سیاسی دیگ اور چمچے

تحریر:سید علی اعتزاز نقوی

سیاست کی اصل تاریخ کم بیش 300 سال قبل مسیح ہے جب یونان کے شہر ایتھنز میں نام نہاد جمہوریت کا ڈنکا بج رہا تھا ۔لیکن کاہے کی جمہوریت جہاں حاکم ایک امیر زادہ تھا اور باقی جو بچ گئے تھے وہ اس امیر زادے کے چمچے کڑچھے تھے جو سیاسی دیگ میں اس وقت تک چلتے تھے جب تک اس دیگ میں عوام کا مثالہ بھن کر گھی نہ چھوڑ جاتا ۔پھر اس مثالے کا مزہ کس نے لینا تھا ظاہری بات بات ہے انہی امیرزادوں اور اس کے چمچوں نے۔ یہ تو تھا سیاست کا تعارف اب بات کرتےہیں آزاد کشمیر کی سیاست کی جہاں پر ووٹر عوام ہیں جیسے 300 سال قبل مسح تھے اور حاکم وہی امیر زادے اور ان کے چمچے ہیں اور یہ چمچے تو حد ہی کر جاتے ہیں وہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں یہ تک بھول جاتے ہیں کے ان کی اصل پہچان کیا جب کے ان کے آقا کا ہاتھ ان پر صرف پانچ سال ہی تک ہوتا ہے جو یہ عرصہ ختم ہونے کے بعد اسی گلیوں اور بازاروں میں نظر آتے ہیں جیسے ایک غریب ووٹر سڑکوں پر پوری زندگی دھکےکھاتا ہے اور وہ غریب ووٹر دھکے کیوں نہ کھائے یہ دھکے کھانا اس کا مقدر نہیں بلکے اس کا چنا ہوا راستہ ہے وہ راستہ جس پر چل کر اپنا کاروبار چھوڑ کر ،خود کو دھوپ میں کھڑا کر کے اس نے ووٹ کاسٹ کیا تھا یہ اسی ووٹ کی سزا ہے اور اس سزا کو اس نے ساری زندگی بھگتنا ہے کیوں کے سیاست دان کے چمچے ساڑھے چار سال اسے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور آخری چھ ماہ میں محبت اور منت سماجت شروع ہو جاتی ہے کے ہمارے آقا کو ووٹ دیں اور جوتے کھانے کے لیے الگے ساڑھے چار سال تیار رہیں ہم آپ کو ٹوٹی دیں گے ہم آپ کو نلکہ دیں گے ہم آپ کو سڑک دیں گے۔اب اس بے وقوف عوام کو کون سمجھائے کے یہ پانی بجلی سڑک تمہاری بنیادی ضروریات ہیں یہ تم سے کسی کا آقا نہیں چھین سکتا ۔کسی نے کیا خوب کہا تھا
عوام کو حکومت سے نہیں ڈرنے چاہئے ،بلکہ حکومت کو عوام کا ڈر ہونا چاہئے
تو تمہیں ان کڑچھے چمچوں نے کیوں یرغمال بنا رکھا ہے تمہارے اندر یہ طاقت ہونی چاہئے کے تم جب چاہو اپنے منتخب نمائندے سے ملاقات کر سکو کیوںکہ وہ تمہارا نوکر اور تم اس کے مالک ہو لیکن ان چمچوں نے تمہارے اندر ایسا ڈر پیدا کر دیا ہے کے ہمارے بغیر کوئی بھی ہمارے آقا سے ملاقات نہیں کروا سکتا
کاروباری دنیا میں ایک مخصوص آدمی ہوتا یے جسے مڈل مین یا بروکر کہا جاتا ہے یہ بروکر اتنا چالاک آنسان ہوتا ہے اور کمیش پر کام کرتا ہے اور یہ کمیشن وہ صرف میںن پارٹی نہیں لیتا بلکہ اس سے بھی لیتا ہے جس کے ساتھ ڈیل فکس ہوتی ہے اور اس چمچے کو نقصان سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ انکا ڈبل فائدہ ہو جاتا ہے
یہ سیاسی دیگ کے چمچے بھی بروکر ہیں جو سیاستدان اور غریب کے درمیان ڈیل کریک کرواتے ہیں اور دونوں سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور عوام کے ہاتھوں میں ٹھینگا بھی آتا میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو بہت ہی تعلیم یافتہ ہیں لیکن نوکری کے حصول کے لیے ان کو مفادپرست چمچوں کی منت کرنی پڑتی ہے تب بھی ان کا کام نہیں ہوتا اور کئی مایوس ہو کر بیرون ملک دھکے کھانے پر مجبور ہیں .
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں ،دم گھٹتا ہے کنبد بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اب الیکشن 2021 قریب تر ہے کڑچھے چمچے مکوڑوں کی ایک بڑی فوج کی طرح غریب عوام پر حملہ آور ہوں گے اور یہ حملہ کسی ایٹم بم کے حملے سے کم نہیں ہوگا جی ہاں امیدوں کا ایٹم بم یہ چمچے عوام کو ایسی امیدیں دیں گے جو ان کے آقا کو بھی معلوم نہیں ہوگا کہ میرا چمچہ سیاسی دیگ میں اپنا الو سیدھا کر رہا ہے اور اس کے بعد غریب عوام اس ایٹم بم شکار ہو جائے گی اور اگلے ساڑھے چار سال عوام اپنا منہ کھولے دیکھتی رہے گی اور اگلے ایٹم بم کا انتظار کرتی رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں