردار امجد یوسف ہوں گے…..

اپنا تبصرہ بھیجیں