قاتل مسیحآ ’عاصمہ گردیزی


تحریر. عاصمہ گردیزی
صحت اللہ تعالی کی طرف سے عطا کیا گیا عظیم تحفہ ہے۔ جو لوگ اس تحفہ کی قدر کرتے ہیں وہ رب تعالی کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتے۔ اور جو لوگ لا پرواہی کرتے ہیں وہ ہمیشہ اپنے آپ سے نالاں اور رب تعالی سے شکوہ کناں نظر آتے ہیں۔ مسلمان کا ایمان ہے کہ جب اللہ رب العزت کسی کو آزمائش میں ڈالنا چاہتے ہیں تو کسی بیماری میں مبتلا کرتے ہیں یا تنگد ستی دے کر آزماتے ہیں۔ جو لوگ ایمان کامل رکھتے ہیں وہ اس آزمائش میں صبر و ہمت سے کام لیتے ہیں اور سرخروئی پا لیتے ہیں بقیہ ہم سے گناہ گار تو کڑھ کڑھ کر رہی سہی کسر بھی نکال لیتے ہیں ۔ اس جہاں میں تو تکلیف پاتے ہی ہیں اگلے جہاں کے لیے بھی کچھ بچا نہیں رکھتے۔ خیر رب تعالی تو بیماری دے کر آزماتے ہیں لیکن یہ طبیب آدم زاد کیا کرتے نظر آ رہے ہیں یہ ماورائے عقل ہے۔ ہم نے تو پڑھا اور سنا ہے کہ ڈاکٹر/طبیب اللہ کے بعد وہ مسیحا ہے جو انسانی جان بچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ اور ڈاکٹر کا رویہ مریض کو آدھا تندرست کر دیتا ہے۔ تربیت کے دوران ڈاکٹرز اور سٹاف کو بہت اچھے طریقہ سے نرسنگ کے اصول سکھائے جاتے ہیں۔ مریضوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی دلجوئی کرنا ڈاکٹر کے پروفیشن کا خاصہ ہے۔ لوگوں کی مجبوری سمجھنا اور ان کی مدد کرنا، دکھی انسانیت کی خدمت کرنا اس پیشہ کا خاصہ ہے۔ لیکن یہ کیا؟ جو ڈاکٹرز ہم لوگوں پہ مسلط کر دیئے گئیے ہیں کیا یہ اسی گولہ سے تعلق رکھتے ہیں یا کوئی ایلین ہیں ؟ ویسے اگر کوئی ایلین یہ تحریر پڑھ لے تو مجھے کوسے گا ضرور کہ یہ کس کے ساتھ ہمارا موازنہ کیا جا رہا ہے؟ یہ تو رانگ نمبر ہے۔ آئے دن ہم کوئی نہ کوئی دکھ بھرا قصہ سنتے ہیں کہ ڈاکٹرز کی غفلت کی وجہ سے مریض دم توڑ گیا۔ تو ہوتا کیا ہے جب کوئی بے چارا غریب کسی مشکل میں ہسپتال چلا جائے پہلے تو ڈاکٹرز ملتے ہی نہیں کیونکہ ہر ڈاکٹرسرکاری نوکری کے ساتھ کسی نہ کسی پرائیویٹ کلینک سے منسلک ہے اور وہاں ڈیوٹی بہت ضروری ہوتی ہے۔ سرکار کی کوئی بات نہیں کیونکہ سرکار تو ویسے بھی تیخواہ دے دیتی ہے اور کبھی کبھی تو گھر بھی تنخواہ بھجوا دیتے ہیں۔ اگر بھولا بھٹکا کوئی ڈاکٹر ہسپتال میں مل بھی جائے تو اس کا رویہ دیکھ کر مریض اور اس کے اہل خانہ مارے خوف کے مزید پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ کچھ ڈاکٹرز سمجھدار بھی ہیں جو تو فورا ہی مشورا دے دیتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے مریض کو راولپنڈی لے جائیں۔ مطلب اگر راولپنڈی ہی لے جانا ہے سب کو تو آپکا یہاں کیا کام ہے بھائی؟۔ خیر آگے سنیے کچھ ڈاکٹرز کہتے ہیں یہ سرکاری ہسپتال ہے یہاں مریضوں کا بہت رش ہے اور مشینری بھی اچھی نہیں ہے آپ مریض کو میرے کلینک لے آئیں۔ سادہ لوح لوگ بے چارے بیماری اور تکلیف کے ستائے پرائیویٹ ہسپتال پہنچتے ہیں جو نام کا ہسپتال ہوتا ہے مگر کام مذبح خانے کا کرتا ہے۔ اور پھر ان کے لٹنے کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اول تو مریض ان کے ہاتھوں زندہ بچ کے جا نہیں پاتا اگر بے چارا بچ جائے تو ساری عمر اس قرضے کے بوجھ تلے ڈوبا رہتا ہے جو علاج کی غرض سے لوگوں سے لیا ہوتا ہے ایسی صورت میں تو وہ انسان اپنے بچ جانے پر بھی دکھی ہی رہتا ہے۔ ویسے کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ یہ ڈآکٹرز اگر ڈاکٹرز نہ ہوتے تو ضرور ماہر قصائی ہوتے کیونکہ یہ کام وہ بہت عمدگی سے کرتے ہیں۔ ان مسیحائوں کو زرا بھی خوف خدا نہیں رہا کہ انسانی جان کی کیا اہمیت ہے ہر ہسپتال کے باہر لکھا نظر آتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے ساری انسانیت کو بچا لیا لیکن شاید یہ عبارت اتنی مقفہ و مسجع ہے کہ ڈاکٹری عقل میں نہیں آتی۔ ڈاکٹرز تو ڈاکٹرز نرسز اور کمپوڈر حتی کہ سپورٹ سٹاف بھی کسی سے پیار اور تمیز سے بات گراں سمجھتے ہیں۔ ہسپتالوں میں پرچی سسٹم ٹھپا ٹھپ چل رہا ہے بھرتی بھی پرچی پہ ہوتی ہے اور مریضوں کا چیک اپ بھی پرچی سے مشروط ہے۔ پرچی کا مطلب تو سارے عقلمند سمجھتے یہ ہوں گے۔ آجکل ہسپتالوں میں سو فیصد بچے آپریشن سے پیدا ہو رہے ہیں نارمل ڈلیوری تو مانو ڈاکٹرز کی ڈکشنری میں ہی نہ ہو۔ ہائی بی پر لو بی پی کے نسخے اور سینے یا پیٹ کی کسی بھی تکلیف پر دل کا مریض قرار دینا یہ عام سی باتیں ہیں۔ غلط انجیکشن لگانا، اوور ڈیٹ دوا پلانا، غلط ہڈی جوڑنا اور آپریشن کے دوران لاپرواہی برتنا یہ سب جو نہ کرے وہ گویا ڈاکٹر نہیں ہو سکتا۔ اور تو اور ہر چوتھے دن تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرنا تو کوئی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے سیکھے۔ کبھی ہڑتال کے نام پر ایمرجنسی بند تو کبھی او پی ڈی بھی بند کر دی جاتی ہے۔ کچھ لوگ تو اب ان کے رویوں کو دیکھ دیکھ کر سیانے ہو گئے ہیں وہ بیچارے ہلکا بخار بھی ہو تو راولپنڈی چلے جاتے ہیں۔
اور جو بیچارے افورڈ نہیں کر سکتے وہ اپنے سامنے اپنے پیاروں کو دم توڑتا دیکھتے ہیں۔ اب فیصلہ آپ لوگ کریں کہ کب تک سب لوگ یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے اور صرف اپنے دکھ پر آواز اٹھا ئیں گے۔ کیونکہ یہ تو طے ہے کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ تو آئیے پھر سب یکذبان ہو کر آواز بلند کریں پھر چاہے وہ زیادتی کفیل کے ساتھ ہوئی ہو، ضرار کاظمی کے بیٹے یا بھائی کے ساتھ یا پھر مرحوم گرداور صاحب کے ساتھ۔ آئیے کہ متحد ہو کر اس فالج زدہ سسٹم کو ٹھیک کریں اور اپنی آواز اعلی حکام تک پہنچائیں ۔ جب تک یہ معاملات پالیسی ساز اداروں تک نہیں پہنچیں گے اور پالیسی لیول پر درستگی نہیں لائی جائے گی تب تک ہر روز کوئی دو چار اسی ذیادتی کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ اگر اب بھی نہیں جاگے تو مانو دم نہیں ہم میں اور بنا دم کے لوگ مردہ کہلاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں