سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ایک دن کے لیے ملتوی

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا ، بلوچستان اوراسلام آباد نے اٹارنی جنرل کے موقف کی تائید کر دی جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے آئینی ترمیم لازمی قرار دی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ افسوس پاکستان پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن میثاق جمہوریت معاہدے سے پھرگئے ، معاہدہ خفیہ طریقے کارکوختم کرنا تھا اب پرعمل نہیں کررہے۔ ریفرنس پر سماعت چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربینچ نے کی ، دوران سماعت چیف جسٹس کی ہدایت پرالیکشن کمیشن نے سینیٹ ووٹرزکا ہدایت نامہ پیش کیا ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے اٹارنی جنرل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ ہدایت نامہ میں متناسب نمائندگی اورخفیہ ووٹنگ کا ذکرہے اراکین اسمبلی اپنی پارٹی کے نظم ضبط کے پابند ہیں خلاف ورزی پرکارروائی ہوسکتی چیف جسٹس نے کارروائی سے متعلق پوچھا تواٹارنی جنرل نےبتایاکہ سزا صرف ووٹوں کی خریدوفروخت پرہوسکتی ہے نااہلی بھی ہوسکتی ہے تاہم سزا کوئی نہیں چیف جسٹس نے ریماکس دیے آرٹیکل 63 اے کا اطلاق سینٹ انتحابات پرنہیں ہوتا اورآرٹیکل 59 میں خفیہ ووٹنگ کا کوئی ذکرنہیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے آصف زردری کے دس نشستیں جیتنے کے بیان کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے کہاکہ عمومی گفتگوتوہوتی رہے گی قانون کی بات کریں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بولے آرٹیکل 226 کے تحت وزیراعظم اوروزراء اعلی کے علاوہ ہرالیکشن خفیہ رائے شماری سے ہوگا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا خفیہ رائے شماری میں متناسب نمائندگی نہ ہوئی توآئین کی خلاف ورزی ہوگی ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈوکیٹ جنرل سندھ سلطان طالب الدین نے دلائل دیے ایڈووکیٹ جنرل سندھ بولے کہ ہارس ٹریڈنگ کا سب نے سنا ہے شواہد کسی کے پاس نہیں عدالت کوسیاسی سوالات سے دوررہنا چاہیےچیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین بذات خود بھی ایک سیاسی دستاویزہے آئینی تشریح کرتے وقت عدالت سیاسی کام ہی کررہی ہوتی ہے ،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اوپن بیلٹ سے ہارس ٹریڈنگ ختم ہونے کا سوال اٹھایا تو چیف جسٹس نے کہاکہ اوپن بیلٹ سے ہارس ٹریڈنگ ختم ہوگی یا نہیں کچھ نہیں کہہ سکتے،افسوس ہے پاکستان پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن اپنے ہی معاہدے سے پھرگئے میثاق جمہوریت میں خفیہ طریقے کارکوختم کرنے کا معاہدہ کیا لیکن دونوں پارٹیاں اب اس پرعمل نہیں کررہیں، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے الیکشن کمیشن کے ترمیم کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آئیں کے آرٹیکل 226 میں ترمیم کیے بغیر وفاقی حکومت کی خواہش پوری نہیں ہوسکتی چیف جسٹس نے شکریہ کے ساتھ جانے کا کہا تو ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ دلائل ابھی مکمل نہیں ہوئے تاہم چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان کوروسٹرم پربلا لیا ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان اور ایڈوویٹ جنرل اسلام آباد نے بھی اٹارنی جنرل کے دلائل اپنائے عدالت نے سماعت ایک روز کیلئے ملتوی کردی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں