انا پرستی

تحریر؛ اورنگزیب اعوان
انا پرستی ایک ایسا مرض ہے. جس کا علاج آج تک دنیا دریافت نہیں کر سکی. بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ مرض زیادہ ہی سرایت کر چکا ہے. ہر فرد اس مرض میں مبتلا ہو چکا ہے. وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے انسان کی بات سننے کو ہرگز تیار نہیں. ہمارا حکمران طبقہ کسی حد تک زیادہ ہی اس مرض سے متاثر نظر آتا ہے. جو بھی اقتدار میں آتا ہے. وہ دوسروں کو خود سے حقیر تر سمجھنا شروع کر دیتا ہے. وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتا ہے کہ آج تک نہ ہی کوئی اس سے بہتر آیا ہے اور نہ ہی آیندہ آئے گا. یہی سوچ اس کے زوال کا سبب بننا شروع ہو جاتی ہے. جس کا خمیازہ ملک و قوم کو بھگتنا پڑتا ہے. ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہو گا کہ تمام تر خرابیوں کے پیچھے یہی محرک کارفرما ہے. وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کو اچھوت تصور کرتے ہوئے. ان سے ہاتھ تک ملانے کو تیار نہیں. مل کر بیٹھنا تو بہت دور کی بات ہے. آج ملک پاکستان جن مشکلات سے دوچار ہیں. یہ ہمارے حکمرانوں کی خود ساختہ پیدا کردہ ہیں. ملکی ترقی کے لئے موثر قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے. جس کے لیے اپوزیشن جماعتوں کا کردار ہمیشہ سے ہی اہم رہا ہے. مگر ہمارے ملک میں ہر حکمران نے انا پرستی کا لبادہ اوڑھتے ہوئے. اپوزیشن جماعتوں کو نظر انداز کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے.جس کی بدولت ملکی ترقی میں خلل پڑتا رہا ہے. کچھ غیر جمہوری قوتیں بھی اس عمل میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہیں. مگر زیادہ تر عمل دخل ہمارے سیاست دانوں کا اپنا رہا ہے. برسر اقتدار جماعت اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے چکر میں ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتی ہے.جس سے اس کی اپنی سیاسی ساخت کو بھی نقصان پہنچتا ہے. کیونکہ اپوزیشن جماعتیں اپنی بقاء کے لیے جدوجہد کرتی ہیں. اور حکمران جماعت کے خلاف منظم صف بندی کرتی ہیں. پاکستان تحریک انصاف پہلی بار اقتدار میں آئی ہے. اس لیے وہ شدت سے اس مرض کی شکار نظر آتی ہے. اس کے برعکس پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی متعدد بار اقتدار کے ایوانوں میں راج کر چکی ہیں. اور انہوں نے اپنے تجربات سے یہ بات سیکھ لی ہے کہ جو غیر جمہوری طاقتیں ان کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں. ان سے ہر صورت بچنا ہے. اسی مقصد کے حصول کے لیے سابق وزرائے اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اورمیاں محمد نواز شریف نے آپس میں چارٹرڈ آف ڈیموکریسی پر اتفاق کیا تھا. جس کے نتیجہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت 2008 سے لیکر 2013 تک کسی اپوزیشن جماعت کے خلاف نہ مقدمہ درج ہوا اور نہ ہی کوئی سیاسی گرفتاری عمل میں لائی گئ. اسی طرح سے پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت 2013 سے 2018 کے دوران کوئی سیاسی گرفتاری نہیں ہوئی. یقیناً یہ ان دونوں سیاسی جماعتوں کی سیاسی پختگی کا ثمر تھا. کہ ان کے ادوار میں عوام کو سکھ کا سانس لینے کو ملا. مگر پاکستان تحریک انصاف کیوں کے ایک نومود سیاسی پارٹی تھی اور ہر صورت اقتدار کے ایوان میں جانا چاہتی تھی. اس لیے اس نے ایک منتخب حکومت کے خلاف خفیہ طاقتوں کے اشارے پر دھرنا دے دیا. اسے حکومت وقت کی طرف سے بہت سمجھایا گیا. کہ چین کے صدر نے ملک کا دورہ کرنا ہے. آپ اسلام آباد سے دھرنا ختم کردے. چینی صدر کے دورہ ملتوی ہونے کی صورت میں ملک کو ناتلافی نقصان اٹھانا پڑے گا. مگر عمران خان اپنی انا پرستی اور ہٹ دھرمی سے پیچھے ہٹنے کو کسی صورت تیار نہیں تھے. انہوں نے اسلام آباد سے اپنا دھرنا ختم نہ کیا. جس کے نتیجہ میں چین کے صدر کا دورہ ملتوی ہو گیا. اس کے بعد چار سال تک مسلسل پاکستان تحریک انصاف نے حکومت وقت کے خلاف ملک بھر میں جلسے جلوس جاری رکھے. اب پاکستان تحریک انصاف کو حکومت سازی کا موقع مل گیا ہے. اور ان کے دور حکومت میں کورونا وائرس جیسے مرض نے سر اٹھایا ہے. جس سے نبردآزما ہونا اکیلے حکومت وقت کےبس کی بات نہیں. اس کے لیے اسے اپوزیشن جماعتوں کا تعاون درکار ہے. مگر پاکستان تحریک انصاف نے عدم برداشت کا جو کلچر پروان چڑھایا ہے. جس کے تحت اس کے رہنما و کارکن کسی کی بھی بات سننے کو تیار نہیں. وہ اپنے سیاسی مخالف سے گالم گلوچ سے بات کا آغاز کرتے ہیں.اب حکومت وقت کی انتقامی کارروائیوں اور نااہلی سے تنگ آکر اپوزیشن جماعتوں نے پی ڈی ایم (پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ) کے پیلٹ فارم سے عوام کو اس سے نجات دلوانے کے لیے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہے
جس کے تحت ملک کے طول و عرض میں جلسے جلوسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے. جس سے خائف ہوکر حکومت وقت اب کورونا وائرس کا رونا رو رہی ہے. کیونکہ اسے خوف ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی تحریک کامیاب ہو گئ تو اس کے نتیجہ میں ہمارا گھر جانا ٹھہر چکا ہے. اب اپوزیشن جماعتیں حکومت کی کسی منطق کو ماننے کو تیار نہیں. وہ ہر صورت احتجاج کرنے کو اپنا آئینی حق قرار دے رہی ہیں. وزیراعظم عمران خان نے ماضی میں جو فصل بیجی تھی آج انہیں کاٹنی پڑ رہی ہے.
کل تک احتجاج کو اپنا آئینی حق کہنے والے کس منہ سے اپوزیشن کو اس سے منع کر رہے ہیں. کس ملکی قانون کے تحت بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعہ سے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کر رہی ہے. وزیراعظم عمران خان آپ نے خود کو جس انا پرستی کے خول میں چھپا رکھا ہے. اس کے نتائج کسی بھی صورت سود مند ثابت نہیں ہوگے. آپ اس انا پرستی کی بدولت تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں. آپ کے اتحادی بھی ایک ایک کر کے آپ کو چھوڑتے جا رہے ہیں. کیونکہ آپ فیصلہ سازی میں اپنے کسی اتحادی کو اعتماد میں لینا پسند نہیں کرتے. شاید آپ کے نزدیک یہ سب عقل سے عاری لوگ ہیں. آپ کی اسی انا پرستی کی وجہ سے بہت جلد آپ کے اقتدار کا سورج غروب ہونے والا ہے. آپ اپنے موجودہ رویہ کی اصلاح کرنے کی بجائے سختی سے اس پر کاربند ہے. سیاست تو نام ہی بردباری، افہام و تفہیم کا ہے. ضد اور ہٹ دھرمی کی سیاست کے کھیل میں کوئی گنجائش نہیں ہے. جس کسی نے انا پرستی کو ملکی مفاد پر ترجیح دی ہے وہ ماضی میں نشان عبرت بن کر رہ گیا ہیں. آج اگر اپوزیشن کی تمام جماعتیں اپنے اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے. ایک نقطہ پر متفق ہیں. تو یہ عمل ان کی سیاسی پختگی کی نشان دہی کر رہا ہے.اس کے برعکس آپ نے اپنے طرز عمل اور انا پرستی کی بدولت خود کو تنہائی کا شکار کر لیا ہے. اور آپ کا یہ عمل آپ کے سیاسی اناڑی پن کو ظاہر کر رہا ہے. آپ روزانہ میڈیا چینلز پر بیٹھ کر عورتوں کی طرح اپنے سیاسی مخالفین کو کوستے ہیں. اس کی بجائے کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے ذاتی رویہ کے بارے میں ہی غورو فکر کر لیں. کہ کیا وجہ ہے جو میرے لیے روز بہ روز مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں. تو جو بات آپ کے سامنے کھل کر آئے گی وہ آپ کی ضد اور اناپرستی ہے. اگر آپ اس کو ترک کر دے تو آپ کی آدھی سے زیادہ مشکلات کا خود ہی قلع قمع ہو جائے گا. اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آپ کی حکومت پر کی جانے والی تنقید آپ کے لیے سود مند ثابت ہوسکتی ہے. اگر آپ اس تنقید کو مثبت سوچ میں لیں. تو آپ کو اپنی کمزوریوں کودور کرنے میں مدد ملے گی. ہر مہذب و ترقی یافتہ ملک میں اپوزیشن حکومت کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرتی ہے . اور ان ممالک میں حکومت اپوزیشن کی تنقید کو کھولے دل سے تسلیم کرتے ہوئے. اس کو مذاکرات کی دعوت دیتی ہے. کہ آئے مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرے. کیونکہ ان ممالک میں حکومت اپنے ذاتی مفادات کے لیے نہیں کی جاتی بلکہ ملک و قوم کی بہتری کو ملحوظ خاطر رکھ کر کی جاتی ہے. پتہ نہیں ہم بحثیت قوم ان ممالک سے کب سیکھ پائے گے. کہ ملکی مفاد پر ذاتی مفادات کو قطعاً ترجیحی نہ دی جائے. ہمارے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کا ماضی انا پرستی کے مرض سے داغ دار ہے. وقت کی نازکت اور ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت وقت اور اپوزیشن جماعتوں کو انا پرستی کو پس پست ڈالتے ہوئے. یکجا ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے. اس کے لیے پہل وزیراعظم عمران خان کو کرنا ہوگی. کیونکہ وہ اس وقت حکومت کے سربراہ ہے.انہیں این آر او کی گردان چھوڑ کر کھلے دل سے اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دینا ہوگی. دوسری صورت میں اسے اپوزیشن کی جانب سے چلائی جانے والی احتجاجی تحریک کا سامنا کرنا پڑے گا. جس کے نتائج کسی بھی صورت میں ملک و قوم کے لیے کارآمد نہیں ہوگے. حکومت اور اپوزیشن کی انا پرستی اس ملک کے لیے زیر قاتل ہے. ان کی انا پرستی اور ہٹ دھرمی ملک و قوم کے مفاد میں کسی صورت نہیں. وقت کا تقاضا ہے کہ سب کو باہمی گلے شکوے بھلا کر ملکی ترقی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے. مل جل کر افہام و تفہیم سے حکومتی امور کو مثبت انداز میں سر انجام دینا چاہیے . ورنہ کل کو مورخ تاریخ راقم کرتے ہوئے.انہیں کسی صورت معاف نہیں کرے گا. وہ ملکی زوال کا سبب انہیں لوگوں کو ٹھہرائے گا. آج بھی وقت ہے. کہ تمام سیاسی رہمنا انا پرستی کےلبادہ کو اتار پھینکے اور ملکی ترقی و مفاد کی خاطر یکجا ہو کر کام کریں.
کوئی بھی پہل نہ کرنے کی ٹھان بیٹھا تھا.
انا پرست تھے دونوں مفاہمت نہ ہوئی.

اپنا تبصرہ بھیجیں