تفتیشی افسر/سعدیہ طارق

جن لوگوں کا زندگی میں کبھی تھانہ کچہری سے واسطہ پڑا ہے وہ اس کردار سے با خوبی واقف ہونگے اور جو لوگ نہیں جانتے انکو میں بتاؤں کہ بظاہر سیدھا سادہ اور بےضرر نظر آنے والا یہ کردار کسی بھی کیس کا رخ موڑ دینے پر قادر ہوتا ہے۔ جی ہاں ! آپ کا کیس کورٹ میں کس رخ سے پیش کیا جائے گا اور کیسے محرم کو مجرم ثابت کر دیا جاے گا یہ اسی تفتیشی پر منحصر ہے. لیکن آخر یہ ہے کون پولیس میں اسکی جاب کیا ہے اور کیسے یہ سب حقائق کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تو جناب تفتیشی یعنی کے
(investigation officer)
عہدہ کے اعتبار سے (ASI)  یعنی کے(assistant sub inspector) ہوتا ہے جو کہ گریڈ 11 کا ملازم ہوتا ہے اور اسکی تنخواہ تقریباً چالیس ہزار کے لگ بھگ ہوتی ہے( بھول چوک معاف).اب بات کرتے ہیں تفتیشی کے فرائض اور ذمہ داری کی تو جناب  فریقین کے بیانات لینا وقوع کی جانچ کرنا اور اس پر رپورٹ بنا کر ضابطے کی کارروائی کے لیے جمع کروانا سب اسکی زمہ داری ہے، تفتیشی کی رپورٹ اور بیان کسی بھی مقدمے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی رپورٹ پر تمام تر کاروائی کا رخ بدل سکتا ہے.ایک عام خیال یہ ہے کہ تفتیشی فریقین میں سے کسی سے بھی پیسے لیکر رپورٹ میں ردوبدل کر دیتا ہے اور اس سے انصاف کے عمل میں خلل پڑتا ہے اور عدل وانصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو پاتے۔بات کسی حد تک درست بھی ہے، مگر  آپ اگر زرا اس کردار کی اہمیت اور اس کی ماہانہ آمدن کا موازنہ کریں تو  آپ کو یہ بات سمجھ آجائے گی کہ اس کا قلم سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بناتے ہوئے ڈگمگاتا کیوں نہیں۔مجھے یہاں ایک کہاوت یاد آرہی ہے کسی سیانے نے کہا تھا کے “بھوکے کو چاند بھی روٹی نظر آتا ھے۔”میں کسی بھی طرح سے اس عمل کا دفاع کرنے کی کوشش نہیں کر رہی بلکہ میں چند تجاویز دینا چاہتی ہوں جن پر عمل کر کے ممکنہ طور پر اس مسئلہ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔آج کے اس دور میں چار سے پانچ افراد کے خاندان کا اتنی قلیل آمدن میں گزر اوقات کرنا خاصا مشکل ہے اور اگر ایسے میں کسی طرف سے مالی امداد کی آفر ہو جس کے بدلے میں بس قلم کا استعمال کرنا ہو تو انکار کرنے والا کوئی ولی ہی ہو سکتا ہے. ایک عام آدمی تو خواہشات اور ضروریات کے ریلے میں بہہ جائے گا۔تو اس سلسلے میں تنخواہوں اور مراعات کی بہتری مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔دوسری بات یہ کہ اگر ایک کیس پر ایک سے زائد تفتیشی افسر تعینات کیے جائیں اور حاصل کردہ معلومات اور تفتیشی کے بیان کو حرف آخر سمجھنے کے بجائے کسی کمیٹی یا بڑے عہدہ دار کی نظر سے گزارا جائے جو کہ تفتیش کے  عمل کی شفافیت کو یقینی بنائیں اور یہ کہ معاملہ عدالت میں پیش ہونے سے پہلے کوئی غلط رخ اختیار نہ کر سکے۔اس کے علاؤہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے ارکان کو  دوران تفتیش  شامل کرنے سے بھی صورت حال میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔تو کہنے کا مقصد یہ تھا کہ محض اداروں کو برا کہنے سے کام نہیں چلے گا اصلاحات لانے کی ضرورت ہے چیزوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور بحثیت ذمہ دار شہر ی کے اگر اس سلسلے میں کوی رائے دی جاسکتی ہے تو ضرور دیں کیونکہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہم نے ملکر اس کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔ پاکستان زندہ باد۔

اپنا تبصرہ بھیجیں