جامعہ کوٹلی،مبینہ طور پرمن پسند شخصیات کو نوازنے کیلئے خلاف قواعد اقدامات کا انکشاف۔

رجسٹرار کی تعیناتی کیلئے تیسری بار اشتہار جاری کر دیا گیا۔
پہلی بار 2017، 2019 میں دوسری بار سلیکشن بورڈ کیلئے اشتہار دیا گیا تھا۔

یونیورسٹی کے اس خلاف قواعد اقدام کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔

اسلام آباد(ورلڈ ویوز اردو/راجہ قیصر ایوب)یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز کوٹلی میں من پسند افراد کو نوازنے کیلئے مبینہ طور پر قواعد کی دھجیاں اڑائی جانے لگیں۔ رجسٹرار کی تعیناتی کیلئے تیسری بار اشتہار جاری،دو مرتبہ کامیاب اور معیار پر پورا اترنے والوں کو سائیڈ لائن کرنے کیلئے ادارے کے انتظامہ معاملات کو عارضی چارج پر چلایا جانے لگا۔ذرائع کے مطابق وائس چانسلر کوٹلی اور چند دیگر حکام کی مبینہ ملی بھگت سے موجودہ رجسٹرار جو کہ صوابدیدی اختیارات پر تعینات ہیں کو رجسٹرار بنانے کیلئے تیسری بار نام نہاد انٹرویوز کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل دونوں بار ہونے والے سلیکشن بورڈ میں تین لوگوں نے کوالیفائی کیا جبکہ دوسری بار تین لوگ کامیاب ہوئے مگر مبینہ طور پر بلا جواز اعتراضات لگا کر دونوں بار راہ فرار اختیار کی گئی۔پہلا سلیکشن بورڈ 2017 میں اور دوسرا 2019 میں ہوا جبکہ اب تیسی بار سلیکشن کیلئے اشتہار جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق 25 جولائی اپلائی کرنے کی آخری تاریخ ہے جس میں ماسٹر ڈگری بمعہ سترہ سال گریڈ 17 کا تجربہ مانگا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جن لوگوں نے اپلائی کیا تھا انہوں نے کئی بار وجوہات جاننے کی کوشش کی اور ریکارڈ طلب کیا کہ ہمارا ریکارڈ دیا جائے کہ کیوں اب تک فائنل نہیں کیا گیا جس پر یونیورسٹی انتظامیہ ٹال مٹول سے کام لیتی رہی اور سال سال کے وقفے سے اب تیسر بار سلیکشن بورڈ کیلئے اشتہار دیا گیا جس سے عوام میں کوٹلی یونیورسٹی کے اس خلاف قواعد اقدام کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی مبینہ طور پر من پسند لوگوں کو نوازنے کی وجہ سےشدید بد انتظامی کا شکار ہے مگر چانسلر آزاد کشمیر اور دیگر ارباب اختیار نے خلاف قواعد اقدامات اور بد انتظامی کا تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا۔

سینیٹر ڈاکٹر معروف خان کا موقف:


ورلڈ ویوز اردو نے جب مذکورہ معاملہ پر سینٹر ڈاکٹر معروف خان سے اس معاملے پر جاننا چاہا تو انہوں نے اتنا ہی کہنے پر اکتفا کیا کہ پہلی بار اشتہار وائس چانسلر غلام غوث صاحب کے دور میں دیا گیا جس پر جن لوگوں نے سلیکشن بورڈ کلیئر کیا انہیں تعینات نہیں کیا گیا اور پھر انکے پاس اب تیسرے اشتہار کی خبر ہے کہ تیسری بار بھی کوئی اشتہار چلایا گیا ہے۔

ڈائریکٹر پلاننگ شاہد حسین کا موقف :


ورلڈ ویوز اردو نے مذکورہ معاملہ پر جب ڈائریکٹر پلاننگ سردار شاہد حسین سے جاننا چاہا تو ان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا جب پہلی بار انہوں نے سلیکشن بورڈ کلیر کیا تو انہیں “Not Suitable “کہہ کر تعینات نہ کیا گیا ،دوسری بار میں نے پھر اپلائی کیا اور دوسرے نمبر پر، پہلے نمبر پر آنے والے کی تعیناتی بھی کچھ وجوہات کی بنا پر نہ ہوسکی ہم نے ریکارڈ مانگا وہ ملا نہیں اور تیسری بار اشتہار پھر چلا دیا گیا، میں خود حیران ہوں کہ یہ کیا چل رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے جامعہ کشمیر،مسٹ اور باغ یونیورسٹی کے بعد اب کوٹلی یونیورسٹی کی ساکھ کو بھی مبینہ طور پر چند انتظامی شخصیات کی جانب سے تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ارباب اختیار نے اگر اب بھی نوٹس نہ لیا تو کوٹلی یونیورسٹی میں شدید انتظانی بحران کا خدشہ ہے جس سے جامعہ کوٹلی کی ساکھ بری طرح تباہ ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں