تبدیلی سرکار کی بکھرتی شاخیں

تحریر: اورنگزیب اعوان

پاکستان تحریک انصاف نے تمام اخلاقی روایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے. اقتدار پر براجمان ہونے کے لیے غیر فطری اتحاد قائم کیا. جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتا پڑ رہا ہے. عمران خان کی جدوجہد کا محور ہی کرپشن ، رشوت، اقرباء پروری اور سیاسی بلیک میلنگ کے خلاف جدوجہد تھا. مگر وزرات عظمی کے عہدے کی حوص نے انہیں بھی گھٹیا سیاسی کھیل کھیلنے پر مجبور کر دیا. یہ اپنے اصولی موقف سے بھی پیچھے ہٹ گئے. جس کا پچھتاوا انہیں ہر روز ہوتا ہے. آئے روز کوئی نہ کوئی سیاسی اتحادی ان سے روٹھ جاتا ہے. ان کی ساری توجہ اپنے حکومتی اتحادیوں کو منانے پر ہی مرکوز رہتی ہے. عوامی مسائل کے حل بارے ان کے پاس ٹائم ہی نہیں. کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ ایسی لولی لنگڑی حکومت لینے کی بجائے اپوزیشن میں بیٹھ جاتے. اس طرح سے عوام کو درپیش مسائل کو تو بہتر طریقہ سے اجاگر کر پاتے. دوسری سیاسی پارٹیوں کے جو پنچھی اپنی اپنی جماعت سے اڑان بھر کر آپ کی چھتری پر آکر بیٹھے تھے. وہ بھی اب مایوس ہو چکے ہیں. کیونکہ انہیں وہ عزت اور مقام آپ کی پارٹی میں نہیں مل سکا جس کے وہ متلاشی تھے. ظاہر ہے انسان کی جو عزت اور مرتبہ اپنے گھر میں ہوتا ہے. وہ اسے دوسرے کے گھر میں نہیں مل سکتا. آپ کی پارٹی کے جو پرانے لوگ ہیں وہ فرنٹ لائن پر ہوتے ہیں ان کا حق بھی بنتا ہے. جس کا یہ لوگ غصہ کرتے ہیں. انہیں اس حقیت کا ادارک ہونا چاہیے کہ انہیں جو مقام دیا گیا ہے یہ اسی کے مستحق تھے. یہ جتنے بھی لوگ حکومت سے ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں. ان سب کے اپنے اپنے ذاتی مفادات ہیں. انہیں عوامی مسائل سے کوئی سرو کار نہیں. انہوں نے حکومت سے الگ ہونا ہی تھا تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ اس وقت ہوتے جب ادویات کی قیمتوں میں دو سو فیصد اتفاق اضافہ کیا گیاتھا. یا پھر اس وقت ہوتے جب چینی کی قیمت پچپن روپے سے پچاسی روپے پر چلی گئی تھی. آٹے کے بحران پر ہوتے. اب جب ناراض ہوئے ہیں تو یہ بہانہ کر کے کہ ہمارے صوبوں میں احساس محرومی بہت زیادہ ہے. تو ان سے سوال ہے کہ کیا یہ احساس محرومی دوسال کے دوران پیدا ہوا ہے. نہیں بلکہ یہ احساس محرومی آپ جیسے سرداروں اور وڈیروں کی وجہ سے قیام پاکستان سے چلا آرہا ہے. آپ لوگ اپنی سرداری قائم رکھنے کے لیے اپنے اپنے علاقوں میں عوامی فلاح و بہبود کے کام نہیں ہونے دیتے. اگر غریب کا بچہ پڑھ لکھ گیا اور اچھی نوکری کرنا شروع کر دی. تو ان کی غلامی کون کرے گا. اگر ان غریبوں کو صحت کی سہولت میسر آگئ تو ان کی محتاجی کی کسے ضرورت پڑی ہے. اس لیے یہ اپنے علاقوں میں سکول، کالج اور ہسپتال بنے نہیں دیتے. قیام پاکستان سے لیکر اب تک آپ لوگوں کے آباؤ اجداد ان علاقوں سے منتخب ہوتے آرہے ہیں. پھر بھی یہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی. ایسا کیوں ہے یہ سوال آپ خود سے پوچھے اگر حکومتیں آپ کو کچھ نہیں دیتی تھی تو آپ ان کا حصہ کیوں بنتے رہے. تو جواب ملے گا ذاتی مفادات کا حصول. اب بھی بلوچستان کی ایک قد آور شخصیت حکومت سے ناراض ہوکر الگ ہوگئی ہے. جس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے. ماضی میں بھی اسی شخصیت نے حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا. یہ لوگ حکومت وقت کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے پریشرائز کرتے ہیں. یا دوسرے لفظوں میں اپنا ریٹ بڑھاتے ہیں. یہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی چند پارٹیاں ہیں. جنہیں وہ جب چاہے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں. لگتا ہے موجودہ حکومت سے اب وہ بیزار ہوچکے ہیں اس لیے انہوں نے اپنے مہروں کی سیاسی پوزیشن تبدیل کرنا شروع کر دی ہے. کچھ حکومتی رویہ سے نالاں ہو گئے ہیں کچھ اپنا حق نہ ملنے کا شکوہ کر رہے ہیں. اصل وجہ ان کو ملنے والے احکامات ہیں. جن کی تکمیلِ انہیں ہر صورت کرنی ہے. بس ہر کسی نے حکومت سے الگ ہونے کےکوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈنا ہے. وزیراعظم پاکستان اب آپ کو احساس ہو رہا ہوگا کہ ماضی میں آپ بھی اسی گیم پلان کا حصہ رہے ہیں. جس کی وجہ سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا. اب آپ کو بھی اسی گیم پلان کے تحت ٹف ٹائم دیا جا رہا ہے. اسی لیے تو کہتے ہیں کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے. یہاں جو بویا جاتا وہی کاٹا جاتا ہے. جو کیھتی آپ نے بیجی تھی اب آپ کو کاٹنی پڑ رہی ہے . سازشیں اور وفاداریاں تبدیل کرکے حاصل کی گئی حکومت دیرپا نہیں ہوتی. اب بھی وقت ہے آپ توبہ استغفار کرکے دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کرے اور الیکشن اپنے بل بوتے پر جیت کر حکومت سازی کریں. ورنہ آپ کبھی بھی قد آور درخت نہیں بن پائے گے کیونکہ آپ کی شاخیں ہی بکھرتی پھر رہی ہیں. جب آپ کی شاخیں ہی مضبوط نہیں ہوگی تو کس کے سہارے کھڑے ہوگے انہیں شاخوں نے آپ کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرنا ہوتا ہے. مگر یہ یہ تو خود ہی ڈگمگا رہی ہیں. اسی طرح سے آپ اور ان خانہ بدوش لوگوں کا ذہن اور سوچ آپس میں نہیں ملتی. جس وجہ سے آپ لوگ ایک پیج پر نہیں چل پا رہے .بہتر یہی ہے کہ موجودہ اسمبلی کو ختم کرے اور محتاجی کی زندگی کو ترک کرکے اپنی مرضی سے جینے کے لیے نیا الیکشن کروائے اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچے. یہاں آپ کو کسی سے بلیک میل نہ ہونا پڑے. عوام کی عدالت سب سے بہتر فورم ہے. آپ خود کو ان کے سامنے احتساب کے لیے پیش کر دیں وہ جسے بہتر سمجھے گے منتخب کر لے گے. سیاسی پارٹیوں سے ہاتھ جوڑ کر التجاء ہے کہ مفاد پرست اور موسمی پرندوں سے اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کو محفوظ رکھے
یہ لوگ کسی کے بھی ساتھ مخلص نہیں ہوتے. ان کو سب سے زیادہ عزیز اپنا ذاتی مفاد ہوتا ہے. خدارا ان سے اپنی اور اس قوم کی جان چھڑوائے. ورنہ یہ آستین کے سانپ خود کو دودھ پلانے والوں کو ڈستے رہے گے. ان چند لوگوں کی وجہ سے حکومتیں عدم استحکام کا شکار رہتی ہیں. اب وقت آگیا ہے. کہ ان مٹھی بھر مفاد پرستوں سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے.

اپنا تبصرہ بھیجیں