تحریک کشمیر برطانیہ کے زیراہتمام ”مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظالمانہ لاک ڈائون اور آبادی میں تبدیلوں ”کے عنوان سے آن لائن کنونشن

کشمیر میں ڈومیسائل کا نیا قانون بین الاقوامی قوانین اور جینوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے، سردار مسعود خان

وزیراعظم پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں ظلم سہنے والے افراد کیلئے دو ارب ڈالر کا علان کرنا چاہیے’ الطاف احمد بھٹ

لندن/اسلا م آباد(ویب ڈیسک) آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر دنیا میں ایک اہم ایشو بن چکا ہے۔ کشمیر پچھلے 2سو سالوں سے اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں،کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی گئی جبکہ مقبوضہ کشمیر میں نومبر 1947میں ایک ماہ کے دوران 2لاکھ 37ہزار سے زاہد افراد کو بھارتی مقبوضہ فورسز نے شہید کردیا ۔ اُسوقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت زیادہ تھی تاہم اس کے بعد جموں کو ہندوں کی اکثریت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسوقت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت اور بھارتی جنتا پارٹی کشمیر کو ہندوں کی اکثریت میں تبدیل کرنے کے حوالے سے سرگرم ہو چکے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر سوچی سمجھی سازش کے تحت لاک ڈاؤن مسلط کیا گیا۔ پچھلے سال بھارتی حکومت نے کشمیریوںپر مسلط کی گئی فوج کی تعداد میں بھی 7لاکھ سے 9لاکھ میں اضافہ کردیا اور اس 9لاکھ بھارتی فوج نے کشمیرمیں موصلاتی نظام اور دیگر کی بندش کرکے کشمیریوں کو دنیا سے منقطع کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں5اگست کے بعد صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے، 5اگست کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر میں کیے جانیوالے اقدامات پر بھارت کو دنیا بھر سے مذمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں بین الاقوامی سول سوسائٹی، انٹرنیشنل میڈیا ، تھینک ٹینک، وکلائ، قانوسازوں ، ممبران پارلیمنٹ، یوکے ممبران پارلیمنٹ نے بھارت کے خلاف آواز بلند کی ہے اور اس ضمن میں بھارت سے سوالات کیے ہیں، لیکن پچھلے تین ماہ کے دوران دنیا کی توجہ کشمیر سے ہٹا کر دیگر ایشو پر مرکوز کروانے کی کوششیں بھی کی گئی اور ہمیں اسی دوران کورونا وائرس جیسے خطرناک وائرس کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ بھارت نے دو دیگر اقدامات کیے پچھلے سال اکتوبر میں بھارت نے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ جس میں لداخ اور جموں و کشمیر شامل تھے جس کا دارلخلافہ دہلی کو بنایا گیا ۔ الگ جھڈا اور الگ اسمبلی ہونے کے باوجود کشمیریوں کی مرضی کے بغیر اس اقدام کو کشمیریوں پر مسلط کیا گیا تاہم اس تمام تر اقدامات کے ماسٹر مائیڈ دہلی میں بیٹھ کر یہ سب اقدامات کررہے ہیں۔ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد لداخ کے حوالے سے علان کیا گیا کہ اس کی مستقبل میں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی اور اس عمل کے بعد بھارت نے کشمیر کے حوالے سے جعلی نقشہ جات بھی بنائے جس میں اس تقسیم کا ذکر بھی کیا گیا۔ کشمیر میں ڈومیسائل کا نیا قانون بھی متعارف کروایا گیا۔ یہ بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونش کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آئن لائن کونشن جس کا عنوان”مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظالمانہ لاک ڈائون اور آبادی میں تبدیلوں ”کے حوالے سے کانفرنس کے دوران اپنے خطاب کے دوران کیا۔ ۔ کانفرنس میں صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے بطور مہمان خصوصی جبکہ سنیئر حریت کشمیری لیڈر الطاف احمد بٹ نے بطور مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ کانفرنس کی صدرات تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے کی ، کانفرنس میں کمپیئرنگ کے فرائض عظمیٰ رسول نے سرانجام دئیے۔ گلاسکو ایم بی ای بزیلی حنیف راجہ، cllr محبوب حسین بھٹی(Highwycombe)،cllrمحمد ایوب بولٹن، cllrلیاقت علی ایم بی ای والتھم فاریسٹ، cllrنوید احمد لوٹن، الطاف احمد آکسفورڈ، کاشف چوہدری لوٹن، مسعود احمد والتھم فاریسٹ، کھتیجا ملک لوٹن، ظفر اسلام ڈڈلے، ساجد محمودناٹنگھم نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران سنیئر حریت لیڈ ر الطاف احمدبٹ کا کہنا تھا کہ الطاف احمد بٹ نے فہیم کیا نی اور دیگر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی اور ہمیشہ آرٹیکل370کی مذمت کی ہے آج مجھے بہت خوشی ہے کہ آج پہلی دفعہ ہے میں آج اپنی کشمیری زبان میں بات کرونگا۔آپ سب ہمارے دل کی آواز بنے ہوئے ہیں کیونکہ آپ مقبوضہ کشمیر کی بات کررہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں مائوں بہنوں اور معصوم بچوں پر ہر دور میں ظلم ہوا ہے چاہیے منموہن سنکھ یو یا مودی ہو 72سالوں سے کشمیری قوم ظلم سہہ رہی ہے اور آپ نے مظلوم اور نہتے کشمیریوں کی آواز دنیا کی ایوانوں تک پہنچائی ہے۔ جس میں خصوصاً برطانیہ، یورپ اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی اب کشمیریوں کے حق کیلئے بات ہو رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونیوالے نوجوانوں حریت رہنماوں کی جانب سے آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ صدر مسعود خان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حقیقی لیڈ ر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ آج فہیم کیانی سمیت دیگر کونسلر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اپ نے جو گراس روٹ لیول پر جو کام کیا ہے اسی کی وجہ سے آج بین الاقوامی لیڈران کشمیر پر بات کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ بھی اس ایجنڈا کا حصہ ہے لیکن اُن کی یادہانی کیلئے آپ نے جو کام کیا ہے اس کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائیگا اور تحریک کشمیر برطانیہ کا رول بھی کشمیر کی تحریک میں سنہری حروف میں لکھا جائیگا۔ حکومت پاکستان نے بھی 8ارب ڈالر کا علان کیا تو اگر مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے تو اس حوالے سے میں نے وزیراعظم عمران خان سے بھی مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم سہنے والے افراد کیلئے دو ارب ڈالر کا علان کرنا چاہیے تھاجو صرف تحریک آزادی کشمیر کیلئے اپنا لہو پیش نہیں کررہے بلکہ تحریک تکمل پاکستان کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں ۔ پاکستانی حکمرانوں کیلئے یہ پیسہ وہاں پہنچانا مشکل تھا لیکن اقوام متحدہ کے ٹیبل پر یہ پیسہ چھوڑ کر آجاتے تو انہیں کہتے یہ تمہارا کام بنتا ہے کیونکہ تم نے دنیا میں لوگوں کو انصاف دیا ہے تو مجھے یقین ہے کہ اس سے تحریک میں ایک نئی جان پڑ جاتی ۔ دنیا اس حوالے سے کہتی ہے کہ اگر پاکستان کو اور دیگر جماعتوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے تو اس میں اقوام متحدہ ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ کشمیر میں رہنے والوں کا صرف اتنا قصور ہے کہ وہ مسلمان ہے اور اس وجہ سے اُن کی آواز نہیں سنی جاتی۔ ہماری ہندوں سے کوئی لڑائی نہیں ہے، ہندوں مائنڈ سیٹ ہے اور مودی، اجیت دیول اور دیگر کشمیریوں پر ہر روز نت نئے طریقے استعمال کررہے ہیں، ہم نے رپورٹس دیکھی ہے کہ یہ وقت ہے کہ ہم عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں اس ظلم کو روکنے کیلئے اقدامات کرنا چاہیے تھے۔ نئے ڈومیسائل جاری کیے گئے جبکہ 3لاکھ ڈومیسائل جاری ہونے کے آخری مراحل میں ہیں۔ الطاف احمدبٹ نے صد ر آزادجموں و کشمیر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ملین آرمی کے خاندانوں کی تعداد صرف 5لاکھ ہے، ہر فوجی افسر کے خاندان کو انہوں نے گھر تعمیر کر کے دئیے ہیں جبکہ اسوقت دو لاکھ سے زاہد گھر تعمیر ہو چکے ہیں ایک گھر میں کم از کم 10افراد رہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ20لاکھ لوگوںکو اُن گھروں میں آ باد کیا جائیگا اور یہ کُل آبادی 35لاکھ کی بنتی ہے۔ اگلے پانچ سال کے اندر ہماری 80لاکھ تعداد سے اُن کی تعداد کئی گناہ زیادہ ہو جائیگی۔ چار پانچ سالوں بعد لوگ خود کہیں گے کہ وہاں رائے شماری نہ ہو کیونکہ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جا رہا ہے کہ اگر پانچ سال بعد رائے شماری ہوئی تو یہ اُن کے حق میں ہوگی۔ اگر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو لانا ہے تو یہ ہی وقت ہے ۔ کشمیر میں دو لاکھ گھر بننا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ کشمیر میں تین بڑی فوجی چھاونیوں کیلئے زمین تک الاٹ ہو چکی ہے۔ آپ کشمیر کے نمائندے ہیں اپ دنیا کو بتا دیں کہ کشمیریوں نے آزادی کی تحریک سمیت جو کچھ کرنا تھا وہ سب کچھ کر چکے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا رہ رہی ہے لیکن نندر مودی ، اجیت دیول ، اجیت شاہ گھروں کو تباہ کررہے ہیں۔ آپ لوگوں نے 5اگست کے بعد جو کام شروع کیا ہے فہیم کیانی ،،لاڈر نذیر،راجہ نجابت، پروفیسر شال، علی سید رضا ، عظمی رسول اور دیگر کی صورت میں ہوں اس تحریک کو تیز کریں۔ کانفرنس کے آخر پر تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے شرکاء کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں