جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی آزادکشمیر ماجد خان کو سیاسی جوڑ توڑ کے لیے قائم کمیٹی میں شامل نہ کرنے کی اصل وجہ سامنے آگئی ۔

اسلام آباد (علی حسنین نقوی) تحریک انصاف نے گلگت بلتستان میں کامیابی کے بعد آزاد کشمیر کے انتخابات کی تیاریوں کا باضابطہ آغاز کردیا ہے، آزاد کشمیر میں سیاسی جوڑ توڑ اور سیاسی شخصیات کی تحریک انصاف میں شمولیت کی نگرانی کے لیے 5 رکنی کمیٹی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہوگیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مرکزی نائب صدر ارشد داد کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، خواجہ فاروق اور راجہ منصور کمیٹی ممبران میں شامل ہیں لیکن حیران کن طور پر جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی آزاد کشمیر ماجد خان کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں ۔

ذرائع کے مطابق ماجد خان کو کمیٹی میں شامل نہ کرنے اور راجہ منصور کو کمیٹی کا حصہ بنانے پر پی ٹی آئی کارکنان تقسیم ہیں، ماجد خان کے حمایتی کارکنان ماجد خان کو اگنور کیے جانے پر غصہ میں ہیں اور ذرائع کے مطابق انہوں نے مرکزی قیادت کو اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان انتخابات سے قبل ماجد خان بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور سیف اللہ نیازی کی “گڈ لسٹ ” میں تھے لیکن جب سیف اللہ خان دورہ گلگت بلتستان پر تھے تو مرکزی جنرل سیکرٹری عامر کیانی نے سنٹرل آفس کا کنٹرول سنبھال لیا اور انہوں نے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے گورننگ باڈی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے جنرل سیکریٹری کو کہا جس پر ماجد خان نے گورننگ باڈی کو لائن حاضر کیا، اجلاس کی صدارت عامر کیانی نے کی۔اجلاس کی تصاویر سرکولیٹ ہونے کے بعد تنظیم میں موجود ماجد خان کے مخالفین نے یہ ثاثر پھیلانے کی کوشش کی کہ ماجد خان نے سیف اللہ نیازی کیمپ کو چھوڑ کر عامر کیانی کیمپ جوائن کرلیا اور یہ کوشش کافی حد تک کامیاب ہوئی اور ماجد خان سیف اللہ نیازی کی گڈ لسٹ سے آؤٹ ہوگئے ۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیرسٹر سلطان اور راجہ منصور کے اختلاف کی کہانی سے سب کے سامنے تھی لیکن ماجد خان کے حوالے سے جب عامر کیانی کیمپ جوائن کرنے کا ثاثر سامنے آیا اور راجہ منصور زیادہ سرگرم ہوگئے تو بیرسٹر سلطان نے راجہ منصور سے ہاتھ ملا لیا ۔
ذرائع کا کہنا ہے بیرسٹر سلطان کا ماجد خان کا ساتھ چھوڑنے کی بڑی وجہ یہ ہے بیرسٹر سلطان ماجد خان کی صلاحیتوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور راجہ منصور سے مطمئن ہیں۔
ذرائع کے مطابق ماجد خان اور انکے حمایتی کارکنان نے کمیٹی میں ماجد خان کا نام شامل نہ کرنے کے معاملے پر بھرپور احتجاج کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں