اقامہ بمقابلہ نیشنیلٹی

تحریر:اورنگزیب اعوان

دونوں الفاظ دیکھنے اور سننے میں بڑی حد تک آپس میں مماثلت رکھتے ہیں. مگر ان کی اہمیت و قدرو منزلت کا اندازہ اس بات سے لگا جاسکتا ہے . کہ ایک منتخب وزیراعظم کو اقامہ رکھنے کے جرم کی پاداش میں پاکستانی سیاست سے تاحیات نااہل قرار دے دیا جاتا ہے. اور نیشنیلٹی ہولڈرز کو محب الوطن قرار دے کر ملک کے اہم ترین عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے. شاید یہاں بھی تعصب پسندی سے کام لیا جاتا ہے. اسلامی ممالک کی شہریت کے حامل سیاست دانوں کو تو غدار تصور کیا جاتا ہیں. مگر اس کے برعکس امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور یورپی ممالک کی شہریت کو باعث فخر تصور کیا جاتا ہے. یہ صورتحال ہماری غلامانہ ذہینت کی عکاسی کرتی ہے. ہم کہنے کو تو آزاد قوم ہے مگر حقیقت میں ہم آج بھی ذہنی طور پر فرنگیوں کی غلامی سے نجات حاصل نہیں کر پائے. پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت مذہبی و قدامت پسندانہ سوچ رکھنتی ہے. اس لیے اس کے رہنماؤں نے اسلامی ممالک کے اقامہ یا سفری دستاویزات لینے کو ترجیح دی. جس کی وجہ سے ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا. کہ انہوں نے یہ سہولت بیرون ممالک ذاتی کاروبار کے لیے حاصل کی ہوئی ہے. یہ لوگ اپنے ملک سے مخلص نہیں. ان کے مفادات بیرون ممالک میں ہیں. اسی چیز کو لیکر ان کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ میں کیس دائر کیا گیا. جس پر عدالت عظمیٰ نے انہیں تاحیات ملکی سیاست سے نااہل قرار دے دیا. جبکہ اس کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کے لوگ پڑھے لکھے، ماڈرن اورانتہائی شاطر ہیں انہوں نے امریکہ، کینیڈا،برطانیہ اور یورپی ممالک کی شہریت حاصل کر رکھی ہے.جس کو ملک پاکستان میں باعث اعزاز سمجھا جاتا ہے. آج جب یہ حقیقت ملکی میڈیا کے توسط سے پاکستانی عوام پر آشکار ہوئی کہ وزیر اعظم عمران خان کی وفاقی کابینہ کے بیشتر مشیران و معاونین خصوصی دوہری شہریت کے حامل ہیں. جس پر پاکستان تحریک انصاف نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ دوہری شہریت رکھنا کوئی گناہ نہیں. یہ تو محض سفری سہولیات کے لیے رکھی جاتی ہے. کاش آپ کا یہی موقف سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے رفقاء کار کے لیے بھی ہوتا. مگر اس وقت تو آپ کی آنکھوں پر ذاتی انتقام کی پٹی باندھی ہوئی تھی. آپ دوہری شہریت کو گناہ کبیرہ سمجھتے تھے. آج جب آپ کےلوگ اسی صورت حال سے دوچار ہیں تو آپ کو یہی فعل باعث ثواب نظر آ رہا ہے. کیا اس کو بھی آپ کی طرف سے یوٹرن ہی سمجھا جائے. ویسے آپ کو صادق اور امین قرار دینے والوں کی ذہنیت پر شک ہو رہا ہے. انہوں نے کیا دیکھ کر آپ کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دیا تھا. آپ جو بات بھی کرتے ہے. عمل اس کےخلاف ہوتا ہے. آپ کی اس روش سے پاکستانی عوام اس قدر تنگ آچکی ہے. کہ اب تو اس کی قوت برداشت بھی جواب دے گئی ہے. سیاست میں تھوڑا بہت جھوٹ تو چل جاتا ہے. مگر سارے جھوٹ میں تھوڑی بہت سیاست نہیں چلتی. آپ اور آپ کی پوری حکومتی ٹیم سوائے جھوٹ بولنے کے کچھ نہیں کرتی. آپ تو انتقام کی آگ میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ آپ نے ملکی اداروں کے وقار کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے. نیب جس کا کام کرپشن کے کیسوں میں اکاؤنٹبلٹی کرنا ہوتا ہے. مگر اب یہ ادارہ صرف اور صرف سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہو رہا ہے. آج ہی سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواجہ برادران کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے واضح الفاظ میں لکھا ہے. کہ نیب والے ان دونوں بھائیوں کا پیراگون سٹی سے کوئی تعلق ثابت نہیں کرسکے . انہیں ناحق سزا دی گئی. تو اب نیب افسران اور احتساب عدالت کے معزز جج صاحبان سے سوال تو بنتا کہ انہوں نے کس قانون کے تحت خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلیمان رفیق کو ایک سال بغیر کسی ثبوت کے قید وبند میں رکھا. اس سےیہ بات تو کلی تو پر عیاں ہو چکی ہے کہ یا یہ ادارہ جو محض احتساب کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے. یہ صرف اور صرف انتقامی کارروائیاں کرتا ہے . یا ان میں اتنی ساکت ہی نہیں کہ یہ اپنے فرائض منصبی حسن طریقے سے نبھا سکے. ایسے میں اس ادارے کو فی الفور ختم کر دینا چاہیے کیونکہ یہ ملکی خزانہ پر سفید ہاتھی بنا بیٹھا ہے . دوسری طرف اس کی وجہ سے ملکی بدنامی الگ سے ہو رہی ہے. یا پھر ایسا قانون بنایا جائے. کہ جس کیس میں ناقص تفتیش یا بدنیتی ثابت ہو جائے اس کیس پر آنے والے تمام اخراجات ان افسران سے وصول کیے جانے جو اس کیس کی تفتیش کر رہے تھے. اور انہیں قرار واقع سزا بھی دی جائے. تاکہ آئندہ بغیر ثبوت کے کسی بے گناہ کو گرفتار کرنے سے پہلے سو بار سوچا جائے. وزیراعظم عمران خان آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ سیاست آپ کے بس کی بات نہیں. آپ صرف اور صرف کرکٹ کھیل سکتے ہے. اور اسی کھیل کے رموز اوقاف سے واقف ہے. سیاست کی دنیا کے اپنے قوانین ہیں. جن سے آپ مکمل طور پر نا آشنا ہے. کوئی ایسا شعبہ زندگی نہیں جس میں اب تک آپ نے عہدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے دکھایا ہو. صحت، تعلیم، روزگار، روزمرہ زندگی کی ضروریات ہر جگہ ماسوائے مایوسی کے کچھ نظر نہیں آتا. اگر سادہ لفظوں میں بات کی جائے تو ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی. اپوزیشن والے کوئی غلط کام کرے تو آپ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہے. وہی کام آپ کے لوگ کرے تو بہت ہی اعلیٰ طریقہ سے اس کا دفاع کرنا شروع کر دیتے ہیں. عوام کی یادداشت اتنی بھی کمزور نہیں کہ وہ آپ کی ہر بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیں.کل تک میاں محمد نواز شریف کو کہا جاتا تھا کہ ان کی زبان پر کلبھوشن کا نام نہیں آتا. اس کی وجہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سےمیاں محمد نواز شریف کی دوستی کو قرار دیا جاتا تھا. اور میاں محمد نواز شریف کو غدار کے طعنے بھی دیئے جاتے تھے. آج تو کلبھوشن کو سفارتی رسائی کے ساتھ ساتھ اس کی فیملی سے بھی ان ہی کی منشاء کے تحت ملایا جا رہا ہے. بھارتی سفارتی عملہ دوران ملاقات اپنے اور کلبھوشن کے درمیان لگے ہوئے شیشہ پر اعتراض کرتا ہے تو فوراً تمام ملکی و سفارتی آداب کو پس پست ڈالتے ہوئے ان کی منشا کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فوراً شیشہ کو ہٹا دیا جاتا ہے. مگر وہ اس پر بھی مطمئن نہیں ہوتے اور ناراض ہو کر وہاں سے چلے جاتے ہیں. بظاہر لگ رہا ہے کہ حکومت نے کلبھوشن کو رہا کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے. وہ صرف عوامی ردعمل کو چیک کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے واقعات رونما کر رہی ہیں. اب اس سے پوچھنایہ تھا کہ نریندی مودی کا یار کون ہے. کس کے کہنےپر کلبھوشن کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں.اب غدار کون ہے. وزیراعظم عمران خان اتنےیوٹرن نہ لیں کہ آپ خود ہی چکرا کر گر جائے. اپوزیشن تو شاید اس پوزیشن میں نہیں کہ حکومت کو گرا سکے مگر آپ کی اہلیت کو دیکھتے ہوئے کوئی شک نہیں کہ آپ خود ہی اپنی نااہلیوں کے بوجھ تلے دب جائے گے. خدارا اتنا جھوٹ بولے جتنا عوام برداشت کر سکے. آپ نے حکومت سازی سے قبل جو کچھ کہا تھا آج آپ کا ردعمل اس سے بالکل مختلف ہے. کل تک آپ کی نظر میں جو کچھ غلط تھا آج درست کیسے ہو گیا. دوہری شہریت پر آپ کا موقف بدلنا نہیں چاہیے تھا اگر آپ کا موقف محض بغض میاں محمد نواز شریف میں تھا. تو اب اس موقف میں تبدیلی کو پاکستانی عوام بآسانی سمجھ سکتی ہے. کیونکہ اب آپ کے اپنے مشیر و معاونین خصوصی اسی کی زرد میں آریے ہیں. جس کے خلاف آپ نے طویل عرصہ تک جدوجہد کی ہے. آپ کو چاہیے کہ اپنی ذاتی انا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملکر ملکی مفاد میں مناسب قانون سازی کریں. جس سے اس ملک کی بہتری ہو سکے. اپوزیشن والے بھی پاکستانی ہیں ان کی حب الوطنی پر کسی بھی طرح سے شک نہیں کرنا چاہیے. آپ کی خود غرضی اور انا پرستی نہ صرف آپ کے لیے بلکہ اس ملک و قوم کے لئے بھی زہر قاتل ہے.آپ نے اپنے انتقام کی سولی پر صوبہ پنجاب اور سندھ کے لوگوں کو چڑھایا ہوا ہے. دونوں صوبوں میں آپ کی طرف سے اس قدر ناانصافیاں کی جا رہی ہیں. کہ عوام کا جینا محال ہوچکا ہے.صوبہ پنجاب کو ماضی کے حکمرانوں نے شب وروز کی محنت سے ایک ماڈل صوبہ بنا دیا تھا جس کی خوبصورتی کی تعریفیں پوری دنیا کرتی تھی. مگر آپ نے اقتدار میں آتے ہی اس کو اپنے سیاسی مخالفین کی جاگیر سمجھتے ہوئے اس سے وہ ناروا سلوک کیا ہے. جو دشمن بھی نہیں کرتا. شہر شہر ٹوٹی پھوٹی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں. اس صوبہ کا کوئی پرسان حال نہیں. لوگوں کو تعلیم، صحت و روزگار جیسی بنیادی ضروریات زندگی سے بھی محروم کیا جا رہا ہے. یہی صورتحال صوبہ سندھ کی ہے. وہاں پر صوبائی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے. جس کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کا رویہ انتہائی ذلت آمیز ہے. وفاقی ادارے صوبہ میں محض اس لیے کوئی کام نہیں کرتے کہ انہیں اوپر سے حکم نہیں ملتا. اگر صوبائیت پسندی کی اس لہر کو مزید فوقیت دی گئی تو یہ اس ملک کے لیے نقصان دہ ہوگا. ماضی میں سانحہ مشرقی پاکستان بھی اسی آمرانہ سوچ کی بدولت رونما ہوا تھا. جس سے ہم نے کچھ سبق نہیں سیکھا. دونوں صوبہ میں پاکستان تحریک انصاف محض اس لیے انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے کہ ان صوبوں کی عوام نے اسے الیکشن میں ووٹ نہیں دیئے. وزیراعظم پاکستان آپ کو تمام صوبوں کے ساتھ مساوی و یکساں سلوک روا رکھنا ہوگا. ورنہ عوام کے غم غصہ و غاضب سے آپ کو کوئی نہیں بچا سکتا.عوام اب مزید ڈرامہ بازی برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں. اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ماضی کے حکمرانوں نے کیا. اسے تو بس یہ پتہ ہے کہ دوسال سے آپ کی حکومت ہے اور آپ کی نالائقی و نااہلی کی بدولت ان کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں. آپ نے ماضی میں عوام سے جو عہدو پیما کیے تھے. اور جو جو اقوال زریں بولے تھے ان پر تو قائم دائم رہے.اب تو پاکستانی عوام آپ کی حکومت کو تبدیلی نہیں یوٹرن سرکار کا لقب دی چکی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں