سردار تنویر الیاس کی وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ۔

معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے قریبی رشتہ دار کی سمری منظور کرنے کی سفارش کردی ۔

اسلام آباد (ورلڈ ویوز اردو) وزیرِ اعظم عمران خان سے معاونِ خصوصی وزیرِ اعلی پنجاب برائے سرمایہ کاری، تجارت و کاروبار سردار تنویر الیاس خان کی تفصیلی ملاقات ہوئی۔اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیر کشمیر و گلگت بلتستان امور علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی بھی شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق ملکی سیاسی صورتحال اور آزاد کشمیر میں آمدہ انتخابات کی تیاریوں پر گفتگو کے علاوہ تنویر الیاس نے مبینہ طور پر اپنے ایک قریبی رشتہ دار کی سمری منظور کرنے کی سفارش کی ہے ۔
ذرائع کے مطابق تنویر الیاس نے مبینہ طور پر اپنےقریبی رشتہ دار اظہر سلیم بابر کو چیف جسٹس آزاد کشمیر لگانے کی سمری منظور کی سفارش کی ہے ۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں ایکٹ 74 میں چودھویں ترمیم کے بعد ہائی کورٹ آزاد کشمیر کے قائم مقام چیف جسٹس اظہر سلیم بابر کو چیف جسٹس سپریم کورٹ لگانے کی سمری وزارت قانون نے منظوری کے بعد چیئرمین کشمیر کونسل (وزیراعظم پاکستان) کو بھیج رکھی ہے، جبکہ وزارت امور کشمیر، اٹارنی جنرل وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے سینئرز بیوروکریٹس سمیت پاکستان کی اہم عدالتی شخصیات کی جانب سے سینیئر جج کو بائی پاس کرکے ہائی کورٹ کے جج کو چیف جسٹس سپریم کورٹ لگانے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور پاکستان سمیت آزاد کشمیر بھر کی بار کونسل نے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے، وکلاء کے شدید ردعمل اور اعلیٰ شخصیات کے تحفظات کے بعدوزیراعظم پاکستان کی جانب سے تاحال اظہر سلیم بابر کو چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر لگائے جانے کی سمری منظور نہیں کی گئی ہے۔
دوسری جانب زرائع کا کہنا ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر راجہ سعید اکرم کے خلاف صدر آزاد کشمیر نے وزیراعظم پاکستان کو خط لکھ رکھا ہے جس میں راجہ سعید اکرم پر الزامات اور اظہر سلیم بابر کو چیف جسٹس لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں