عمران خان کو سفیر کشمیر کہلانے کا کوئی حق نہیں. آزاد کشمیر سیاسی قیادت

اسلام آباد (ثاقب راٹھور) وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں سانحہ 5 اگست پر مذمت نا کرنے اور بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے پر آزادکشمیر کی سیاسی قیادت نے کوئی خاص ردعمل نا دیا. جب کہ اس عوام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے. سوشل میڈیا پر صارفین نے آزادکشمیر کی سیاسی قیادت اورتحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں شدید الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار کیا جس کے بعد وزیراعظم پاکستان کو بھارت کے ساتھ تجارت کے فیصلے کو واپس لینا پڑا. تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ کابینہ کے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کی بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی سفارش پر غور کیا گیا جس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھارت سے سستی چینی منگوانے کی سفارش کی تھی۔ شدید عوامی ردعمل کے بعد وفاقی کابینہ نے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی سمری کو مسترد کردیا ہے۔ حکومت پاکستان کے اس فیصلے کے بعد عوام میں شدید ردعمل سامنے آیا لیکن آزادکشمیر کی سیاسی قیادت ایک مرتبہ پھر کھل کر کوئی موقف نا دے سکی. اس معاملے پر جب آزاد کشمیر کے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ
بحیثیت کشمیری پاکستان کی سلامتی ہمارے لیے سب سے اہم ہے ہے ایک سیاسی طور پر مستحکم اور خوشحال پاکستان ہی ہماری بہترین وکیل ثابت ہو سکتا ہے.پاکستان کے مفاد میں فیصلے کرنا حکومت کا کام ہے تاہم جہاں ہندوستان کے ساتھ معاملات کی بات آتی ہے تو یہ ایک حساس اور پیچیدہ مسئلہ ہے اس میں جلد بازی سے فیصلے نہیں کرنے چاہیے اس طرح جو ہندوستان کے ساتھ تجارت کی بحالی کا فیصلہ ہوا تھا وہ ہمارے لیے باعث تشویش تھا اور پھر اس کو تبدیل کرنا حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے کشمیری ایک جمہوری اقتصادی طور پر مضبوط اور مستحکم پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں ہماری جائز خواہش ہے کہ پانچ اگست کے بعد بعض معاملات جن کا اثر عوامی سطح پر ہو فیصلہ کرنے سے قبل کشمیریوں کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے اور اس حوالے سے سیز فائر لائن کے اس پار وطن عزیز کے لیے بے پناہ قربانیاں دینے والے کشمیریوں کے جذبات احساسات اور پاکستان کے حوالے سے ان کی امیدوں کو مدنظر رکھنا چاہیے چاہیے حکومت پاکستان کو آزادانہ فیصلے کا حق حاصل ہے مگر ان امور کو مد نظر رکھا جانا چاہیے.سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر راجہ فیصل راٹھور کا کہنا تھا کہ عمران خان اور انکی نا اہل کابینہ نے ہمیشہ سے ایسے فیصلے کیے ہیں جن کی وجہ سے جگ ہنسائی ہوئی ہے.
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خیرسگالی پر ہمیں تب تک تحفظات رہیں گے جب تک مسئلہ کشمیر کا قابل قبول حل نہیں سامنے آتا، اور مسئلہ کشمیر کا قابل قبول حل کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا، وزیراعظم پاکستان کو خط میں واضح طور پر ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیے جانے والے غیر قانونی اقدامات کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا، عمران خان کا خط کشمیر پر انکی عدم دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ہمارے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ کیسا ہے تو اس پر میں پہلے ہی کہہ چکا کہ ہمارے لیے انتہائی تشویشناک ہے، 5 اگست کے ہندوستانی اقدامات کے بعد آج کیا کشمیریوں کے خون کا سودا کرکے تجارت بہتر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، پی ٹی آئی کا کشمیر مخالف ایجنڈا ایسے اقدامات سے کھل کر سامنے آرہا ہے۔عمران خان خود کو کشمیریوں کا سفیر کیسے کہہ سکتے ہیں؟  کیا اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایک تقریر کی کہانی بار بار سنا کر خود کو کشمیریوں کا سفیر کہلوایا جاتا رہے گا اور دوسری جانب آپ کشمیریوں کے خون پر تجارت بڑھانے کی کوششیں جاری رکھو گے، عمران خان کس منہ سے خود کو کشمیریوں کا سفیر کہتے ہیں؟  مقبوضہ کشمیر میں کشمیری آج بھی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں اور پاکستان کے جھنڈے میں دفن ہونا فخر سمجھتے ہیں، ان کشمیریوں کے لیے اس سیلیکٹڈ اور کشمیر دشمن حکومت کے پاس کیا جواب ہے؟جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا واضح اور دو ٹوک موقف ہے کہ کشمیر کی آزادی تک بھارت کے کے ساتھ کسی قسم کے بھی تعلقات نہیں رکھنے چاہیے. اگر حکومت پاکستان کوئی سیاسی، سماجی یا تجارتی تعلقات کا ارادہ رکھتی ہے تو یہ ایک لاکھ سے زائد شہداء کے ورثاء کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہو گا.وزیر اطلاعات آزاد کشمیر مشتاق احمد منہاس کا کہنا تھا کہ جہاں تک پاکستان اور بھارت کے وزراء اعظم کے خطوط کا معاملہ ہے بطور کشمیری مجھے اس پر تحفظات ہیں ۔پاکستان کے وزیراعظم کو اپنے خط میں بھارت کے پانچ اگست کے اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے تھی کیونکہ اسطرح نہ کر کے انہوں نے پاکستان کے روائتی موقف سے انحراف کیا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ جناب عمران خان کو خط میں واضح کرنا چاہیے تھا کہ بھارت کے ساتھ اسوقت تک تعلقات گرمجوشی کی سطح تک بحال نہیں کئے جا سکتے جب تک بھارت کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت نہیں دیتا اور ایسا کرتے ہوے بھارت کو چاہیے کہ وہ خطے کی سلامتی کی خاطر اپنے پانچ اگست کے اقدامات کو واپس لے ،مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کرے وہاں قائم کرفیو کو ختم کرتے ہوے قید کشمیری حریت قائدین اور دیگر قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے ۔ان اقدامات تک بھارت کیساتھ تعلقات مشکل امر ہے جس کی قطعا اجازت نہیں دی جا سکتی.اگر جناب عمران خان کی حکومت جو پاکستان کے نمائندہ عوام کی حکومت نہیں ہے اسطرح کا کوئی فیصلہ کرتی ہے تو پاکستان کے عوام اسے ایسا کرنے کی قطعا اجازت نہیں دیں گے ۔تجارت اچھی چیز ہے لیکن وہ کس قیمت پر ہو گی ہمیں اسپر غور کرنا ہے ۔بھارت کی جانب سے پانچ اگست کے اقدامات کو واپس لئے بغیر بھارت سے تجارت اس بات کا عندیہ ہو گی کہ پاکستان نے ان اقدامات کو قبول کر لیا ہے جس سے بین الاقوامی سطح پر ہمارے موقف کو نقصان پہنچے گا.عمران خان کشمیریوں کے سفیر نہیں ہیں وہ ایک خودساختہ سفیر بنے ہوے ہیں کشمیری قوم نے انہیں ایسا کوئی مینڈیٹ نہیں دیا ہے نہ ہی پاکستان کے عوام کا مینڈیٹ ان کے پاس ہے وہ ایک کٹھ پتلی وزیراعظم ہیں جو پاکستان کے عوام کی خواہشات کے مغائر ان پر مسلط ہیں.شہداء کشمیر کی قربانیاں اپنے مقصد کیلیے ہیں اور وہ مقصد اعلی و ارفع ہے ۔انشاءاللہ جس نے بھی شہداء کے مشن سے غداری کی ناکامی اسکا مقدر ہو گی ۔کشمیری شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی انشاءاللہ آزادی کشمیر عنقریب ہو کر رہے گی.وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان سمیت جملہ کشمیری سیاسی قیادت اپنے اپنے حصے کا کام کر رہی ہے ۔وزیراعظم آزادکشمیر گاہے بگاہے قوم کو خطرات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق بھی بتاتے رہتے ہیں ۔ہم نے کئی کشمیر کانفرنسز۔کا انعقاد کیا جس میں جملہ سیاسی قیادت نے شرکت کی ۔آئندہ بھی جب بھی کوئی قومی سطح کا معاملہ درپیش آئیگا تو آپ ہمیں اکٹھا پائیں گے.سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف آزادکشمیر ارشاد محمود نے وزیراعظم پاکستان کی طرف سے لکھے جانے والے خط پر کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اپنا موقف واضح طور پیش کیا ہے. اس خط میں عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں بھارتی وزیراعظم کو کہا ہے کہ 23 مارچ کو قرارداد پاکستان منظور کر کے مسلمانوں نے نہایت ہی دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے. دوسری بات انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا.اور یہ ایک مبارک باد کا خط تھا اب اس میں مذمت نہیں کر سکتے تھے. لیکن پھر بھی تین چار اہم باتیں کر دی گئی ہیں. تجارتی فیصلہ وزارت خارجہ نے ایک سفارش کی تھی جس کو کابینہ نے منظوری نہیں دی.

اپنا تبصرہ بھیجیں