24اکتوبر یوم تاسیس اور اقوام متحدہ کا عالمی دن

تحریر :نجیب الغفور خان(انچارج میڈیا جموں و کشمیر لبریشن سیل)
24اکتوبر کشمیریوں کی تاریخ کا اہم اور یادگار دن ہے،اس دن جہاں آزاد کشمیر کی عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔وہاں اقوام متحدہ کا عالمی دن بھی 24 اکتوبرکوہی منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1945 ء میں اقوام متحدہ کے منشور کے نافذالعمل ہونے کی سالگرہ کی یاد تازہ کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔جس کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو اقوام متحدہ کے مقاصد اور کارناموں سے متعارف کروانا ہے۔کشمیریوں نے بھی بھارتی غلامی سے آزادی اور حق خودارادیت کے حصول کے لئے 24 اکتوبر 1947کو آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی بنیاد رکھی۔24 اکتوبر 1947کو ظالم ڈوگرہ حکمرانوں کے تسلط کے خلاف کشمیریوں نے مسلح جدو جہد کرکے ریاست جموں و کشمیر کا ایک حصہ آزاد کرایا اور آزاد کشمیر کے نام سے کشمیریوں کی نمائندہ حکومت کی بنیاد ڈالی۔ اس دن کو آزادکشمیر کے یوم تاسیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔یوم تاسیس کے موقع پر کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے اور بھارتی ناجائز فوجی قبضے کے خاتمے کے لئے جانیں قربان کرنے والے محسنوں کو بھی یاد کیا جاتا ہے۔یوم تاسیس کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور نوجوان نسل کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے روشناس کروانے کے لئے جموں و کشمیر لبریشن سیل کے تمام ونگز نے مختلف پروگرامات ترتیب دئیے ہیں۔جبکہ 24اکتوبریوم تاسیس اور 27اکتوبر یوم سیاہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خصوصی کیمپینزبھی شروع کی گئی ہیں۔ 1947میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی ولولہ انگیز قیادت میں کشمیری حریت پسندوں نے ڈوگرہ راج کے خلا ف مسلع جدوجہد کا آغاز کیا،جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر کا یہ خطہ آزاد ہوااور اور غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان اس کے بانی صدر منتخب ہوئے۔آزاد حکومت کے قیام کا بنیادی مقصد آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کا بیس کیمپ قرار دے کر باقی کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا تھا۔غازی ملت سردار محمد ابراہیم نے آزاد حکومت کے قیام کے ساتھ ہی ایک شاندار خطاب فرمایا تھا،جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اُنہوں نے ا پنے خطاب میں فرمایا کہ عبوری حکومت کے قیام کا مقصد ڈوگرہ راج کے ناقابل برداشت مظالم اور اسکی زیادتیوں کا خاتمہ ہے،تاکہ ریاست کے عوام بشمول مسلمانوں،ہندووں اور سکھوں کو حکومت خود اختیاری کا حق حاصل ہو سکے۔ریاست کے کچھ علاقوں پر اپنا اقتدار مستحکم بنیادوں پر قائم کردیا ہے اوراُمید ہے کہ ڈوگرہ راج کے زیر تسلط ریاست کے بقیہ علاقوں کو بھی جلد آزاد کر وادیا جائے گا۔ عبوری حکومت اپنی ہمسایہ مملکتوں پاکستان اور بھارت کے بارے میں انتہائی دوستانہ اور اچھے جذبات رکھتی ہے۔اور توقع رکھتی ہے کہ دونوں مملکتیں جموں کشمیر کے عوام کی ان کوششوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کریں گی۔جو اپنی آزادی کے حصول کے حق کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔مگر بدقسمتی سے کشمیری 73سال گزرنے کے باوجود ریاست جموں و کشمیر کا بقیہ حصہ بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزاد حاصل نہیں کرہو سکا۔بلکہ روز بروز بھارت کے مظالم بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ گزشتہ برس 5 اگست کو مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو د وحصوں میں تقسیم کیا تھا اور وادی کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے وہاں غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی اجازت بھی دی تھی۔ایک سال سے زائد جاری محاصرے میں نہ صرف اظہار رائے پر پابندی ہے بلکہ ہسپتالوں تک رسائی پر بھی پابندی ہے، اس لاک ڈاؤن سے کشمیر کی معیشت کو 4 ارب ڈالرسے زائد کا نقصان ہوا ہے اور یہ نقصان بھارتی حکومت کا نہیں بلکہ اس عوام کا ہے جو ڈوگرا راج سے آج تک جدو جہد میں مشغول ہیں۔ بھارت جمہوری ملک کا دعوی کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ کشمیریوں کو مکمل آزادی دے اور ان کو جمہوری طریقے سے رہنے کا حق بھی دینا چاہیے۔مگر وہ مقبو ضہ کشمیر میں نہتے اور معصوم کشمیر یوں پر ظلم و بربریت کی انتہاء کئے ہوئے ہے۔کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ معصوم کشمیریوں کے جذبہ حریت سے گھبرا کر قابض فورسز نے چھروں سے کشمیریوں کی بینائی چھیننا شروع کر دی معصوم انسانوں پر ظلم و بربریت کے وہ حربے استعمال کئے جا رہے ہیں جن سے انسانیت شرما جا تی ہے۔مقبو ضہ وادی میں قا بض فورسز نے خواتین کے بال کاٹنے جیسے انسانیت سوز مظالم سے کشمیریوں کی تحریک کو دبانے کی ناکام کوشش شروع کر دی ہے مگر ہندوستانی قابض فورسز کسی طرح بھی جذبہ آزادی کو دبانے میں کا میا ب نہیں ہو سکتیں۔ مقبوضہ کشمیر میں آئے روزقتل وغارت گری بھارتی حکومت کی کھلم کھلا دہشت گردی ہے۔ اس مظلوم خطہ میں بے شمار لوگوں کی زندگیاں ویران ہو چکی ہیں۔ بھارتی حکومت کی دہشت گردی عالمی اداروں کے منہ پر کھلا طمانچہ ہے کہ وہ انسانی حقوق کے دعویٰ دار بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور بندوق کے زور پر کشمیریوں کو غلام رکھنے کا نوٹس لیں۔ ایک لاکھ سے زاہد کشمیری شہید، ہزاروں کی تعداد میں معذور، لاتعداد خواتین کی آبرو ریزی اور بہت بڑی تعداد میں خواتین کے سہاگ اجا ڑ دیے گئے اور معصوم بچوں کو یتیم کر دیا گیا مگر نہ ہی بھارت کا ظلم و ستم سے ہاتھ رک رہا ہے اور نہ ہی کشمیریوں کی اس تحریک میں کمی آ رہی ہے عالمی اداروں اور بالخصوص اقوام متحدہ کا کردار انتہائی مایوس کن ہے۔آج اقوام متحدہ کا عالمی دن ہے۔اورمقبوضہ کشمیرمیں اب تک رونما ہونے والے انسانی المیے کی واحد وجہ اقوام متحدہ ہی ہے کہ وہ اب تک اپنی ہی متفقہ منظور کی گئی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیے جانے کے باوجود ابھی تک بھارت کو مجبور نہیں کیا جاسکا کہ وہ کشمیر میں استصواب رائے کروائے۔ اگر اقوام متحدہ کا ادارہ اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کررہا ہوتاتو آج دنیا میں جنگ و جدل کا بازار یوں نہ گرم ہوتا۔ امریکا نے جس ملک پر بھی چڑھائی کی، اس کے لیے اخلاقی جواز اقوام متحدہ نے ہی مہیا کیا۔ اسی طرح کمزور ممالک یا فریق کو ایک مرتبہ بھی اقوام متحدہ نے کوئی مدد فراہم نہیں کی۔ اسرائیل کا فلسطین پر اور بھارت کا کشمیر پر قبضہ، ایسے ہی معاملات ہیں جو نصف صدی سے زاید سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب موجود ہیں مگر اقوام متحدہ جیسا ادارہ انہیں حل کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔ آج اقوام متحدہ کے عالمی دن پر اگر کشمیر جیسے بنیادی اور اہم مسئلے کا حل کرنے کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو پھر اس ادارے کے قیام کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں