ضلع حویلی آزادکشمیر کا نوجوان تھانہ مندرہ راولپنڈی کی حدود میں قتل’ ایف آئی آر کے نامزد ملزمان گرفتاری کے بعد رہا۔

راولپنڈی (ثاقب راٹھور) ضلع حویلی آزادکشمیر کا نوجوان تھانہ مندرہ راولپنڈی کی حدود میں قتل ایف آئی آر کے نامزد ملزمان گرفتاری کے بعد پولیس نے رہا کر دیے. ورثاء کا حکومت پاکستان سے ملزمان کی گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ. تفصیلات کے مطابق 6 جولائی خاور جہانگیر عمر 15 سال کو اس کے دوست بہلا کر نہانے کے لیے نہر پر لے گئے اور پانی میں ڈبو کر قتل کر دیا گیا. پولیس نے نامزد ملزمان کو گرفتار تو کر لیا لیکن بعد میں رہا کر دیا ہے. خاور جہانگیر کے والد جہانگیر خان راٹھور کا کہنا تھا کہ میں ضلع حویلی کہوٹہ بانڈی چکیاس کا رہائشی ہوں راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان تھانہ مندرہ کی حدود ڈھوک وزیراں میں رہائش پذیر ہوں اور ایک نجی بنک میں بطور سیکورٹی گارڈ نوکری کرتا ہوں. میرا بیٹا خاور جس کی عمر 15 سال تھی جماعت نہم کا طالب علم تھا 6 جولائی کو اپنے کلاس فیلو افشاں ولد مقصود کے ساتھ سکول گیا لیکن گھر واپس نا آیا. ہم اپنے طور پر خاور کی تلاش کرتے رہے لیکن کوئی کامیابی نا ہوئی 7 جولائی کو تھانہ مندرہ میں گمشدگی کی درخواست دی. 7 جولائی کو ہی شام کو مجھے اطلاع ملی کہ میرے بیٹے کی لاش سوج بہادر کے نالہ میں پڑی ہے. جہاں ریسکیو اور پولیس موقع پر پہنچ چکی تھی. میں نے اس واقعے کو حادثہ سمجھ کر کسی شخص کے خلاف ایف آئی آر نا کروائی. اس کے بعد میں اصل شواہد اکھٹے کرنے لگا. افشاں ولد مقصود سے تفصیلات ملیں کہ وہ اور میرا بیٹا دونوں اپنے سکول گئے تھے. وہاں سے مندرہ سٹاپ گئے واپس گھر جانے کے لیے ایک رکشہ جسکو محمد صغیر عرف گیرا چلا رہا تھا میں سوار ہو گئے. محمد صغیر افشاں اور خاور کو زبردستی نہانے کے لیے سوج نالہ کی طرف لے گیا. افشاں کے مطابق اس نے ہمیں نہانے کا کہا ہم پانی میں اترے تو صغیر نے خاور کے ساتھ دست درازی شروع کر دی اور مجھے ایہ طرف ہونے کا کہا. اسی دوران خاور نے شور شرابہ کیا تو صغیر نے خاور پر تشدد کیا. اور خاور کو پانی میں زبردستی ڈبونے لگا. پانی میں ڈبونے کے دوران ہی خاور کی موت واقع ہو گئی. مجھے صغیر نے ڈرایا کہ اگر تم نے کسی کو بتایا تو اسی طرح تمہیں بھی مار دوں گا. اور مجھے اپنے گھر لے گیا اور بد فعلی کرنے کی کوشش کی. میرے شور مچانے پر مجھے چھوڑ دیا اور میں بھاگ نکلا. ملزم صغیر کے خلاف ماضی میں بھی لڑائی جھگڑے اور بد فعلی کے مقدمات میں جیل کاٹ چکا ہے. جہانگیر خان والد خاور کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ میرے بیٹے کے قاتل کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا کے احکامات جاری کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نا ہو سکیں.اس بارے میں جب تفتیشی افسر سب انسپکٹر جمال نواز سے بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ ورثاء نے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لئے ایف آئی آر کروائی ہے. جو جمعرات کو ہونی ہے  پوسٹ مارٹم رپورٹ رپورٹ آنے کے بعد دیگر کاروائی عمل میں لائی جائے گی.

اپنا تبصرہ بھیجیں