معصوم مقتول عمر مختار راٹھور کی روح کی چیخیں

تحریر: خلیق الرحمٰن سیفی ایڈووکیٹ

ہم اجتماعی طور پر بے حس انسانی ریوڑ پر مشتمل معاشرہ کہلاتے ہیں جس میں نہ تو انسانی اقدار والی کوئی چیز ہے اور نہ ہی معاشرہ کہلانے کا حق، مگر پھر بھی ہم بڑی دیدہ دلیری سے یہ ثابت کرنے میں مست گرداں ہیں کہ نہیں ہم قوم بھی ہیں اور معاشرہ بھی۔
ہمارے سامنے آئے روز ہمارے معصوم بیٹے اور بیٹیاں ہوس کا نشانہ بنتے ہیں اور موت کے منہ میں اتار دیے جاتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم اس معاشرتی جنازے کا تدارک کریں! ہم ایک دن سوگ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور پھر آنے والے کل بے حسی کی دنیا میں غرق ہو کر اسی مجرم کے ساتھ بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور یہ کیفیت ایک مدت سے ہم زندہ ریوڑ کا جنازہ ادا کر چکی ہے۔

عمر مختار ایک معصوم فرشتہ جسے ابھی تک محبت ہی محبت کا علم تھا۔ اسے یہی معلوم تھا کہ ہر شخص میری ماں اور ماں جیسے پیار اور محبت کا پیکر ہے۔ اسے نفرت نام اور سفاکیت کی تو ابھی خبر تک نہیں تھی کہ اس جہاں میں ایسی کوئی چیز بھی وجود رکھتی ہے۔ اس کی نیک سیرت ماں اس بچے کو تو مذہبی اور روحانی آداب سکھاتی نظر آتی تھی۔ اپنے بچے کو آدابِ معاشرت اور پیار کے درس دیتی تھی۔ اسے محبت مصطفیٰ صلی الله عليه وسلم میں گم ہو کر عشق کے ترانے ہی سکھاتی تھی۔ اس کی ماں اور درویش صفت باپ نے ابھی تک تو اسے یہ بتایا ہی نہ تھا کہ دنیا میں حرص، ہوس، لالچ اور نفرت نام کی بھی کوئی چیز ہے اسی لیے تو اس بچے کو ہر شخص میں ماں کی محبت اور باپ کی شفقت جاگزیں نظر آتی تھی۔ اس بچے نے تو یہ نہیں سوچا تھا کہ مجھ جیسے معصوم فرشتے کو بھی کسی درندہ صفت انسان سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تو وہ بے خوف و خطر باہر نکل گیا۔ کیونکہ امن و امان کا درس حاصل کرنے والے کو تو کسی خطرے کا اندیشہ ہی نہیں ہوتا ناں 😢

آج سے ایک سال قبل عمر کئی دنوں سے لاپتہ ہونے کے بعد اکک گھر کی الماری سے برآمد ہوتا ہے حالت ایسی کہ جس کو بیاں کرتے وقت زبان بے بس، لفظ خاموش اور جسم سکتے کی حالت اختیار کر جاتا ہے۔ اس معصوم صفت بچے کے قاتلوں کا سراغ بھی مل جاتا ہے۔ اقرارِ جرم بھی ہوتا ہے قاتلوں کے رشتہ دار بھی خود کو شرمندہ ظاہر کر کے قاتلوں کی سرکوبی کی خواہش اور عزم کا اظہار کرتے ہیں

مگر چند دن گزرتے ہی وہی لوگ ملزمان کے پشتبان بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔ وہی معاشرہ پھر سے درندوں کا وکیل بن جاتا ہے۔ وہی حاکم تجاہلِ عارفانہ کا شکار ہوتا ہے۔ مگر دوسری جانب وہ ماں ہر دن کے چڑھتے سورج کو عمر کے انصاف کا سورج تصور کرتی ہے۔ وہی باپ تھانے اور کچہرے کا چکر یہی سوچ کر امید لے کر لگاتا ہے کہ آج میرے معصوم فرشتے کو انصاف ملے گا۔

مختار راٹھور میرے بڑے بھائیوں جیسا انسان۔ بلند قامت ہونے کے ساتھ بلند اقدار اور بلند کردار کا مالک ہے۔ شرافت کے لبادے کے ساتھ استقامت کا پہاڑ نظر آتا تھا۔ معاشرے کیلئے کچھ منفرد کرنے کا جواں جذبہ لیے عازم سفر نظر آتا تھا۔ لیکن میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ جواں آج مجھے ایک بوڑھا شخص نظر آتا ہے، وہ عزم کا پیکر مجھے آج مایوسی کا شکار نظر آتا ہے۔ معاشرتی اقدار اور فلاحی معاشرے کے خواب دیکھنے اور دکھانے والا معاشرے سے دالبرداشتہ نظر آتا ہے۔ وہ آنکھوں میں روشن خواب لیے پھرنے والا کسی کھنڈرات کا باسی نظر آنے لگا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو؟؟؟؟ اس شخص کے خوابوں کا جنازہ نکالنے والے ہم ہیں، اس شخص کی ہمت توڑنے والے ہم ہیں، اس کے معصوم کا قتل کرنے میں ہم شامل ہیں۔ اس کے گھر کی رونق لوٹنے والے بھی ہم ہیں۔ اس لیے کہ ہم نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی، اس لیے کہ معاشرے کی اقدار کی پاسداری کیلئے ہم نے غفلت برتی۔

ایک سال سے اس معصوم کیلئے انصاف کی بیک مانگتے مانگتے ہم نے اس جواں کی کمر جھکتے دیکھی، ہم نے دیکھا کہ اس کے کالے بال ایک سال میں سفید ہو ئے، ہم نے دیکھا کہ اس کی روشن آنکھیں کالے حلقوں میں بدل گئیں۔
وہ اس لیے کہ قاتل اپنے انجام کا نہ پہنچ پائے، وہ اس لیے کہ ہمارا نظامِ عدل سستا اور فوری انصاف نہ دے سکا، وہ اس لیے کہ عمر کی ماں اپنے بچے کے انصاف کا سویرا دیکھنے میں ناکام ہوئی، وہ اس لیے کہ ماڈل کریمینل ٹرائیل کورٹ میں مقدمہ چلنے کے باوجود وہیں کا وہیں ہے۔

آج اگر ہم خاموش رہے تو کل وہ دور ایک میدان میں عمر ہمارا گریبان پکڑے گا، آج ہم خاموش رہے تو ایک ماں گھٹ گھٹ کے اپنے اندر ہی اندر مر جائے گی۔ ہمارے معاشرے ما ہر عمر اس ہوس اور سفاکیت کی بھینٹ چڑھے گا، ہماری گھروں کی روشنیاں تاریک ہو جائیں گی، ہمارے گل مرجھا جائیں گے۔ اور ہمارے احساس کے اجتماعی جنازے کی ادائیگی کا اعلان بھی عنقریب سنائی دے گا۔
کسی نے خوب کہا تھا کہ تاخیر سے ملنے والا انصاف، انصاف نہیں ہوتا۔ دیکھنا کہیں تاخیر ہوتے ہوتے بہت تاخیر نہ ہو جائے۔ اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں