موٹر سائیکل جے آئی ٹی

تحریر؛ اورنگزیب اعوان

حکومت وقت کی ناقص قابلیت تو شروع دن سے ہی روز روشن کی طرح عیاں تھی. مگر یہ اندازہ ہرگز نہ تھا کہ یہ پڑھے لکھے لوگ اس قدر مسخرہ پن کے دیدہ ہیں.کہ ہر سنجیدہ سے سنجیدہ مسئلہ کو بھی طنز مزاح کی نظر کر دیتے ہیں. حالیہ دنوں وفاقی حکومت کے ایک انتہائی اہم وزیرعلی زیدی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے. پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی. جس پر پاکستان پیپلز پارٹی نے ایوان میں شدید شور شرابہ کیا. اور انہیں ثبوت پیش کرنے کا چیلنج دیا. جس کے جواب میں وزیر موصوف نے عزیز بلوچ اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹی (جوائنٹ انوسٹی گیشن رپورٹ ) کا حوالہ دیا. کہ وہ میرے پاس ثبوت کے طور پر موجود ہیں. جس کے جواب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے صوبائی وزراء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان جے ٹی آئی رپورٹس کو سندھ حکومت کی ویب سائٹ پر شائع کرنے کا اعلان کیا. ان کا مزید کہنا تھا کہ علی زیدی جو الزامات ہماری پارٹی قیادت پر عائد کیے ہیں. ان رپورٹس میں اس کا سرے سے ہی کوئی ذکر نہیں. حسب وعدہ وہ رپورٹس مقررہ وقت پر صوبائی حکومت کی ویب سائٹ پر شائع کر دی گئیں. جس کے جواب میں وفاقی وزیر علی زیدی نے وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ دھواں دار پریس کرتے ہوئے. ایک جے آئی ٹی رپوٹ میڈیا نمائندگان کے سامنے پیش کی جس میں اپنی طرف سے عائد کردہ الزامات کو ثبوتوں کی روشنی میں سچ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی. وزیر اطلاعات کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ اپنی وزارت کے تحت ایک نیوز چینل کی ناجائز بندش پر ملک بھر کی صحافتی تنظیموں کی طرف سے کیے گئے احتجاج پر بھی لب کشائی کرتے ہوئے دو لفظ ان سے اظہار ہمدردی کے لیے ہی بول دیتے. مگر اپنے سیاسی حریف پر بہتان تراشی کے لیے ان کے پاس وقت تھا. اس پر پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا ردعمل دینے کے لیے ایک ہنگامہ خیز پریس کانفرنس منعقد کی. جس سے صوبائی وزیر تعلیم سندھ سید غنی، ناصر شاہ اور رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے خطاب کیا. انہوں نے مکمل ثبوتوں کی مدد سے اس رپورٹ کو مکمل طور پر رد کر دیا. ان کے نزدیک یہ رپورٹ جھوٹ، فراڈ اور جعلسازی کے پلندہ کے سوا کچھ نہیں . ان کا مزید کہنا تھا کہ اس جے آئی ٹی رپورٹ پر کمیٹی اراکین کے دستخط اور مہر ہی نہیں ہے. تو ہم اس کو کس طرح سے سچ تصور کریں. جبکہ ہماری جاری کردہ رپورٹ محکمہ داخلہ سندھ کی طرف سے جاری کی گئی ہے. جس پر کمیٹی کے سات کے سات اراکین کے دستخط اور مہر ثبت ہے.اس بات سے توکوئی بھی ذی شعور انسان اختلاف نہیں کرسکتا. کیونکہ کاغذات تو وہی صحیح شمار کیے جاتے ہیں جن پر دستخط اور مہر ثبت ہو.اسی قانونی نقطہ کو لیکر جب میڈیا نمائندگان نے علی زیدی سے ان کی جے آئی ٹی رپورٹ کے بارے میں سوال کیا کہ یہ رپورٹ آپ کو کس نے دی ہے. جس پر آپ اتنا زیادہ اعتبار کر رہے ہیں. تو انہوں نے کہا ایک موٹر سائیکل سوار مجھے لفافہ میں بند یہ رپورٹ دیکر گیا. وزیر موصوف سے انتہائی معصومانہ سا سوال ہے. کہ کیااتنے اہم دستاویزات کوئی عام شہری حاصل کرسکتا ہے. جسے ملک کی اہم ترین ایجنسیاں مل کر تیار کرتی ہیں. اور انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے متعلقہ فورم کے سپرد کرتی ہیں. جو اس کو اپنے پاس محفوظ کر لیتا ہے. اور متعلقہ احکام کو بھی اس کی تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ کر دیتا ہے. جبکہ علی زیدی کی بات سن کر تو لگتا ہے کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اتنی ساکت نہیں کہ وہ اپنی تیار کردہ رپورٹ کی حفاظت کرسکیں. اگر ایک موٹر سائیکل سوار بھی اتنے اہم دستاویزات لیے پھر رہا ہے تو اسے حکومت کی نہیں بلکہ اداروں کی ناکامی تصور کیا جائے گا. علی زیدی کی شعلہ بیانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کو نہیں بلکہ ملکی اداروں کو امتحان میں ڈال دیا ہے. اہم سوال تو یہ ہے کہ اس موقع پر جے آئی ٹی رپورٹ کا شوشہ کیوں چھوڑا گیا. لگتا ہے حکومت وقت نے اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے یہ حربہ استعمال کیا ہے. ملکی اسٹیبلشمنٹ پچھلے کچھ عرصہ سے ان سے مکمل طور پر نالاں نظر آ رہی تھی. جس کا احساس حکومت وقت کو بخوبی ہو چکا ہے. سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنا، سابق صدر آصف علی زرداری کی ضمانت،اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو نیب کیسز میں ملنے والی رعایت، اور سابق وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کی رینٹل پاور پلانٹ میں بریت اس چیز کا شاخسانہ ہیں. جس سے حکومت وقت کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے. ملکی اسٹبلشمنٹ نے پہلے پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت سے رابطہ کیا اور انہیں حکومت سازی کی دعوت دی. جس پر پاکستان مسلم لیگ ن نے حکومت سازی کی بجائے اپنے خلاف قائم کیے گئے من گھڑت مقدمات کی واپسی کا مطالبہ کیا. جس کو مانتے ہوئے مرحلہ وار اس پرعمل درآمد شروع ہو چکا ہے. احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی برطرفی بھی اس کا حصہ ہے. کیونکہ ان کی برطرفی سے اب میاں محمد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس ریویو کی درخواست دے گے . جس کی سماعت کے نتیجہ میں میاں محمد نواز شریف کی سزا معطل ہونے کے قوی امکانات ہیں. کیونکہ میاں محمد نواز شریف اپنے اوپر لگے ہوئے جھوٹے الزامات سے مکمل طور پر بری الذمہ ہوکر پوری طاقت سے اقتدار میں آنے کے خواہش مند ہے. وہ اپنے دامن پر لگے ہوئے دھبوں کے ساتھ حکومت کرنے کو جائز تصور نہیں کرتے. اب ملکی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سے میل جول بڑھایا ہے. اور ان کے قائدین کو مختلف کیسوں میں رعایت دی جا رہی ہے. دو سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی سزائے معطل ہونا اس کی واضح علامات ہیں. پاکستان تحریک انصاف بھی اس صورتحال سے بخوبی واقف ہے. اس لیے عمران خان نے اب ملکی اسٹبلشمنٹ سے محاذ رائی کا پروگرام بنا لیا ہے، اس کے لیے انہوں نے اپنے اہم وزراء کو ذمہ داریاں بھی تفویض کر دی ہیں. گزشتہ دنوں بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا. یہ پیغام وہ جن قوتوں تک پہنچنا چاہتے تھے اس میں کامیاب ہوگئے ہے . اب پاکستان پیپلز پارٹی اور ان قوتوں کے میل ملاپ کو ختم کرنے کے لیےمکمل منصوبہ بندی کے تحت علی زیدی کے ذریعہ سے جے آئی ٹی والا شوشہ چھوڑا گیا ہے. یہ ایک طرح سے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو ملک بھر میں بدنام کرنا جاہتے ہیں . جس کے نتیجہ میں یہ قوتیں پاکستان پیپلز پارٹی کی مقبولیت کے گرتے ہوئے گراف کو دیکھ کر اپنے فیصلہ پر نظرثانی کریں. اس طرح سے ان کے اقتدار کو مزید مہلت مل جائے گی. ملکی اسٹیبلشمنٹ جس کسی سیاسی جماعت سے تعلقات استوار کرتی ہے. پاکستان تحریک انصاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس سیاسی جماعت اور اس کی اعلیٰ قیادت پر بہتان تراشی شروع کر دیتی ہے. مگر اب ان کا یہ حربہ پرانا ہو چکا ہے. ان کی نااہلی کو برداشت کرنا ملکی اداروں کے بس سےباہر ہو گیا ہے. اور انہوں نے مزید خفت سے بچنے کے لیے اب اپنے کیے ہوئے فیصلہ پر نظر ثانی کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے. کیونکہ وہ اس حکومت کی مزید نالائقیوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی. آج ہی عدالت عظمیٰ میں پاکستان ریلوے کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے سیکرٹری ریلوے کی سرزش کرتے ہوئے استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کے پاس تو پہلے ہی 77 ہزار ملازمین ہیں جو ریلوے پر بوجھ ہیں. اوپر سے آپ کے وزیر شیخ رشید احمد ایک لاکھ ملازمین مزید رکھنے کا اعلان کر رہے ہے. انہیں تنخواہ کہاں سے دینی ہے جس پر سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ شیخ رشید احمد کی زبان پھسل گئی تھی.ایک اور وفاقی وزیر برائے ہوا بازی سرور خان نے پی آئی اے کے پائلٹس کی ڈگریوں کو جعلی قرار دیا. جس کے نتیجہ میں یورپ میں پی آئی اے کی فلائٹس پر مکمل پابندی عائد ہو گئی. جس کی وجہ سے ملکی خزانہ کو اربوں روپیہ کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا. اسی طرح سے ایک حکومتی رکن پارلیمنٹ عامر لیاقت نے کہا کہ حکومت کا سب سے بدتمیز وزیر عمر ایوب ہے. جب میں نے ان سے کراچی کی لوڈ شیڈنگ بارے بات کی تو اس نے کہا کہ کراچی کو بجلی دینا میرا کام نہیں. حکومت کے وزراء و اراکین اسمبلی کے کس کس مسخرے پن کا ذکر کیا جائے. یہاں تو ایک سے بڑھ کر ایک جوکر ہیں. جو دوسروں سے سبقت لے جانے کے چکر میں عجیب و غریب کرتب کرتا ہے. جس کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے. موٹر سائیکل جے آئی ٹی بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے. ملک پاکستان اس قدر ترقی یافتہ ہوچکا ہے کہ اب انتہائی احساس نوعیت کی دستاویزات بھی فورڈ پانڈہ کے ذریعہ سے گھر پر منگوائی جا سکتی ہیں. شاید علی زیدی نے اسی سہولت سے استفادہ حاصل کیا ہوگا . جو ایک موٹر سائیکل سوار انہیں جے آئی ٹی رپورٹ تھما گیا. اس مسخرے پن پر سوائے ہسنے کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا. اگر اس معاملے کی گہرائی میں جھانکا جائے تو یہ ملکی اداروں کو زیر عتاب لانے کی ایک منظم کوشش ہے. جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہمارے اداروں کی قابلیت پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں. اگر حکومت وقت اس رپورٹ کو لیکر واقعی سنجیدہ ہے تو اسے اس رپورٹ کی روشنی میں فی الفور ایم کیو ایم اور ذوالفقار مرزا سے اپنے اتحاد کو ختم کر دینا چاہیے.خدارا اس قوم کو مزید بیوقوف نہ بنائیں. اسی اچھی طرح سے معلوم ہے کہ جن لوگوں نے کراچی کے حالات خراب کیے تھے وہ سب کے سب آج آپ کی صفوں میں موجود ہیں اور آپ ان کا مکمل تحفظ بھی کررہے ہیں. عزیز بلوچ نے بھی الیکشن 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کا بھرپور ساتھ دیا تھا. تو صاف ظاہر ہے کہ اتنے شاطر اور تیز انسان نے بدلہ میں کچھ تو مانگا ہوگا. ہوسکتا ہے اس نے اپنی رہائی مانگی ہو. اب بغور دیکھنا ہوگا کہ جس دن عزیز بلوچ پر فرد جرم عائد ہوتی ہے.اسی دن علی زیدی جے آئی ٹی کی رپورٹ والا شوشہ کیوں چھوڑتا ہے. یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے. تاکہ عزیز بلوچ کو سزا سے بچایا جاسکے. عزیز بلوچ کی طرف سے عدالت کے روبرو اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات سے انکار بھی اس بات کو مزید تقویت بخش رہا ہے. یہ حکومت وقت کی طرف سے انتہائی سنگین کھیل کھیلا جا رہا ہے. جو بہت جلد بے نقاب ہوگا.

اپنا تبصرہ بھیجیں