معید یوسف کا انٹرویو اور کشمیری قیادت ۔

تحریر :علی حسنین نقوی /جنبش قلم

گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے ہندوستان کے ایک مشہور صحافی کرن تھاپر کو یوٹیوب چینل ” دی وائر” پر 5 اگست 2019 کے بعد پہلا اور طویل ویڈیو انٹرویو دیا ۔معید یوسف اور کرن تھاپر کے درمیان تلخ سوالات کی جنگ 75 منٹ تک جاری رہی۔
معید یوسف کا انٹرویو موجودہ حالات میں کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل تھا,ایک تو معید یوسف کا انٹرویو دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے بند دروازے کھلنے کی جانب پہلے قدم کی امید تھی اور دوسرا 5 اگست کے بعد عام عوام کے سامنے کشمیر ایشو پر ہونے والی پہلی گفتگو تھی۔

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی نے اپنے 75 منٹ کے انٹرویو میں سوالات کا سامنا بہت پراعتماد اور سنجیدہ لب و لہجے سے کیا اور کوشش کی دلیل سے جواب دیا جائے لیکن قضیہ کشمیر کے بارے میں بہتر علم رکھنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ معید یوسف کا انٹرویو مذید بہتر ہوسکتا تھا اگر دلائل پر گرفت مضبوط رکھی گئی ہوتی۔

جموں کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کے صدر ڈاکٹر نذیر گیلانی اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ “گو کہ معید یوسف نے انٹرویو بہت پراعتماد طریقے سے نمٹایا لیکن انٹرویو میں قضیہ کشمیر پر دلائل کی کمی تھی، اس سنہری موقع پر ہندوستان کو بہترین طریقے سے بےنقاب کیا جاسکتا تھا، اس سلسلے میں معید یوسف کو کشمیری سکالر اور فقہ کو سمجھنے والوں کے ساتھ ایک نہیں بلکہ مرحلہ وار بے شمار بیٹھک کرنے کی ضرورت ہے ۔

بیس کیمپ کی قیادت کا ردعمل :
معید یوسف کے انٹرویو پر کشمیری قیادت کی اکثریت تعریفوں کے پل باندھتے نظر آئی، کسی نے کہا کہ معید یوسف نے کرن تھاپر کی بینڈ بجا دی تو کسی نے اپنے کالم میں لکھا کہ معید یوسف نے مشرف کی یاد تازہ کردی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معید یوسف کا انٹرویو جیسا بھی تھا لیکن73 سالوں میں کشمیری قیادت نے کشمیر ایشو پر خود کو کس حد تک مضبوط کیا؟ 5 اگست کے بعد سے کتنے کشمیری لیڈران نے کسی بڑے عوامی اجتماع، ٹی وی شو یا انٹرنیشنل لیول پر کشمیر ایشو قانونی پہلو پر دلائل سے بات کی؟ کتنے کشمیری لیڈران ایسے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا واویلا مچاتے ہیں اور ان پر بات بھی کرسکتے ہیں؟

حریت کانفرنس:

1 سال اور تقریباً 3 ماہ پہلے ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

کرکے متنازعہ ریاست کے ایک حصے کو یونین ٹریٹری کا درجہ دیا، اسکے بعد متنازعہ ریاست اس حصے میں کرفیو، لاک ڈاؤن اور ہندؤوں کی آبادکاری تک جو کچھ ہوتا رہا اور ہورہا ہے وہ ڈھکا چھپا نہیں ہے تو اس سارے عرصے میں آزادی کے بیس کیمپ کی قیادت نے ریاست بچانے کے کیا کیا؟
تحریک آزادی کی چیمپئن حریت کانفرنس کی قیادت نے بزنس ڈویلپمنٹ کے علاوہ کونسے تیر مارے؟
آزادکشمیر حکومت تو چلیں پھر ایک سیٹ اپ کی دھکم پیل میں لگی ہوئی، اسکی اقوام متحدہ میں ایک لوکل اتھارٹی کی ایک تسلیم شدہ حیثیت ہے لیکن یہ حریت کانفرنس کی محلوں میں رہنے والی مخملی بستروں پر سونے والی قیادت اپنا کام بتادے کہ یہ سہل زندگی گزارنے کے علاوہ اپنے بزنسز کو بڑھاوا دینے کے علاوہ کیا کررہے ہیں؟

کیا 73 سالوں میں کشمیری قیادت کوئی ایسا شخص تیار نہیں کرسکی جو زیادہ نہیں تو کم از کم معید یوسف کی طرح ہی بات کرسکتا؟ تو اس کا جواب ہے کہ نہیں کیونکہ ہمیں اسکی ضرورت ہی کبھی محسوس نہیں ہوئی، کشمیر تو ہمارے لیے دھندہ ہے جیب بھرنے کا، رونا دھونا، مگرمچھ کے آنسو بہانا، چار پیسے جیب میں ڈالنا اور تتر بتر ہوجانا، ریاست ٹوٹ گئی اور آزادی کے بیس کیمپ میں اقتدار پرستی اور مفاد پرستی کا کھیل جاری رہا، پاکستان کے کسی وزیر، مشیر نے اگر کشمیر کے حق میں دو چار باتیں کہہ دی تو ہم نے تالیاں بجا دی۔ریاست ٹوٹ گئی اور تحریک آزادی کی چمپین حریت کانفرنس پہلے عہدوں کی جنگ میں رہی اور پھر اپنے اپنے کاروبار کو بڑھاوا دینے میں مگن ہوگئی، دو چار لوگوں کو ساتھ لیا دو چار نعرے مارے ،ہندوستان کو گالیاں دی اور فرض پورا ہوگیا، یہی ہمارا کشمیر ایشو ہے اور یہی جنگ ہے ۔

ایک عام کشمیری کا، ایک کشمیری مہاجر کے آج بھی سوالات وہی ہے کہ ہم نے قربانیاں کیوں دی تھیں؟ اس لیے بیس کیمپ کی قیادت ہماری قربانیوں پر سیاست کرے اورہم کسم پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہیں، کیا ہم نے قربانیاں اس لیے دی تھیں کہ حریت کانفرنس کے مہاجر لیڈران انکی قربانیاں بیچ کر محلوں میں رہیں خود بھی اسائش سے بھرپور زندگی جئیں اور اپنے بچوں کو بھی غریب کشمیریوں پر مسلط کرنے کے لیے تیار کریں؟

معید یوسف کا انٹرویو بہت حد تک بہترین تھا لیکن کشمیری قیادت کو عام کشمیری کے سوال کا جواب دینا ہوگا کہ 73 سالوں میں میں اگر ایک معید یوسف جیسا نہیں تیار کرسکے تو کونسے کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں؟ جواب تو دینا ہوگا آج نہیں تو کل۔

اپنا تبصرہ بھیجیں