سینٹ سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ وفاق کی نمائندگی کرتا ہے،سیاسی جماعتوں کے فورم محتلف ہیں,میاں رضا ربانی کے دلائل

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں سینٹ انتحابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل میاں رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوۓ موقف اپنایا ہے کہ ارٹیکل 226 دوبارہ اسمبلی کے ایجنڈے پر اچکا ہے،ایوان میں آرٹیکل 226 میں ترمیم کا بل زیر التواء ہے،آرٹیکل 226 کے سینٹ پر اطلاق نہ ہونے کا ارڈینس بھی اچکا ہے،1962 کا آئین صدارتی نظام کے حوالے سے تھا،1962 کے آئین میں بھی خفیہ ووٹنگ کی شق شامل تھی،آرٹیکل 10 کے تحت کیس ہے ہر فریق کا حق ہے کہ اسے سنا جائے،مسنگ پرسنز سے اس آئینی حق سے محروم ہیں؟یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ڈیپ سٹیٹ کی رسائی بیلٹ پیپر تک ہوتی ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے اس موقع پر ریمارکس دئیے کہ ایسا کوئی معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ہے، بیلٹ پیپر پولنگ سٹیشن پر ہی سیل کیے جاتے ہیں۔جس پر میاں رضا ربانی نے کہا کہ سیل کیے جانے کے باوجود ڈیپ سٹیٹ کی ان تک رسائی ہوتی ہے یہ آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں،اس بنا پر بھی ووٹ قابلِ شناخت نہیں ہونا چاہیے،وزیراعظم اور وزرا اعلیٰ کا دفتر لیڈر آف دی ہاؤس سمجھا جاتا ہے،خفیہ انتخابات کی کہاں شرط ہے،خفیہ انتخابات ایک مختلف معاملہ ہے،انتخابات کے مختلف سیٹ ہوتے ہیں،ایک سیٹ وزیراعظم و وزرائے اعلیٰ کا انتخاب ہے،ایک سیٹ چیرمین سینٹ و سپیکرز کے انتخابات سے متعلق ہے،ان انتخابات کے لیے خفیہ کا طریقہ کار موجود ہے،سینٹ انتخابات میں پارٹی پالیسی سے بالاتر بھی ووٹ ڈالا جاتا ہے،اس لیے آئین نے آرٹیکل 226 کے تحت تحفظ دیا ہے،کیونکہ سینٹ وفاق کا ہاؤس ہے،یہ وفاقی یونٹس کا تحفظ کرتا ہے،سینٹ سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ وفاق کی نمائندگی کرتا ہے،سیاسی جماعتوں کے فورم محتلف ہیں،قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیاں براہ راست سیاسی جماعتوں کے فورم ہیں،سنیٹ کا تصور یکسر مختلف ہے،قومی اسمبلی آبادی کی اکثریت کی نمائندہ ہوتی ہے،سینٹ میں وفاقی یونٹس کی متناسب نمائندگی ہوتی ہے،سینٹ وفاقی یونٹس کے حقوق کا محافظ ہے،سینٹ انتخابات میں ممبر اسمبلی کی نااہلی سے متعلق 63 (اے) کی کوئی بار نہیں،سینٹ سے متعلق حفیظ پیرزادہ کی متناسب نمائندگی سے متعلق تقریر قومی اسمبلی سے متعلق ہے،سینٹ سے متعلق متناسب نمایندگی کی نہیں بلکہ قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کی بات کی۔چیف جسٹس نے اس موقع پر میاں رضا ربانی کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ آپ کی دلیل یہ ہے کہ متناسب نمائندگی صرف ووٹ گننے سے متعلق ہے،اگر سیاسی پارٹیاں تقسیم ہیں تو صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کی سینٹ میں کیسے نمائندگی ہوگی۔میاں رضا ربانی نے اس موقع پر بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ کسی پارٹی کی آپ کو صحیح متناسب نمائندگی نظر آئے،پنجاب صوبے میں پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت ہے،مجھے صحیح تعداد کا نہیں ہوتا،شاید پانچ یا چھے سیٹیں زیادہ ہوں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے اس موقع پر ریمارکس دئیے کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں اتحاد بھی کیا ہے،سیاسی اتحاد خفیہ نہیں ہوتے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون کا اطلاق کہاں ہوتا ہے،پارٹی اے کی چھے سیٹیں بنتی ہیں اور اسے دو ملی ہیں تو تب،پھر متناسب نمائندگی کہاں گئی،آئین بنانے والوں کی متناسب نمائندگی سے متعلق دانشمندی کہاں گئی۔جس پر پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی نے موقف اپنایا کہ یہ ریاضی کا سوال نہیں اور نہ یہ اے، بی یا پھر سی کی بات ہے،یہ سنیٹ ہے، یہ وفاق کا معاملہ ہے۔بعد ازاں معاملہ کی سماعت ایک دن کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں