خود کفیل ریاست جموں و کشمیر

زعفران حیدر لطیف راٹھور
آج صبح آنکھ کھلتے ہی ایک نوٹیفکیشن نظروں سے گزرا جس میں چیف سیکرٹری صاحب کے لئے 4 لاکھ اور آئی جی پی کے حق میں تقریباً تین لاکھ پچھتر ہزار کے سپیریئر ایگزیکٹو الاؤنس کی منظوری دی گئی ہے۔پہلے پہر تو یوں محسوس ہوا میں ایک خوشحال ریاست جموں و کشمیر کا باشندہ ہوں، ریاست جموں و کشمیر خود کفیل ریاست ہے۔ یہاں ہر سکول کے بچوں کو چھت میسر ہے، ہر ہسپتال میں ڈاکٹرز کی تعداد پوری ہے، ہر تحصیل میں طبی سہولیات میسر ہیں، ریاست میں کوئی بھوکا نہیں سوتا ،غریب و نادار افراد کی فلاح و بہبود کا بہترین نظام ہے، ریاست کی تمام سڑکیں بہترین معیار کے مطابق تعمیر ہوچکی ہیں، یہاں صحت،انصاف و تعلیم کی سہولیات ہر شہری کو مفت میسر ہیں۔کہیں کوئی مزدور بھوکا نہیں سوتا، ہر گلی و محلے میں سیوریج و پانی کا بہترین نظام موجود ہے ۔ آزاد کشمیر کے دور دراز حویلی و نیلم کے علاقوں میں مریض کو ہسپتال پہنچنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی پھر محسوس ہوا شاید میں خواب دیکھ رہا ہوں ۔میری ریاست میں تو غریب کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں، انفراسٹرکچر کا کوئی حال ہی، جہاں تعلیم ، انصاف و صحت جیسی بنیادی سہولیات باشندگان کو میسر نہیں، جہاں دور دراز علاقوں سے مریض کو ایمبولینس سروس کے بجائے چارپائی یا کندھوں پہ اٹھائے ہسپتال تک پہنچایا جاتا ہے اور پھر معلوم ہوتا ہے یہاں ڈاکٹر موجود نہیں اگر ڈاکٹر صاحب کہیں میسر ہوں تو وہاں ادوایات نہیں ملتی، میں ایسی ریاست کا باشندہ ہوں جہاں الیکشن کے فوراً بعد سب سے پہلا کام اپنے مخالفین اساتذہ کرام کے تبادلے ہیں اور یوں سارا محکمہ تعلیم سیاسی مداخلت کا شکار ہے ایسی ریاست میں تو یکدم 4 لاکھ کے الاؤنس کی منظوری تو نہیں دی جاسکتی لیکن شاید میں یہ بھول رہا تھا مراعات و الاؤنس ہمیشہ سے امراء کو حاصل ہوتے ہیں یہی وہ طبقہ ہے جو ریاستی وسائل پہ قابض رہتا ہے اور ۔یہی وہ لوگ ہیں جو عوام کے خادم کہلاتے ہیں مگر ہر شہری درحقیقت ان کا خادم ہوتا ہے۔
میرے وزیر اعظم مہاراج لینٹ آفیسران کے حق میں بھاری الاؤنس کی منظوری تو دے سکتے ہیں لیکن کہیں ٹاٹ پہ بیٹھے معصوم بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے چھت فراہم نہیں کرسکتے، وہ کسی ہسپتال میں ڈاکٹرز اور ادوایات تو نہیں فراہم کرسکتے مگر وہ لینٹ آفیسران کے ہاتھوں یرغمال ضرور بن سکتے ہیں۔ میرے وزیراعظم جامعات کے طلباء سے یوٹیلیٹی چارجز اور متفرق فنڈز کی مد میں بھاری رقم وصول کرنے پہ بضد ہیں اور مہاراج مفاد عامہ کے پروجیکٹ “لسڈنہ تولی پیر روڈ ” کے لئے فنڈز منظوری کی سمری تو مسترد کرتے ہیں مگر کینٹ آفیسران کے الاؤنس کی سمری مسترد نہیں کرسکتے

مہاراج یہ نہ بھولیں ہم معاشی طور پہ ابھی خود کفیل نہیں ہوئے ۔ ہم ابھی تعلیم، صحت و انصاف کی بنیادی سہولیات مفت فراہم نہیں کررہے لہذا لینٹ آفیسران کی خدمت گزاری میں اپنی توانائیاں صرف کرنے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود پہ توجہ دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں