چوہدری ابرارعزیزایڈووکیٹ نے عباسپور سے آزادامیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنےکااعلان کر دیا

عباسپور (سائرہ چغتائی) چوہدری ابرارعزیزایڈووکیٹ نے حلقہ نمبر1 عباسپورایل اے 18 پونچھ سے آزادامیدوار کی حثیت سے الیکشن لڑنے کااعلان کیااس حوالے سے ایک مشترکہ پرہجوم پریس کانفرنس انکی رہائش گاہ میں منعقدکی گئی ان کے ہمراہ مجید بہار ایڈووکیٹ،چوہدری کبیر علی بھی موجودتھے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری ابرارایڈووکیٹ نے کہاکہ وزیر حکومت چوہدری یاسین گلشن نے حلقہ نمبر1 کی تعمیر وترقی کے بجائے ٹبر پال مہم شروع کی ہے۔حلقہ نمبر 1 کے پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے پھررہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں ہے عباسپور حلقہ نمبر1 میں انسانی بنیادی ضروریات صحت،تعلیم،سڑکیں آپ لے لیں تو خودآپکو اندارزہ ہوجائے گا کہ ان بیس سالوں میں ہم جہاں کے تھے ادھر ہی کھڑے ہیں کوئی ایک میگاپراجیکٹ بتادیں جوعباسپور آیا ہو ایک امجد یوسف نے جولایااس کا فنڈز بھی دوسری جگہ منتقل کردیا گیا۔حلقہ نمبر1 جس کی پوری کی پوری پٹی لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے گوناگوں مسائل کاشکار ہیں۔بہت سے حلقوں میں میگاپروجیکٹ شروع ہوئے باڈرپیکج دیئے گئے70 فیصد جو حلقہ باڈر پر ہے جدھر چالیس فیصد سڑکیں ہونی چاہئے تھی مگربدقسمتی سے ادھر آٹھ کلومیٹر سڑکیں دی گئی یہ وزیرموصوف کی نااہلی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔چوہدری یاسین گلشن وزیر حکومت نے عوام کوسبز باغ دکھائے آج ان کی ساسست صرف اورصرف اپنے ٹبرپالنے کے سوا کچھ بھی نہیں میں بحثیت وکیل سب سے پہلے سول کوٹ کی بات کرتاہوں اس کاقیام 1956 میں ہوا اس کی حدود کھائی گلہ راولاکوٹ تک تھی لیکن بدقسمتی سے اسکی حدود بیڑی گلی تک ہے یہ نہ ہوکہ وقت کیساتھ ساتھ یہ ہمارے تھانے کی یہ حدود عباسپورپل تک رہ جائے 2011ء میں عباسپور کوضلع کادرجہ دلانے کیلئے ایک تحریک شروع کی تھی جوبدنیتی پرمبنی تھی اس کے بعد چوہدری یاسین گلشن حکومت میں جانے کے باوجود خاموش کیوں ہوگئے لوگوں کوبیوقوف بنانے کیلئے تحریک چلائی گئی تھی لیکن حویلی میں لیڈرشپ ہونے کی وجہ سے حویلی کوضلع کامقام مل گیا اورعباسپور وہی کاوہی ہے عباسپور کی عوام نے ہمیشہ لیڈر شپ کاساتھ دیا لیکن لیڈرشپ نے اپناکام کس طرح سرانجام دیا اس سے سب بخوبی واقف ہیں عباسپور تعلیم کے حوالے سے اگربات کی جائے تو عباسپور ڈگری کالج کالج ہی ہے اس وقت تک یونیورسٹی کمپس نہیں بن سکا جس کا 2016 ء میں یونیورسٹی کمپس کا معاملہ بھی حل ہوچکا تھااسکی ذمہ داری بھی حلقہ کے وزیر پرعائدہوتی ہے پولس،تروٹی،پنچال دھڑاں،ککوٹہ،باڈرلائن کی بات کی جائے تو دس سال سے گرلزپرائمری سکول ککوٹہ بند ہے جہاں پر ٹیچر موجود نہیں جب ٹیچرزکی بات کی جائے تو حاضر نہیں تو اس میں رکارٹ منسٹر ہے ان گاؤں سے ہمیشہ یاسین گلشن کوووٹ ملے لیکن بدقسمتی سے ان علاقوں کے مسائل جوں کے توں پڑے ہیں جہاں پر پانچ قبائل کے لوگ موجود ہیں لیکن وہاں تعلیم،اورصحت کانام ونشان نہیں ہے۔بھانگلی چوہدری بشیر (مرحوم) نے جو دوکلومیٹر سڑک دی اس کے بعد کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی وہاں کے بچوں بچیوں کوتعلیم حاصل کرنے کیلئے مرچکوٹ آنا پڑتا ہے جہاں گاڑی تودورگھوڑابھی چلنے کے قابل نہیں ہے۔یونین کونسل کھلی درمن جوحلقہ نمبر1 کی سب سے بڑی یونین کونسل ہے وہاں کی سڑک کھنڈرات کامنظرپیش کررہی ہیں وہاں بی ایچ یو کھلی درمن کی عمارت صرف نمائش کیلئے رکھی گئی ہے اسٹاف موجود ہے لیکن عرصہ حاضر نہیں ہورہا ہے عباسپور تحصیل ہیڈکوارٹر کی بات کی جائے 2001میں یہ عمارت بنی جس کاکام جاکر 2021 میں مکمل ہوا عمارت بن گئی مگراسٹاف نہیں اسٹاف ہوتو مشینری نہیں وزیر حکومت کی نالائقی ہے یہ کہ ابھی تک اسکو فنگشنل نہیں کرواسکے اس سے بڑی ذیادتی ہماری عوا م کیساتھ اورکیا ہوگی کہ انسانی بنیادی ضروریات تعلیم،صحت،سڑکوں سے ہم 2021ء میں بھی محروم ہیں۔پچھلے عرصہ ہم نے چوک کے اندراحتجاج کیا لائن آف کنٹرول پر جتنی بھی ڈسپنسریاں ہیں وہ فنگشنل نہیں ہیں ان پر بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا اوروہ مسئلہ جوں کاتوں ادھر ہی موجود ہے۔پچھلے دوسال سے تقریبا عباسپور سب ڈویژن کے اندر آٹا نہیں عباسپور کی عوام کومشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے ہمارا مطالبہ تھا کہ یہاں آٹے کاڈپودیا جائے تواس مطالبے کوبھی رد کیاگیا نوجونواں نے احتجاج کیا الٹا ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔حلقہ نمبرا میں سب سے اہم مسئلہ بیروزگاری کا ہے پڑھے لکھے نوجوان موجود ہیں لیکن بے روزگاری عروج پر ہے گزشتہ دنوں وزیر موصوف نے ایک انٹرویومیں کہاکہ نوجوانوں کا کوئی حال نہیں یہی نوجوان جب نعرے لگائے تو ٹھیک ان کے ہاں میں ہاں ملائے تو ٹھیک جب الیکشن لڑنے کی بات آئے تو ان نوجوانوں کاکوئی حال نہیں۔اس دورمیں جتنا مایوس نوجوان ہوا کوئی نہیں ہوا۔ابرارایڈووکیٹ نے کہاکہ 2017 ء میں یاسین گلشن کے ساتھ میراختلاف ہوا اسکی مین وجہ یہی بنیادی مسائل تھے بدقسمتی سے مسائل کا حل تودور ان میں روزبروزاضافہ ہوا۔انشاء اللہ اب نوجوان قیادت ہی آگے بڑھے گی حلقہ نمبر 1 کی ان محرومیوں کاخاتمہ کرنے کیلئے میں نے حلقہ نمبر1 سے آزادامیدوارکی حثیت سے الیکشن لڑنے کافیصلہ کیا ہے انشاء اللہ میرٹ پرکام کریں گے کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے ظلم کی نہیں حویلی سے ہرآدمی کہتا تھا کہ وہ پسماندہ علاقہ ہے آج اگر یہ بات کوئی کہتا ہے تو شرم آتی ہے وہاں پرکسی چیز کی کمی نہیں ہے جہاں یونیورسٹی کمپس،ہائیڈرل پاور،سڑکیں،صحت کی تمام بنیادی سہولیات موجود ہیں لیکن ہماری بدقسمتی کے ہم وہاں کے وہاں ہی کھڑے ہیں جہاں 2001 ء میں کھڑے تھے۔ایک فیصدبھی آگے نہیں بڑھے۔انشاء اللہ اب لوگ بیدارہوچکے ہیں شعور رکھتے ہیں اب وہ اپنے ووٹ کااستعمال سوچ سمجھ کرکرینگے اورانشاء اللہ میں اپنی عوام کوکھبی مایوس نہیں کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں