سکندر حیات بزرگ سیاست دان ہیں احترام کرتے ہیں، قیادت بارے بات کریں گے تو ہمیں باامر مجبوری جواب دینا پڑے گا،کہیں گستاخی نہ ہو جائے۔ چوہدری طارق فاروق

مظفرآباد(ورلڈ ویوز اردو)آزاد کشمیر کے سینئر وزیر مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم سکندر حیات نے وزیراعظم فاروق حیدر کو سر ٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے کہ فاروق حیدر کسی دباؤ میں آتے ہیں نہ ہی Manage able مینج ایبل ہیں یہ ان کا کریڈٹ ہے۔تاہم سکندر حیات کا یہ کہنا وزراء آخری تنخواہ مراعات لے کر مسلم کانفرنس میں آئیں گے یہ آزاد کشمیر کے سیاستدانوں،سیاسی کارکنان کے بارے میں اچھا تااثر نہیں دیتی ہے۔وزراء ممبران اسمبلی بکاؤ مال ہیں نہ ان کی جماعت نظریات اور اپنے قائد نواز شریف کے جمہوری بیانیے میں کوئی کمزوری ہے سب پوری استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں،حلف کر چکے ہیں،صرف فاروق سکندر نے حلف نہیں لیا تھا انہوں نے اچھا کیا کہ وہ کابینہ سے مستعفی ہوئے ہیں مسلم لیگ ن میں موجود ہیں۔سکندر حیات سے اپیل ہے کہ وہ اپنے معاملات کو آزاد کشمیر تک محدود رکھیں،ہماری قیادت میاں نواز شریف اور مریم نواز کے بارے میں بات نہ کریں،سکندر حیات زیرک سیاستدان ہیں احتیاط سے کام لیں۔ہم احترام کرتے ہیں مگر قیادت کے بارے میں بات کریں گے تو ہمیں باامر مجبوری جواب دینا پڑے گا۔کہیں گستاخی نہ ہو جائے۔ہم سب کا سکندر حیات کے ساتھ مسلم کانفرنس،پھر مسلم لیگ ن میں ایک ساتھ بڑا وقت گزرا ہے،نواز شریف مریم نواز کے بارے میں ان کی گفتگو مناسب نہیں ہے۔وہ جس زمانے کی باتیں کر رہے ہیں اس کے بعد مسلم لیگ ن بنی ہے،ماضی میں نہیں پھنسنا چاہئے۔ہمارا بہت بڑا المیہ ہے سیاستدان ماضی سے سبق نہیں سیکھتے ہیں،ماضی میں جا پھنستے ہیں جس سے جذبات مجروح ہوتے ہیں،سکندر حیات فاروق حیدر کی وزارت عظمیٰ کے بارے میں سردار یعقوب خان پر عدم اعتماد کے بعد والے عرصے کی بات کر رہے ہیں اس وقت میاں نواز شریف نے وزیراعظم وقت یوسف رضا گیلانی نے بات کر کے روکا تھا اور مسلم کانفرنس میں اندرونی سطح پر معاملات کو خود یکسو کر لیا تھا تاہم سردار عتیق کے متعلق ان کی باری بڑے تحفظات تھے جن کی گرانٹی فاروق حیدر نے دی تھی شاید سکندر حیات صاحب کی عمر کے حوالے سے یاداشت کا ایشو ہے۔مسلم لیگ ن کی حکومت بناتے وقت وزارت عظمیٰ کیلئے مشتاق منہاس کا نام ضرور تھا مگر یہ تمام امور جماعت کے اندر طے ہو گئے تھے اور سکندر حیات کو یہ گلا رہا ان کو پوچھا نہیں گیا۔انہوں نے کہا کہ جماعت کے اندر مختلف امور پر مختلف رائے ہوتی ہے مگر ہمیشہ جماعت نے اندرونی سطح پر تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا ہے مرکزی قیادت نے کبھی مداخلت نہیں کی،سکندر حیات کا یہ کہنا کہ میں سپریم ہیڈ ہوں نہ عتیق خان قائد ہیں میرے پوچھے بغیر ٹکٹ کسی کو نہیں دیا جا سکتا اس بات کا اعتراف ہے وہ گھوڑے کی بھاگ سنبھال سکتے ہیں نہ سواری کر سکتے ہیں ان کا اور عتیق خان کا زیادہ دیر نبھا نہیں چل سکتا،سکندر حیات،سلطان محمود سے جب کہ عتیق خان تنویر الیاس کے ساتھ ایم آئی یو سائن کرنا چاہتے ہیں۔مسلم کانفرنس تحریک انصاف کا اتحاد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ہے اس کا فیصلہ مجبوریاں اور حالات کرتے ہیں ہمیں اس سے کوئی غرض ہے اور نہ پرواہ ہے،ہم بطور جماعت مسلم لیگ ن ہر طرح کے حالات کے مقابلے کی تیاری کر چکے ہیں،یہاں پنجاب کی طرح دھند چلے گی نہ ایڈوینچر ہو سکتا ہے۔طارق فاروق نے کہا کہ حکومت پاکستان کے پاس دھاندلی ٹولز نہیں ہیں ادارے بھی یہ بات سمھجتے ہیں یہ حساس علاقہ ہے یہاں کے لوگ بھی حساس ہیں جس کا سب کو ادراک ہے اور خیال بھی رکھتے ہیں۔مسلم لیگ اپنی حکومتی کارکردگی اور کشمیر پر سوچ و فکر کے بنا پر پھر کامیابی حاصل کرے گی۔وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا کہ آزاد کشمیر میں ہر قیمت پر حکومت بنائیں گے مناسب نہیں ہے کوئی کشمیریوں کی قیمت نہیں لگا سکتا ہے۔آزاد کشمیر کی تمام جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ کے کارکن سیاسی تربیت یافتہ ہیں،مشکل حالات کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔عمران خان کو یہ بات نہیں کہنی چاہئے تھی اس کا سیاسی ردعمل ہو سکتا ہے۔ہم پریشان ہیں نہ کسی مرض میں مبتلا ہیں،حقائق جانتے ہیں جو فیصلہ عوام کرینگے وہ قبول کرینگے اس کے برعکس شدید ردعمل ہو گا۔طارق فاروق نے سوالات کے جوابات میں کہا کہ گلگت بلتستان صوبہ بن سکا ہے نہ آزاد کشمیر صوبہ بن سکتا ہے یہ باتیں دم توڑ چکی ہیں۔آزاد کشمیر صوبہ نہیں ہے وزیراعظم فاروق حیدر جب مرکزی حکومت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ہمارا تمام تعلق حکومت پاکستان نہیں بلکہ ملک پاکستان سے ہے اس کا کوئی اور مطلب نکالنا کم علمی اور کم فہمی ہے۔حکومتیں دباؤ ڈال کر وفاداریاں خرید کر یا انتقامی کارروائی کر کے اپنا ہدف حاصل کرتی ہیں ایسا آزاد کشمیر میں ممکن نہیں ہے۔طارق فاروق کا کہنا تھا کہ سکندر حیات وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے وقت ہی ن لیگ سے جا چکے تھے ہم سب احترام،رواداری میں خاموش رہے ان سے گزارش ہے کہ وہ گفتگو میں احتیاط سے کام لیں ہم نے وزیراعظم فاروق حیدر کو بھی گزارش کی ہے رد عمل نہ کریں،سکندر حیات فاروق حیدر کا نہ صرف سیاسی بلکہ ذاتی تعلق بھی طویل عرصہ رہا ہے اس لئے ذاتی باتوں سے پرہیز کریں دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھتے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں