بیرسٹر سلطان اور تنویر الیاس کے درمیان پاور شئیرنگ فارمولے پر اتفاق کی پہلی کوشش ناکام، ذرائع

اسلام آباد (علی حسنین )وزیراعلی پنجاب کے معاون خصوصی، چیئرمین پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اور معروف کشمیری بزنس مین سردار تنویر الیاس خان کی جانب سے آزادکشمیر کے آمدہ الیکشن میں وسطی باغ سے میدان میں اترنے کی خواہش نے پی ٹی آئی آزادکشمیر میں ہلچل مچا دی، پہلے سے ہی خدشات کا شکار پارٹی صدر بیرسٹر سلطان کی مشکلات میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ ماضی میں بیرسٹر سلطان کا راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرنے والے گروپ کو سردار تنویر الیاس کی شکل میں نئی امید نظر آنے لگی۔ بیرسٹر سلطان اور تنویر الیاس کے مشترکہ دوست دونوں رہنماؤں کے درمیان پاور شیئرنگ فارمولے پر اتفاق کرانے کیلئے متحرک ہوگئے تاہم ذرائع کے مطابق پہلی کوشش بارآور نہ ہو سکی سردار بیرسٹر سلطان کی خود وزارت عظمی اور سردار تنویر الیاس کو صدارت کا منصب قبول کرنے کی پیشکش جبکہ تنویر الیاس یہ فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت پر چھوڑنے پر بضد جس وجہ سے کسی فارمولے پر اتفاق نہ ہو سکا اور ڈیڈ لاک برقرار ہے جس کے بعد سردار تنویر الیاس کی جانب سے آمدہ الیلشن میں دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے کے بیان پر بیرسٹر سلطان کے حلقوں کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے اور اسے پارٹی پالیسی کے مغائر قرار دیا جا رہا ہے اور پوچھا جارہا ہے کہ انہوں نے یہ بات کس اختیار کے تحت کی ہے۔ واضح رہے کہ سردار تنویر الیاس کی جانب سے وسطی باغ سے الیکشن لڑنے کا امکان ظاہر کرنے کے بعد حلقے میں موجود پارٹی کارکنوں کی جانب سے بھی ان کے خلاف بیانات دیئے جا رہے ہیں تاہم پارٹی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد انہیں ویلکم کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ واضح رہے کہ سردار تنویر الیاس کا تعلق راولاکوٹ سے ہے اور ان کے چچا سردار صغیر چغتائی مسلم کانفرنس کے رکن اسمبلی ہیں اس لئے وہ اس حلقے کے بجائے وسطی باغ سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ ادھر پی ٹی آئی آزاد کشمیر کا ایک گروپ جو ماضی میں بیرسٹر سلطان کے مقابلے میں سابق سپیکر اسمبلی چوہدری انوار الحق کو پارٹ صدر بنانے کی کوشش کرتا رہا مگر کامیاب نہ ہو سکا تھا سردار تنویر الیاس کی صورت میں انہیں بیرسٹر سلطان کے مقابلے میں صدارت کیلئے ایک بار پھر تگڑا امیدوار میسر آگیا ہے لیکن فی الحال سردار تنویر الیاس اس گروپ کے ہتھے نہیں چڑھ سکے۔ اس گروپ کی قیادت سابق پارٹی سیکریٹری جنرل راجہ مصدق کے ہاتھ میں ہے لیکن میرپور کے ضمنی الیلشن میں بیرسٹر سلطان کی مخالفت کرنے کی پاداش میں انہیں مرکزی سیکریٹری جنرل کے عہدے سے ہٹا کر انہیں ایک غیر فعال عہدہ دیا گیا ہے جس کے بعد اپنے گروپ پر بھی ان کا عملی کنٹرول ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ ادھر تحریک انصاف لے مرکزی سیکریٹری جنرل کے معاون خصوصی برائے امور آزادکشمیر نعمان شاہ بھی آزادکشمیر کے سیاسی معاملات میں دلچسپی لینا شروع ہوگئے ہیں اور عامر کیانی کی جانب سے ایک ایڈوائزری کونسل بھی تشکیل دی جاچکی ہے جو سیکریٹری جنرل کو سفارشات مرتب کرکے بھیجے گی جس پر حتمی فیصلے کا اختیار مرکزی سیکریٹری جنرل عامر کیانی کو ہو گا جبکہ دوسری طرف چیف آرگنائزر پی ٹی آئی ایف اللہ نیازی مرکزی سیکریٹریٹ میں بیٹھ کر الگ سے آزادکشمیر کے امور کو مانیٹر کررہے ہیں جن کے ساتھ پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل عبدالماجد خان، سیکریٹری اطلاعات ارشاد محمود اور ایڈیشنل سیکریٹری جنرل راجہ منصور مکمل تعاون کررہے ہیں جبکہ آزادکشمیر کی سیاسی شخصیات جو دوسری جماعتیں چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہورہی ہیں وہ بیرسٹر سلطان کی موجودگی میں اعلان کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں جو سیف اللہ نیازی اور عامر کیانی کیلئے بھی ایک چیلنج ہے۔ اب سردار تنویر الیاس کے اس اکھاڑے میں اترنے کے بعد بیرسٹر مخالف قوتوں کو امید کی نئی کرن مل گئی ہے اب دیکھنا ہے کہ آزادکشمیر کی یہ دو بڑی شخصیات کسی ایک فارمولے پر متفق ہوتی ہیں یا متحاربین کی صورت میں میدان میں اترتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں