کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ(کورٹ) نے وبائی دنوں میں مستحق لوگوں کو ان کی دہلیز پر کھانا ، دوائی اور صحت کی اشیا فراہم کی جو قابل ستائش ہے، علی امین گنڈا پور

نااُمید لوگوں کو اُمید دلوانے کیلئے کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ “کورٹ” کا بہت بڑا اعزاز ہے’ الطاف احمدبٹ

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی وزیر کشمیر و گلگت بلتستان امور علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہے کہ میں نے کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ “Kortکے او آر ٹی” کا دورہ کیا جس پر مجھے معلوم ہوا کہ ۔ کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ ”کے او آر ٹی”میں یتیم بچوں کے لئے بہترین سہولیات موجود ہیں ، ان کا تعلیمی نظام ، رہائشی حالت اور نصابی سرگرمیوں کے لئے سہولیات غیر معمولی ہیں۔ میں نے وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا ہے کہ کورٹ کشمیر اور پاکستان کے مختلف حصوں میں کر رہے”کے او آر ٹی” نے موجودہ کورونا وائرس جیسی وبائی مرض کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کیں۔ انہوں نے ضرورت مندوں اور مستحق لوگوں کو ان کی دہلیز پر کھانا ، ادویات اور صحت کی اشیا فراہم کیں۔ KORT نے پاکستان میں ریلیف ورک کی مثال قائم کی ہے۔ کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ ‘ پاکستان میں ریلیف / سماجی تنظیموں کے لئے ایک کامیاب رول ماڈل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ ” کے اسلام آباد دفتر میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیئرمین جموں و کشمیر سالویشن موومنٹ الطاف احمد بٹ، سابق چیف سیکریٹری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ میاں واحد الدین (سفیر کورٹ) میڈیا پرسنز اور دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے چیئرمین کورٹ ، چوہدری محمد اختر سےاظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ محمد اختر ”کورٹ”اور ان کی ٹیم ، اور یتیموں اور مسکین لوگوں کے لئے 2005 کے زلزلے کے بعد سے ان کی مستقل امدادی سرگرمیاں میں اپنی کردار ادا کررہے ہیں۔ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ ، پوری دنیا اور پاکستان کے لوگ ”کورٹ”پر اپنے عطیات / زکوات پر بھروسہ کرتے ہیں ، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے عطیات انسانیت کی خدمت پر منصفانہ طور پر استعمال ہورہے ہیں۔ یتیم بچوں کو حقوق دلانے ، ضرورت مندوں اور زلزلے سے متاثرہ لوگوں کو پناہ دینے کے ذریعہ اقوام متحدہ کے مستقبل کو بدل رہی ہے۔ لوگ خود ہی اپنی دیکھ بھال کریں گے تو ریاست مدینہ کا خواب پورا ہوگا۔ اس موقع پر صدر جموں کشمیر سالویشن موومنٹ کے صدراور ممتاز حریت پسند کشمیری رہنما الطاف احمد بٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”Kort” نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کیلئے رول ماڈل ہے، اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور اس طرح کے جتنے بھی ادارے ہیں ان کی بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ غریب خاندانوں ،ضرورت مند افراد اور ضرورت مند بچوں کیلئے سہارا پیدا کرنا انتہائی اچھاعمل اور بڑی بات ہے ۔ نااُمید لوگوں کو اُمید دلوانے کیلئے کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ “کورٹ” کا بہت بڑا اعزاز ہے۔ چوہدری اختر اور ان کی ٹیم نے آزاد کشمیر خاص طور پر میر پور میں ہولناک زلزلہ کے بعد جو بنیاد رکھی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔جس کام میں نیت خالص ہے اس کام میں اللہ تعالیٰ خود راستے کھولتے ہیں ، ان کے کام کا اجرآخرت میں ملتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے ان کے کام کی حوصلہ افزائی کی ہے انہوں نے ان کی وساطت سے پاکستان میں اس طرح کے کام کرنیوالے دیگر اداروں کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے۔کورونا وائرس کی وباء کے بعد میں نے کہا تھا کہ ”جس کا کام اُس کو ساجھے ”تاہم اس وباء کے دوران وزیراعظم عمران خان نے بھی عوام کیلئے مثالی کام کیاہے، کوئی اور ادارے بنانے سے بہتر ہے جو لوگ پہلے سے ایسے کام کررہے ہیں ان کو ہی مزید مواقع فراہم کرنا اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے حکومت ایسے اداروں کی وساطت سے فلاحی کاموں کو مزید بہتر طریقے سے سرانجام دے سکتی ہے ۔ جس میں ”Kort” سرفہرست ہے اس کیساتھ آغوش ، اخوت ، شوکت خانم ، الخدمت فائونڈیشن سمیت دیگر ادارے بھی ہیں۔کورونا وائرس کل ختم ہونے والا نہیں ہے، غریب طبقہ ہر معاشرے میں ہوتا ہے، ان کیلئے مستقل ریلیف پیکج کا انتظام کرنا ہوگا، مجھے یقین ہے کہ پاکستان کو ہی یہ اعزاز ہے کہ سب سے زیادہ صدقہ خیرات قرآن اور سنت میں پاکستان میں کی جاتی ہے اور جتنے بھی بڑے ادارے جو پاکستان میں ریلیف کا کام کرتے ہیں اگر ان کو سینٹرلائز کیا جائے تو کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے چوہدری اختر کی 2005 کے زلزلے کے بعد سے جاری انسانی ہمدردی کے کام کی تعریف کی۔ چودھری اختر کا خالص ارادے ہی واحد وجہ ہے کہ کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ ” پاکستان میں ایک کامیاب ماڈل بن گیا ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے ان کی تعریف کی ہے۔ وزیر اعظم خان کی تعریف ہر انسان دوست تنظیم کے لئے ہے جو ضرورت مند اور غریب لوگوں کے لئے پوری طرح سے کام کررہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان خود ایک سماجی کارکن ہیں ، اور وزیراعظم عمران خان نے8 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا تب میں نے مشورہ دیا تھا کہ خاص تنظیمیں جو طویل عرصے سے کام کر رہی ہیں ، انہیں ضرورت مندوں کو نقد رقم ، کھانے پیکیج کی تقسیم میں شامل کیا جانا چاہئے “پاکستانی قوم چیریٹی میں بہت زیادہ حصہ ڈالتی ہے ، وقت کی ضرورت اس کو مرکزی حیثیت دینے کی ہے ، اور اسے پہلے سے ہی موجود امدادی تنظیموں کے ذریعہ استعمال کرنا ہے۔” اس موقع ہر چیئرمین کے او آر ٹی ، چوہدری محمد اختر نے کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ ” کے کام کو بڑھانا چاہتے ہیں اور خطرے سے دوچار بچوں کی فلاح و بہبود اور اس کے کام کو بڑھانا چاہتے ہیں اور ملک بھر میں کمزور کمیونٹیز کی حمایت بھی کرنا چاہتے ہیں۔اس موقع پہ شفیق احمد بٹ، انجئیرحماد میر و دیگر موجود تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں