مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلم اور اقلیتوں کے حقوق خطرے میں ہیں: اقوام متحدہ

نیو یارک ( سائوتھ ایشین وائر )

جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ پر اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر اپنے عوام کی نسلی، لسانی اور مذہبی شناخت کے احترام کے لیے مخصوص خودمختاری کی ضمانتوں کے ساتھ قائم کی گئی تھی، یہ ہندوستان کی واحد ریاست تھی جس میں مسلم اکثریت ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کو تشویش ہے کہ جموں و کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے اور نئے قوانین کے نفاذ کے فیصلے سے ملک میں مسلم اور دیگر اقلیتوں کی سیاسی شراکت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار اور زمین کی ملکیت سمیت اہم امور میں ان کے ساتھ امتیاز برتا جاسکتا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 5 اگست 2019 کو حکومت نے یکطرفہ اور بغیر صلاح مشورے کے جموں و کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت کو کالعدم قرار دے دیا اور مئی 2020 میں ڈومیسائل رولز پاس کیے جس نے اس علاقے سے ان لوگوں کو دی گئی حفاظت کو ختم کردیا، زمینی قوانین میں آنے والی تبدیلیاں ان تحفظات کو مزید ختم کرتی جارہی ہیں۔اقلیتوں کے امور کے خصوصی ترجمان فرنینڈ ڈی وارینس اور مذہب یا عقیدے کی آزادی کے خصوصی نمائندہ احمد شہید نے ساوتھ ایشین وائر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق اب جموں وکشمیر کے لوگوں کی اپنی حکومت نہیں ہے اور وہ اقلیتوں کی حیثیت سے اپنے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے خطے میں قانون سازی یا ترمیم کرنے کی طاقت سے محروم ہوگئے ہیں۔ماہرین کے مطابق نئی قانون سازی میں پچھلے قوانین کی پامالی کی گئی ہے جس میں کشمیری مسلمان ، ڈوگری ، گوجری ، پہاڑی ، سکھ ، لدھاکی اور دیگر قائم اقلیتوں کو جائیداد خریدنے ، اپنی زمین خریدنے اور کچھ سرکاری ملازمتوں تک رسائی کے حقوق دیئے گئے ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ان قانون سازی کی تبدیلیوں سے سابق ریاست جموں و کشمیر کے باہر سے آنے والے لوگوں کو خطے میں آباد ہونے، خطے کی آبادیاتی آبادی میں ردوبدل اور اقلیتوں کے انسانی حقوق کو موثر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کی راہ ہموار کرنے کی صلاحیت ہوسکتی ہے۔انہوں نے بھارتی حکومت کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ جموں و کشمیر کے عوام کے معاشی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کا تحفظ کیا جائے اور وہ اپنی سیاسی رائے کا اظہار کر سکتے ہوں، انسانی حقوق کے ماہرین اس معاملے میں حکومت ہند سے مسلسل رابطے میں ہیں۔غور طلب ہے کہ دفعہ 370 اور 35اے کی منسوخی کے بعد ہی مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر میں تنظیم نو قانون 2019 لاگو کرنے آئین ہند کے تحت بیشتر قوانین بھی نافذ کئے ہیں۔ ڈومسائل و اراضی قوانین لاگو ہونے سے مقامی لوگوں میں یہ تشویش ہے کہ جموں و کشمیر میں آبادی تناسب تبدیل ہونے کا خدشہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں