بھارتی جارحیت اور ہماری زبانی مذمت

تحریر: اورنگزیب اعوان

قیام پاکستان سےلیکر آج تک ہندو ذہنیت نے ہمارے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا. وہ کسی نہ کسی حیلے بہانے سے ہمارے وجود کو زخم لگاتا رہتا ہے.شاید وہ اس حقیت سے ناآشنا ہے. کہ ہزاروں سال اکٹھا رہنے کے باوجود مسلم قوم نے کبھی اس کا غلبہ قبول نہیں کیا تو اب کیسے کر سکتے ہیں.یہ ممکن ہوتا تو انگریز ہندوستان کی تقسیم کبھی نہ کرتا. وہ اس بات سے بخوبی آگاہ تھا کہ مسلمان پیدا ہی حکمرانی کے لیے ہوتا ہے. وہ اپنے خدا کے سوا کسی کی غلامی ہرگز قبول نہیں کرسکتا. اس بات کا منہ بولتا ثبوت مسلم قوم کی عظیم فتوحات سے بھری تاریخ ہے. جس میں انہوں نے ہر اس قوم و طاقت کو جس نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی حکم عدولی کی اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا. یہ ہندوقوم مسلمانوں کے سامنے کیا چیز ہے . انگریز نے ایک طرف ہندوستان کو آزاد کروا کر برصغیر کے مسلمانوں پر احسان کیا. لیکن حقیت میں اس نے مسلمانوں کے غضب سے ہندو قوم کو بچایا تھا. اسے پتہ تھا کہ ہمارے جانے کے بعد ہندوستان میں اقتدار کی جنگ لڑی جائے گی جس کو ہندو قوم کبھی بھی جیت نہیں سکے گی .اسے پتہ تھا کہ مسلمان وہ قوم ہے جو کسی بات کا جب پختہ عزم کر لیتی ہے تو پھر اسے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی. یہ اس وقت کے جذبہ ایمان سے سرشار مسلمان تھے جن سے پوری دنیا ڈرتی تھی. مگر ایک آج کا مسلمان ہے. جس کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے. آج مسلمان قوم پر مظالم کرنا ہر قوم اپنا اولین فرض سمجھتی ہے اسے پتہ ہے کہ انہوں نے کچھ نہیں کرنا انہیں اپنی زندگیوں سے بہت پیار ہیں یہ صرف اور صرف زبانی مذمت پر یقین رکھتی ہے. مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین تمام امت مسلمہ کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے. جو انہیں چیخ چیخ کر خواب غفلت سے بیدار ہونے کا کہہ رہے ہیں . مگر مسلم قوم اس قدر سہل پسند ہوچکی ہے کہ وہ ہر ظلم و بربریت پرمحض بیان بازی سے ہی کام چلا رہی ہے. جو کہ غیرت مند اور زندہ قوموں کا شیوہ نہیں. بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے.اس کے ساتھ ہی ساتھ اس کی مسلح افواج آئے روز ہماری سرحدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتیں ہیں. جس پر ہمارا دفتر خارجہ ان کے سفیر کو بلا کر ایک مذمتی قرارداد پیش کر کے بری الذمہ ہو جاتا ہے. عوام پریشان ہے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے. کیا ہم اس قدر بے بس اور مجبور ہے. کہ اس کا جب دل چاہے وہ ہم پر حملہ آور ہو جاتا ہے . گزشتہ دنوں بھارتی فوج نے چین کی سرحدی خلاف ورزی کی. جس پر چین کی فوج نے اسے ناکو چنے چباوا دیئے. اس نے اس کی فوج کو ناصرف اسلحہ کے ذریعہ سے جہنم واصل کیا بلکہ ڈنڈو اور لاتوں سے اس کی وہ تذلیل کی کہ پوری دنیا میں اس کی ایسی جگ ہنسائی ہوئی کہ یہ فوج ہے یا بچے جو اس طرح سے مار کھا رہے ہیں. آج سوتے میں بھی بھارتی فوج کو چین کی فوج نظر آتی ہے. خوف کا یہ عالم ہے کہ بھارت خود روس کے پاس ثالثی کے لیے چلا گیا ہے. کہ میری جان اس سے چھوڑوا دو. اس کے برعکس ہم دنیا میں سب سے بہادر فوج رکھنے کے دعویدار ہے. مگر حقیت اس کے بالکل الٹ ہے.ہماری مسلح افواج کے سپاہی جو سرحد پر اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں وہ تو سینے پر گولی کھانے کو ہمہ وقت تیار ہیں. مگر ہمارے سیاست دان اور اعلیٰ عکسری افسران ائیر کنڈیشن روم میں بیٹھ کر صرف اور صرف مزاحمتی بیان دینے پر ہی اکتفادہ کر رہے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ پہاڑ میں جائے قومی غیرت ہمیں تو سکون اور آرام کی زندگی بسر کرنا ہے. کچھ دن قبل کراچی میں پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں نے حملہ کیا. جس کو ہمارے سیکورٹی کے اداروں نے اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے پسپا کر دیا. مگر ہمارے لیے یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ آخر کب تک دشمن ہمیں ہمارے ملک کے اندر آکر للکارتا رہے گا کیا ہم میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ ہم بھی اسے منہ توڑ جواب دیں سکے . جس سے یہ پھر کبھی ہمارے خلاف مہم جوئی کا خیال بھی دل میں نہ لاسکے. یا پھر یہ سب کچھ ہم جان بوجھ کر سیاسی پوائنٹ سکورننگ کے لیے کرریے ہیں. کیونکہ ماضی میں جب کبھی بھی انڈیا کی طرف سے کوئی مہم جوئی ہوتی تھی تو عمران خان کہتے تھے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی اپنے دوست میاں محمد نواز شریف کی مدد کر رہا ہے. وہ ہماری سرحدوں پر جارحیت کرکے ہماری اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے . تاکہ اس طرح اس کے دوست میاں محمد نواز شریف کو حکومت سازی کا موقع میسر آتا رہے. تو اب آپ سے معصومانہ سا سوال ہے. کہ اب وہ کس کی مدد کر رہا ہے. اب تو میاں محمد نواز شریف حکومت میں نہیں. کیا وہ آپ کی حکومت کو تو نہیں بچا رہا. کیونکہ جو کام وہ جنگ سے نہیں کرسکا وہ آپ کی نااہل اور نا تجربہ کار حکومت کے ہاتھوں کروانا چاہتا ہے. آپ جب سے حکومت میں آئے ہیں. ملک مسلسل پستی کی طرف جا رہا ہے. آپ کی حکومت کےپہلے سال ہی انڈین فضائیہ نے پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے اندر آکر بمباری کے ذریعہ سے تباہی برپا کرنے کی کوشش کی. جس کو ہماری بہادر فضائیہ نے پسپا کردیا. اور ان کے ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کر لیا. جس پر آپ کو بہت پیار آیا اور اسے فورا بھارت کے حوالے کردیا. بھارتی الیکشن میں بھی آپ نریندر مودی کی جیت کے لیے مسلسل دعا کرتے رہے. بلکہ اس کی الیکشن کمپین چلاتے رہے. بقول آپ کے نریندر مودی وہ واحد شخصیت ہے جو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے. اس نے کامیاب ہوتے ہی آپ کی سوچ اور خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے حل کر دیا. اس نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر مظالم کے وہ پہاڑ توڑے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی. مگر آپ نے اب تک چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے. صرف مزاحمت ہی کرتے جا رہے ہے. اب عین سالانہ بجٹ کی منظوری کے موقع پر کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ بھی کہی آپ کی حکومت کو نریندر مودی کی طرف سے سپورٹ کرنا تو نہیں تھا. عوام اور ملکی میڈیا سارا دن دہشت گردی کے پیچھے لگا رہا آپ نے بڑے ہی آرام سے قومی اسمبلی سے غیر منصفانہ بجٹ منظور کروا لیا. ماضی میں تو آپ کی طرف سے میاں محمد نواز شریف کو طعنے ملتےتھے کہ مودی کا جو یار ہے وہ غدار ہے غدار ہے. پوچھنا تھا کہ آپ تو غدار نہیں ہے نہ. اور نہ ہی مودی کے یار ہے. بلاول بھٹو زرداری تو ایسی ہی دل لگی کے لیے آپ پر بہتان تراشی کر رہے ہیں.مگر رونما ہونے والے واقعات ان الزامات کی صداقت کو بیان کررہے ہیں. لیکن ابھی تک اپوزیشن نے آپ کو غداری کا طعنہ نہیں دیا. لیکن آپ نے کسی بھی سیاسی شخصیت اور اس کی فیملی کو الزامات کی بوچھاڑ سے نہیں بخشا. اب پاکستانی عوام آپ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ آپ بھارت کو اس کی جارحیت کا کس طرح سے جواب دیتے ہیں. کیا پھر اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کرنے کے لیے محض زبانی بیان بازی پر ہی اکتفادہ کرتے رہے گے. یا پھر شاید آپ کو اس کرسی پر بیٹھ کر حکومت کو درپیش مجبوریوں کا احساس ہو گیا ہے. باہر بیٹھ کر حکومت پر تنقید کرنا بہت آسان کام ہے مگر حکومت میں رہ کر دلیرانہ اقدام اٹھانا کسی کسی کے بس کی بات ہے. ملک پاکستان کو آپ ترقی کی منازل پر گامزن کرتے پاتے ہے کہ نہیں مگر ملکی قومی وقار کا تو تقدس پامال نہ کریں. دلیری سے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینے کی جرات کریں. آپ ترکی قوم کےعظیم جگنجو سلطان ارطغرل کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہے کہ ان کی زندگی پر ببنے والی ڈرامہ سیریل کو پاکستان میں اُردو زبان میں دیکھا رہے ہیں. مگر آپ نے ان کی زندگی سے سوائےشادیوں کے کچھ اور نہیں سیکھا. کاش آپ ان کی طرح کفر سے جہاد کرنا بھی سکیھتے. تو آج ملک پاکستان کے دشمن آپ کے وزیر اعظم پاکستان ببنے کے بعد تھر تھر کانپتے. مگر وہ تو ہمیں للکارنے کی بجائے ہم پر حملہ آور ہو رہے ہیں. اگر ان امن پسند دشمنوں کو بروقت بھرپور جواب نہ دیا گیا تو ان کے حوصلے مزید بڑھے گے اور اس قوم کو مزید جانیں و مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا. آپ اپنے ملک کے سیاستدانوں کے خلاف تو بہت ہی سخت رویہ رکھتے ہیں مگر بیرونی دشمن کے لیے انتہائی نرم گوشہ کیوں رکھتے ہیں. خدارا اپنی آنکھیں کھولیں اور ذاتی انا کے خول سے باہر نکل کر ملک دشمن طاقتوں کے خلاف کلمہ حق بلند کریں. تاکہ اقوام عالم میں پاکستانی قوم بھی سر اٹھا کر زندہ رہ سکے. اور فخر سے دنیا کو بتائے کہ ہم امن پسند اور زندہ قوم ہے. ہم کسی کے بھی خلاف معذوم عزائم نہیں رکھتے مگر اپنی آزادی و سلامتی پر کیے جانے والے ہر وار کا بھر پور جواب دینا جانتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں