جموں وکشمیر ایک مسلم اکثریت کی حامل متنازعہ ریاست ہے جس کا بھارتی ریاست سے کوئی تعلق نہیں , مسعود خان

اسلام آباد (ورلڈ ویوز اردو) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کے دو خصوصی ریپورٹرزکے مقبوضہ جموں وکشمیر کے حوالے سے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ جموں وکشمیر کے تنازعہ کا خودمختاری یا نیم خودمختاری سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی یہ اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ ہے۔ جموں وکشمیر ایک مسلم اکثریت کی حامل متنازعہ ریاست ہے جس کا بھارتی ریاست سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ کشمیری عوام نے اپنے مستقبل کا فیصلہ ابھی کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دو ماہرین کے مقبوضہ جموں وکشمیر کے بارے میں بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر ریاست نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام بھارتی آئین کے اندر کسی خودمختاری یا نیم خودمختاری کے لئے نہیں بلکہ اپنے آزادانہ جمہوری حق، حق خودارادیت کے حصول کے لئے انسانی تاریخ کی بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں واضح طور پر موجود ہیں جن میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے بلکہ اس حق کے تعین کے لئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کی تجاویز بھی موجود ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ تاہم ہم مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے عمل پر اقوام متحدہ کی تشویش کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ قبل ازیں پاکستان کے ایک قومی انگریزی جریدے کے لئے لکھے گے اپنے ایک خصوصی مضمون میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو بھارتی ریاست کی طرف سے اجتماعی سزا اس لئے دی جا رہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور انہوں نے بھارت کو اپنی ریاست تشکیل دینے یا اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کے عوام اس بات پر پرعزم ہیں کہ وہ اپنی حتمی منزل کا تعین خود کریں گے۔ کشمیریوں کے اس موقف اور عزم کا نتیجہ ہے کہ آج پوری مقبوضہ ریاست اسلامو فوبیا اور مسلم دشمنی کا سب سے بڑا مرکز بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا کی شکل میں بھارتی فسطائیت پورے جنوبی ایشیاء اور ہمسایہ ملکوں کے استحکام کے لئے خطرہ بن چکی ہے اور اس کے زہریلے اثرات سے مستقبل میں تمام ممالک اور براعظم متاثر ہونگے۔ عالمی برادری کے لئے اب خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہنے کی گنجائش ختم ہو تی جا رہی ہے کیونکہ بھارت جیساملک اگر ایک بڑا غنڈا اور بدماش ملک بن جائے اور اپنے جرائم پر استثنیٰ بھی مانگنے لگ جائے تو اس کے اثرات چھوٹے ملکوں پر نہایت منفی ہونگے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ ہمیں اس بات کا گہرا ادراک کرنا ہو گا کہ بھارت کی بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت آج کشمیر میں بڑے پیمانے پر جو جرائم کر رہی ہے اس کا مقصد بھارت کی انتہاء پسند ہندو طبقہ میں اپنے اثرو نفوس کو بڑھا کر 2024ء میں بھارت میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں انتخابی مہم کے آلاوہ کو مزید بھڑکانے کے لئے کشمیریوں کے خون کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور کشمیر میں کیے جانے والے مظالم کو بی جے پی اپنی کارکردگی کے طور پر پیش کر کے ووٹ حاصل کرے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں