سیاسی کھچڑی

تحریر: اورنگزیب اعوان

ملک پاکستان میں سیاست کو سمجھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے. کیونکہ یہاں

کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کب کیا ہوجانا ہے. برسوں کے حریف کب حلیف بن جائے اور حلیف کب حریف بن جائے. اسی وجہ سے پاکستان میں سیاسی نظام ہمیشہ سے ہی عدم استحکام کا شکار رہا ہے. اس ملک میں اعلیٰ سیاسی مقام حاصل کرنے کے لیے نہ چاہتے ہوۂے بھی کچھ خفیہ قوتوں کا آلہ کار بننا پڑتا ہے. اگر سادہ لفظوں میں کہا جائے تو ان کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی اور مکمل وفا داری کا حلف دینا پڑتا ہے.یہاں وہی کامیاب سیاست دان ہے جن کے سر پر ان قوتوں کا سایہ ہوتا ہے. جیسے ہی کوئی ان کو آنکھیں دیکھتا ہیں. اس کو سبق آموز نصیحت دینے کی غرض سے عبرت ناک انجام سے دوچار کر دیا جاتا ہے. جس سے دوسرے سیاست دانوں کو بھی پیغام مل جاتا ہے کہ ایسی غلطی ہرگز نہیں کرنی. کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم آج بھی محکوم قوم ہے. جو اپنی مرضی سے بات تک نہیں کرسکتی. اس ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنا تو بہت دور کی بات ہے. آزاد اور زندہ قومیں اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرتی ہیں. ہم میں اور ان میں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ ایک قوم بن کر سوچتی ہے جبکہ ہم گروپ بن کر سوچتے ہیں. اس لیے ہماری سوچ بہت محدود ہوتی ہے. ہم صرف اور صرف اپنی ذات کے بارے میں غور وفکر کرتے ہیں. کہ کس طرح سے اپنے سیاسی مخالف کی تذلیل کرنی ہے جس سے وہ قوتیں خوش ہو جائے جو اس کے خلاف ہیں. الحمد اللہ اس کام میں ہماری قوم بہت ترقی یافتہ ہے. یہ ایسا کوئی موقع اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتی جس سے دوسرے کی ذات کو نقصان پہنچایا جاسکے. جب تک ہم بحیثیت قوم دوسروں کےہاتھوں میں کھیلنے کے لیے تیار رہے گے تب تک ہم ترقی کی منازل طے نہیں کر پائے گے. کیونکہ وہ قوتیں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیےہمارا استعمال کرتی رہے گی.بدقسمتی سے ہمارے سیاسی رہنما اس کھیل میں بطور سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں. اگر یہ عہد کر لیں کہ ہم نے آیندہ سے کسی سازش کا حصہ نہیں بننا تو یقین جانیں یہ ملک بہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا. ہمارے ملک میں الیکشن کے ذریعہ سے جیسے ہی کوئی حکومت منتخب ہوتی ہے. اس کے خلاف سازشوں کا جال بن دیا جاتا ہے .اسے کھل کر اپنے سیاسی منشور پر عمل درآمد نہیں کرنےدیا جاتا. اس کے خلاف آئے روز نئے سے نیا محاذ کھول دیا جاتا ہے. اس سارے فعل میں بھی ہماری سیاسی جماعتیں ہی شامل ہوتی ہیں. جو شاید اس بات سے لاعلم ہوتی ہیں کہ اگر آج اس کے خلاف یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو کل کو ہمارے خلاف بھی ہو گا. اس کی عمدہ مثال ہمارے سامنے 2013 کے الیکشن کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی قائم کردہ حکومت کے خلاف پہلے ہی سال پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے الیکشن میں دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے دھرنے کی صورت میں موجود ہے. جس کی بدولت اس وقت کی حکومت کی ساخت کو شدید نقصان پہنچا. بات یہی ختم نہیں ہوئی .بلکہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں اس منتخب حکومت کے خلاف کیس دائر کیے گئے. اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد و وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کوملکی سیاست سے تاحیات نااہل قرار دلوایا گیا . جس پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے خوب بغلیں بجائیں کہ یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہے. وہ شاید بھول گئے تھے کہ آج جو وہ بو رہے ہیں کل کو انہی کو کاٹنا پڑے گا. 2018 کے الیکشن کے نتیجہ میں پاکستان تحریک انصاف کو حکومت سازی کا موقع ملا. یہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ انہیں تجربہ کار اپوزیشن ملی ہے. جس نے اب تک اس کے خلاف کوئی مہم جوئی نہیں کی. مگر بدقسمتی سے آپ کی اپنی پارٹی کے اندر ہی سیاسی کھچڑی پک رہی ہے. پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم کرنے کی غرض سےمختلف جماعتوں کے مضبوط امیدواروں کو آپ کے پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑوایا گیا. جس کے نتیجہ میں آپ کی حکومت قائم ہو گئ. مگر شاید آپ بھول گئے کہ اس طرح سے قائم حکومت دیرپا نہیں ہوگی. اب آپ اس غلط اور سازشی فعل کا انجام بھگت رہے ہیں. ہر روز آپ سے کوئی نہ کوئی اتحادی ناراض ہو جاتا ہے. یا پھر آپ کی پارٹی کے وزراء آپس میں الجھ پڑتے ہیں. اب تو نوبت آپ کے ارکان اسمبلی کی طرف سے استعفوں کے اعلان تک آگئ ہے.صوبہ پنجاب کے ایک مضبوط رہنما سابق سینیئر منسٹر پنجاب و رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض احمد خان نے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قومی مسئلہ پر بات کرنی چاہی جس کی اسپیکر اسمبلی نے انہیں اجازت نہیں دی جس پر انہوں نے احتجاجاً اسمبلی سے واک آؤٹ کیا. آپ کا اپنے پارٹی ارکان سے اس قسم کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو ان کی کوئی قدر نہیں. اسی رات ٹاک شو کے دوران انہوں نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا. جو کہ بالکل جائز ہیں. اگر آپ نے ان ارکان کی بات نہیں سننی تو پھر کس نے سننی ہے. یہ لوگ کروڑوں روپیہ خرچ کر الیکشن جیتے ہیں. آپ پھر بھی بڑے آرام سے کہہ دیتے ہے کہ تم ہماری پارٹی کے ٹکٹ پر جیت کر آئے ہو. ان کا جو کروڑوں روپیہ اور وقت الیکشن میں صرف ہوتا. اسکا جواب کون دے گا. تو وزیراعظم پاکستان آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ لوگ منتخب نمائندے ہیں آپ کے زر خرید غلام نہیں اس لیے ان کی عزت کیا کریں ان کی بدولت ہی آج آپ وزیراعظم کے منصب پر براجمان ہے. اگر یہ نہ ہو تو آپ کو بھی کسی نے نہیں پوچھنا. گزشتہ روز آپ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا ہے. جس پر اپوزیشن جماعتوں نے خوب احتجاج کیا. آپ کا ایک وزیر کہتا ہے کہ جوش خطابت میں آپ کی زبان پھسل گئی تھی. حقیقت میں آپ نے یہ پیغام ان قوتوں کو دیا ہے. جن سے اب آپ کو خطرہ لاحق ہے. کیونکہ ماضی میں آپ بھی ان قوتوں کے آلہ کار رہے ہیں. تو پھر آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ جب یہ کسی بات کا عادہ کر لیتی ہیں. تو پھر انہیں کوئی نہیں روک سکتا. آپ نے جو چال چلی ہے یہ آپ کو الٹ بھی پڑ سکتی ہے. کیونکہ آپ نے ان قوتوں کو کھلا چیلنج دیا ہے. آپ کے نزدیک اس قوم نے جس دہشت گردی کے ناسور کے خاتمہ کےلیے اربوں روپیہ اور ہزاروں جانیں قربان کی وہ سب غلط تھا. ہماری مسلح افواج نے جن دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا ہے آپ کی نظر میں وہ سب شہید ہیں. انڈیا کی قوم کو اپنے وزیراعظم نریندر مودی کی وجہ سے ذلت اٹھانی پڑ رہی ہے. اور پاکستانی قوم کو آپ کی کم عقلی اور لاعلمی کی وجہ جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. آج دنیا پاکستانی قوم کی طرف دیکھ رہی ہے کہ تم لوگ تو کہتے تھے کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی ہو رہی ہے. ہمارے معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے. مگر آپ کا وزیراعظم ان کو ہیرو اور شہید قرار دے رہا ہے. برائے مہربانی بولنے سے پہلے سوچ لیا کریں کہ آپ کی بات کے کیا اثرات مرتب ہوگے. آپ نے متعدد بار دنیا بھر میں اپنے بیانات کی بدولت پاکستانی قوم کا تمسخر بنایا ہے. آپ کے ایسے غیر سنجیدہ بیانات کی بدولت ہی آپ کے اپنے پرائے سب خلاف ہوتے جا رہے ہیں. ساری قوم پریشان ہے کہ جو سیاسی کھچڑی پک رہی ہے. اس کے کیا نتائج برآمد ہوگے. شاید آپ اپنی نااہلیوں سے لوگوں کی چشم پوشی کے لیے لوگوں کا دھیان دوسری طرف لگا رہے ہیں. یہ ساری سیاسی شعبدہ بازی عوام کو رام کرنے کے لیے ہے. تو یہ آپ کی خیام خیالی ہے. عوام اب آپ سے تنگ آچکی ہے. آپ ان کی بہتری کے لئے کچھ کرسکتے ہیں تو کریں ورنہ حکومت چھوڑ دیں. اگر آپ کی نااہلیوں کا یہ سلسلہ اسی طرح سے جاری و ساری رہا تو عوام کا سانس لینا بھی محال ہو جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں