جبی سیداں کی سڑک، گارے اور مٹی سے حفاظتی دیواریں بنائے جانے کا انکشاف

جامعہ مسجد سے کوٹ تک ڈیڑھ کلو میٹر سڑک میں ناقص میٹریل کا استعمال ، شہری سراپا احتجاج


سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ وزیر تعمیرات کے قریبی عزیز کے پاس ، آواز اٹھانے پر سیاسی انتقام کا خدشہ ہے، عوام علاقہ


اسلام آباد(ورلڈ ویوز اردو/سپیشل رپورٹر) جبی سیداں پاکستان بھر میں علم و عرفان کے مرکز کے نام سے جانا جاتا ہے ، لیکن آزاد حکومت اس پڑھی لکھی عوام کو بھی چونا لگانے لگی ، شدید بارشوں اور تازہ پانی کے بہتے چشموں کی زمین میں سڑک کی حفاظتی دیواریں گارے سے بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ جامع مسجد سے کوٹ تک ایک کلومیٹر سڑک کی تعمیر کے دوران اس وقت حفاظتی دیواریں بنائی جارہی ہیں ۔ ورلڈ ویوز کی تحقیقاتی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر تعمیراتی میٹریل کا جائزہ لیا، جس میں دیکھا گیا کہ سیمنٹ اور اعلیٰ کوالٹی کی ریت کی جگہ شیطان کٹھے کا گیڑا اور مٹی استعمال کی جارہی ہے ۔ مزید یہ کہ سیمنٹ اور ریت کا تناسب بھی محکمہ شاہرات کے طے شدہ معیار پر بالکل بھی پورا نہیں اترا، مقامی افراد نے الزام عائد کیا کہ ٹھیکدار سڑک سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنا چاہتاہے ، جبکہ وزیر تعمیرات کا قریبی عزیز ہونے کے باعث اسے پکڑے جانے کا بھی خدشہ نہیں ہے ۔ مقامی افراد سے جب اعلیٰ حکام سے شکایات کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وزیر تعمیرات انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا سکتے ہیں ، جن افراد نے سوشل میڈیا پر اس بارے میں بات کی،انہیں دھمکیاں دی گئیں ،تاہم شہریوں نے آزاد حکومت ، احتساب بیورو اور اعلیٰ اداروں سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ حویلی کی سڑکوں کے حوالے سے یہ پہلی بار شکایت منظر عام پر نہیں آئی ہے بلکہ اس سے قبل بھی ضلع میں تعمیر ہونے والی سڑکوں کے میٹریل پر سوالات اٹھ چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں