جاوید خان کی کتاب “عظیم ہمالیہ کے حضور” پر قیوم راجہ کا دلچسپ تبصرہ

نام کتاب: “عظیم ہمالیہ کے حضور”
نام مصنف: جاوید خان
پبلشرز : فکشن ہاؤس لاہور
اشاعت 2019
صفحات: 224

آزاد کشمیر کے کوہ کاف تولی پیر راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے نوجوان مدرس، کالم نویس اور محقق جاوید خان نے یونیورسٹیوں سے منسلک چند علمی شخصیت کے ہمراہ 2017 میں گلگت بلتستان کا ایک مطالعاتی دورہ کیا جسکی روئیداد عظیم ہمالیہ کے حضور کے عنوان سے شاعع ہونے والی کتاب کی شکل میں سامنے ائی۔ مصنف کا انداز تحریر انتہائی دلچسپ دلنشیں اور اعلی ادبی اصولوں و اوصاف کا مظہر ہے۔ کسی بھی کتاب کے مطالعہ کا مقصد اگر وقت گزاری کے بجائے کسی خطے کی سیاسی جغرافیائی تقافتی و تمدنی تاریخ سے روشنائی حاصل کرنا ہے تو پھر گلگت بلتستان سے جانکاری کا شوق رکھنے والے اس کتاب سے ضرور مطمئن و مستفید ہونگے۔ یہی نہیں بلکہ مصنف نے جموں کشمیر کے سر گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کا بھی بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے ٹو، نانگا پربت خوبصورت جھیلوں ، نہروں پولو کے میدانوں دیو مالائی پہاڑوں اور دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے اس خطے کی جغرافیائی اہمیت و حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ آیا تاریخ کے ہر دور میں عالمی طاقتوں کے لیے یہ خطہ کیوں اہم رہا مگر بد قسمتی سے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ تاریخی حقیقت باور کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ اقتصادی نا ہمواری کی وجہ سے ملک کی ایک بھاری تعلیم یافتہ نوجوان کی کھیپ بیرون ملک بوجہ خاندانی کفالت جانے پر مجبور رہی اور جو یہاں رہتے ہیں انہوں نے بھی اپنے وطن کی سیر و تفریح کی کم ہی کوشش کی۔ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ میری کائنات میں جی بھر کر گھوم پھر کر دیکھو سنو اور سیکھو۔ جاوید خان نےاسی اصول پر عمل کرتے ہوئے اپنا سفر نامہ لکھا ورنہ وہ صاحب علم اور فہم فراست تو ہیں لیکن صاحب ثروت نہیں۔ نوجوان نسل کے لیے اس کتاب میں وہ سب کچھ ہے جس کی وہ علمی و ادبی حوالے سے جستجو کر سکتا ہے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی قاری اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مصنف اور انکی مطالعاتی ٹیم میں شامل جناب طاہر یوسف اسسٹنٹ رجسٹرار باغ یونیورسٹی، عمران رزاق پونچھ یونیورسٹی ، ظہور احمد خان اور ظفر حیات صاحب کو داد دیے بنا نہ رہ سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں