کیا یوسف رضا گیلانی سینٹ کی نشست اپنے نام کر پائیں گے؟

ورلڈ ویوز اردو( قیصر ایوب سے)
یوسف رضاگیلانی ملک کے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما ہیں سینٹ کی نشست کے لیے اسلام آبد سے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حصہ لے رہے ہیں۔کیا موجودہ حالات میں وہ یہ نشست جیتنے میں کامیاب ہو پائیں گے یا انہیں نیشنل اسمبلی کی نشست کی طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔کیونکہ قومی اسمبلی کے کل 342 اراکین اسمبلی میں سے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے پاس 160 اراکین ہیں جبکہ انکے مدمقابل حکومتی الائنس کے پاس بظاہر 180 ووٹ موجود ہیں۔ یوں اپوزیشن کو اس نشست میں کامیابی کے لیے کم سے کم حکومتی اراکین میں سے گیارہ ممبران کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کا یہ دعوی ہے کہ حکومت میں شامل جی ڈی اے کے تین((3 اراکین ، دو (2)آزاد اراکین , شاہ زین بگٹی کی پارٹی کے چار (4)کے علاوہ تحریک انصاف کے بارہ (12)ممبران کی بھی اندون خانہ حمایت حاصل ہے جو کہ حکومتی پالیسیوں سے خاصے نا خوش ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کا یہ کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے نو (9)کے قریب ممران اسمبلی انکے رابطے میں ہیں جنہوں نے اس شرط پر مسلم لیگ ن کی حمایت کی یقین دھانی کرائی ہے کہ آئندہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن ان کو اپنے پارٹی ٹکٹ جاری کرے گی۔ یوسف رضا گیلانی کے مدمقابل سندھ سے تعلق رکھنے والے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ ہیں، شیخ صاحب کا اسٹیبلشمنٹ سے بڑا گہرا تعلق ہے، اسی تعلق کے باعث انہیں موجودہ حکومت میں وزارت خزانہ کی کنجی دی گئی اور وہ سینیٹ کے میدان میں بھی اتارے گئے۔ اگر یوسف رضا گیلانی یہ انتخاب جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسکے بعد پی ڈی ایم اتنی مضبوط ہو جائے گی کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف بھی عدم اعتماد لا سکے۔ لیکن یہ اسی صورت ممکن ہو گا جب اسٹیبشمنٹ غیر جانبدار ی کا مظاہرہ کرے گی جو کہ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہموجودہ حکومت کا تحفظ اسٹیبلشمنٹ کا اپنا تحفظ ہے۔ اور اسٹیبشمنٹ نہ تو کبھی ماضی میں غیر جانبدار ہوئی ہے نہ ہی آئندہ ہو گی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ حفیظ کو میدان میں اتارنے والوں نے اپوزیشن ارکان سے بھی رابطے کیے ہوں ۔ اور اگر ایسا ہوا تو یہ بھی ممکن ہے پی ڈی ایم کے پاس ممبران کا اضافہ ہونے کے بجائے انکے اپنے ممبران کم پڑ جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں