سفارتکاروں کا مقبوضہ کشمیر کا دورہ بھارت کے چہرے کی کالک دھو نہیں سکتا؛ سردار مسعود

اسلام آباد (ورلڈ ویوز اردو)بھارتی حکومت کی طرف سے دہلی میں مقیم غیر ملکی سفارت کاروں کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرانے کو دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اس طرح کے ڈراموں سے بھارت کے چہرے پر جمی کالک کبھی دھل نہیں سکتی ہے۔ نئی دہلی اور بھوٹان میں متعین یورپی، افریقی اور خلیجی ممالک کے سفیروں کے دورہ سرینگر پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت جب جموں و کشمیر جل رہا ہے، مودی حکومت دنیا کو یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہے کہ وہاں سب نارمل اور معمول کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اور مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والے سفارت کار کشمیر سے متعلق اصل حقیقت سے پوری طرح باخبر ہیں۔  یہ سفارت کار رواداری کا مظاہر کرتے ہوئے سرینگر ضرور گئے ہیں لیکن انہیں صرف چند منتخب مقامات کا  سخت حفاظتی انتظامات کے تحت دورہ کروایا گیا ہے جس سے قابض اور جارح ملک کے انسانیت کے خلاف جرائم پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ بھارت ماضی میں بھی اس طرح کی لا حاصل مشقیں کر کے کشمیر کے حوالے سے اپنے جھوٹے بیانیہ کو بیچنے کی کوشش کر چکا ہے لیکن وہ اس میں بری طرح ناکام ہوا اور اس بار بھی اپنے کوششوں میں ناکام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنے بیانیہ میں سچا ہے  تو وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے تجویز کردہ وفد کو مقبوضہ کشمیر میں دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ وہ  وہاں کی صورت حال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے سکے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ غیر ملکی سفیروں کے دورہ سری نگر کے موقع پر دنیا نے دیکھا کہ پوری مقبوضہ ریاست میں اس دورے کے خلاف بطور احتجاج کاروبار زندگی بند تھا، گلیاں، بازار اور سڑکیں سنسان تھیں، کشمیری والدین بھارتی فوج کی قید میں اپنے بچوں کی گھر واپسی کے انتظار میں اپنی آنکھیں پتھرا چکے تھے، پورا مقبوضہ علاقہ نو لاکھ قابض فوج کے محاصرے میں ہے اور کئی والدین اپنے ان نوجوان بچوں کی لاشیں قابض فوج سے واپس لینے کے لیے منتظر ہیں جنہیں قابض فوج نے آزادی کا نعرہ بلند کرنے پر قتل کر کے ان کی لاشیں اپنے پاس رکھ لی تھیں۔ یہ ہے وہ معمول کی زندگی جو بھارت دنیا کو ان سفارت کاروں کے ذریعہ دکھانا چاہتا ہے جنہوں نے خود بھی سری نگر کی خاموش گلیوں میں موت کے رینگتے سائے دیکھے ہوں گے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کو بھارت کی آنکھ سے دیکھنے کے بجائے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرے اور سچ، انصاف اور اعلیٰ انسانی اقدار کی بنیاد پر کشمیر کے انسانی المیہ کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے  خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری اپنے اس انسانی فریضہ کی ادائیگی میں ناکام ہو گئی تو کشمیریوں کے ساتھ پوری دنیا کو اس کے بھیانک نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں