مڈٹرم الیکشن

تحریر:اورنگزیب اعوان

پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت وقت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو پہچنے والے ناتلافی نقصان کے ازالہ کے لیے مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ کیا جانےلگا ہے. ان کے نزدیک اس ناتجربہ کار حکومت کو مزید وقت دیا گیا تو یہ اس ملک و قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی. حالیہ بجٹ کی منظوری کے بعد اس حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا. بقول حکومت کے یہ ٹیکس فری بجٹ ہے مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے. اس بجٹ میں بہت سے نئے ٹیکس عوام پر بالواسطہ طور پر نافذ کیے گئے ہیں. جس کا منہ بولتا ثبوت پیڑول کی قیمت میں ہوش روبہ اضافہ کی صورت میں عوام کے سامنے ہے. اوگرا کی سمری کے بغیر ہی پیڑول کی قیمت میں پچیس روپے تک اضافہ کر دیا گیا. جس پر اپوزیشن اور عوام نے بھرپور احتجاج کیا تو حکومتی وزراء نے کہا کہ یہ اضافہ حالیہ بجٹ کے تناظر میں کیا گیا ہے. جبکہ دوسری طرف انہی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس فری بجٹ ہے. شاید یہ لوگ اتنے معصوم یا نا سمجھ ہیں. انہیں اس بات کا ادارک ہی نہیں کہ جیسی ہی پیڑول کی قمیت بڑھتی ہے اس کے اثرات دیگر تمام شعبہ زندگی پر رونما ہوتے ہیں. ٹرانسپورٹرز نے کرایوں، کپڑے کے تاجر نے کپڑے، فلور مل مالکان نے آٹے، سبزی فروش نے سبزی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے. ان سب کا موقف ہیں کہ پیڑول کی بڑھتی ہوئی قیمت کی بدولت موجودہ نرخوں پر اشیاء ضروریہ کی فروخت کسی صورت ممکن نہیں. یہ مسلمہ حقیت بھی ہے اس سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں. پیڑول ترقی یافتہ دور میں انسانی زندگی کا وہ لازمی جز ہے جس کے بغیر زندگی کا پہیہ رواں دواں نہیں رہ سکتا. اس کی قمیتں اوپر نیچے ہونے سے مہنگائی کا طوفان برپا ہو جاتا ہے. حکومتیں ارکان اس کی قیمت میں اضافہ پر کوئی معقول جواب دینے کی بجائے اپوزیشن کو ماضی کے طعنے دے رہے ہیں کہ آپ نے بھی ماضی میں ایسا اقدام کیا تھا. یہ جواب کسی بھی طرح سے ان کی نااہلی کا دفاع نہیں کر پا رہا.آپ لوگوں نے ماضی کی حکومتوں کو ایسے ہی اقدام پر چور چور کہہ کر اس قوم کے کان کھا لیے تھے. اب اپنی چوری بھی ان کے سر پر تھونپ رہے ہیں. آپ لوگ اپنی کس کس نالائقی سے جان چھوڑائے گے. ادویات، آٹا، چینی اور پیڑول ہر جگہ آپ لوگ مکمل بے بس نظر آتے ہیں. ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی. گزشتہ روز ایوان سے بجٹ کی منظوری پر حکومتی ارکان بغلیں بجاتے پھر رہے ہیں. شاید وہ اس بات سے مکمل طور پر لاعلم ہے کہ بجٹ کی منظوری ان کی کامیابی نہیں بلکہ اپوزیشن کی جانب سے ایک سیاسی چال ہے جس میں حکومت مزید پھنس گئی ہے. حکومت وقت کے بیس کے قریب ارکان ایوان میں موجود نہیں تھے. تو پھر ان کی اکثریت کیسے ہوگئی. تو اس بات پر حکومت وقت کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا. کیونکہ اپوزیشن نے اپنے ارکان کی انہیں حمایت دے کر اس بجٹ کو منظور کروا کر ایسی سیاسی چال چلی ہے. جس کا اندازہ حکومت وقت کو کچھ عرصہ بعد ہوگا. اگر اپوزیشن بجٹ کو ناکام بنا دیتی تو اس کا مطلب حکومت کا خاتمہ تھا. جس کے بعد اپوزیشن کی کسی پارٹی کو حکومت سازی کا موقع ملتا. مگر موجودہ حالات میں کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت لینے کو تیار نہیں. کیونکہ سب ہی ملکی معاشی صورتحال سے بخوبی واقف ہیں. انہیں معلوم ہے کہ ان حالات میں جس کے گلے میں بھی یہ ڈھول ڈالا گیا. بوقت ضرورت اسے بجانا پڑے گا. مگر حاصل کچھ نہیں ہو گا. اپوزیشن بہت ہی اچھی سیاسی چال چل رہی ہے. جس کی بدولت عمران خان اور اس کے رفقاء کار عوام کی نظروں میں بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں. عوام جان چکی ہے کہ انہیں تو سیاست کی الف ب کا بھی پتہ نہیں. ایک ہوتا ہے نااہل اور ایک اناڑی. ہمارا پلہ اناڑیوں سے پڑا ہے. جو کسی بھی صورت میں سدھر نہیں سکتے. ان کے اناڑی پن کی وجہ سے ابھی پتہ نہیں اس قوم کو کیا کیا دیکھنے کو ملے گا. اب تو ان کے اپنے ارکان اسمبلی بھی ان کے خلاف لب کشائی کرنا شروع ہوگئے ہیں. وہ ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی، اپنے اپنے حلقہ انتخاب کی زبو حالی پر سیخ پا ہیں . وہ برملا کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنے ووٹرز کا کس منہ سے سامنا کریں ہم نے الیکشن کے موقع پر ان سے بہت سے عہدوں پیما کیے تھے. مگر ان میں سے ایک بھی عہد وفا نہیں ہوسکا. مگر عمران خان کے ناک پر جو بھی نہیں رینگتی. وہ ان ارکان کو کسی بھی لحاظ سے لفٹ نہیں کروا رہے. بلکہ وہ ان کی بجائے غیر منتخب لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کرتے جا رہے ہیں. جن کو عوامی مشکلات کا کوئی علم نہیں. یہ ان کے کان میں سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں. یہی خوشآمدی ان کے زوال کا سبب بنے گے. وزیر اطلاعات ایک انتہائی پڑھے انسان ہے مگر ان پر بھی پارٹی کی سوچ اس قدر غالب آچکی ہے کہ وہ بولتے ہوئے سوچتے بھی نہیں کہ کیا کہہ رہے ہیں. گزشتہ روز بجٹ منظور ہونے پر وہ اس قدر جذباتی تھے کہ انہوں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا. موصوف سے معصومانہ سوال ہے کہ اگر اپوزیشن لیڈر استعفیٰ دے دیتا ہےتو وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر بننا ہے. آپ پڑھے لکھے انسان ہے آپ سے ایسے غیر سنجیدہ بیان کی قطعاً امید نہیں تھی . مگر آپ بھی خوش آمدیوں میں اپنا نام درج کروانے کے چکر میں ایسا بیان دے دیتے ہیں. جو عقل و سمجھ سے بالاتر ہوتا ہیں. اپوزیشن کا تو کام ہی حکومت کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے. اسے ناکامی کے طعنے دینا حکومت کو زیب نہیں دیتا. حکومت کے اسی غیر سنجیدہ رویہ کی وجہ سے ملک میں لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی جیسے ناسور پھر سے سر اٹھا رہے ہیں. گزشتہ روز کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کے حملے نے پوری قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہم لوگ پھر سے منظم ہو رہے ہیں. کیونکہ انہیں حکومتی نااہلی کی وجہ سے پھر سے پھلنے پھولنے کا موقع میسر آچکا ہے. اسی طرح سےملک بھر میں خصوصاً کراچی میں بارہ بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ شروع ہو گئی ہے. جس کی بڑی وجہ حکومت وقت کی ساری کی ساری توجہ اپنے سیاسی مخالفین کی تذلیل کرنے پر مرکوز ہیں. اس کے علاوہ اسے کوئی کام نہیں. پچھلی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا. جس کی بدولت عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں.مگر اس حکومت کے قیام سے اب تک ملکی شاہراہوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی. جس وجہ سے ملک کے طول و عرض میں ہر جگہ اہم شاہراہیں توڑ پھوڑ کا شکار ہیں. اگر یہی صورتحال رہی تو ملک کی تمام شاہراہیں کھنڈرات کا منظر پیش کرنا شروع کر دے گی. جو اس ملک کی ترقی کے منہ پر ایک سیاہ دھبہ ہوگا. جس ملک کی شاہراہیں اچھی نہ ہو وہاں ذرائع آمدورفت بھی ترقی یافتہ نہیں ہوتا. جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار اس ملک میں سرمایہ کاری بھی نہیں کرتے. ایک عام پاکستانی حکومت وقت کی طرف سے اختیار کردہ پالیسیوں کی بدولت شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہے. اسے کچھ سمجھ نہیں رہی کہ یہ حکومت کیا کرنا چاہتی ہے. اور اس کے عزائم کیا ہیں. اس تمام سیاسی منظر نامہ کو سامنے رکھتے ہوئے. اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ بالکل جائز نظر آتا ہے. یہ مطالبہ کسی بھی طرح سے غیر آئینی نہیں ہے. اگر کوئی بھی منتخب حکومت عوام کو بنیادی ضروریات زندگی دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو جائے تو اس کا بہترین حل نئے الیکشن ہی ہیں. اس لیے جتنی جلدی ہو سکے نئے الیکشن کروا دئیے جائیں. تاکہ عوام اپنا فیصلہ سنا سکے. اس وقت عوام اس حکومت کی نااہلی کی وجہ سے موت کے دھانے پر کھڑی ہے. اس کو زندگی کی طرف واپس مائل کرنے کے لیے اس حکومت کا خاتمہ اشد ضروری ہے. خدارا جتنی جلدی ہو سکے اس نااہل حکومت سے عوام کو نجات دلوائی جائے اورفی الفور نئے الیکشن کروائے جائے. اسی میں ملک و قوم کی بہتری ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں