لداخ مودیت کا قبرستان بن گیا

تحریر :ارشد بیروی
چین نے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور تین میجر رینک کے چار اعلی افسروں سمیت دس بھارتی فوجیوں کو رہا کردیا ہے جنھیں 15 اور 16 جون کی درمیانی شب لداخ کی وادی گلوان میں خونریز جھڑپ کے بعد پکڑ لیا گیا تھا۔اس جھڑپ میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک اور 76 زخمی ہوگئے تھے۔ جن میں 18جان بلب جبکہ دیگر خطرے سے باہر فوجی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
جمعرات کی شام بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے کہا تھا کہ محاذ پر کسی کارروائی کے دوران انڈیا کا کوئی فوجی لاپتہ نہیں ہے اور عین اسی وقت چین نے گرفتار شدہ فوجی رہاکرکے بھارت کی سبکی اور ذلت و رسوائی میں اضافہ کردیا۔ تصادم میں چینی فوجیوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی بر نہیں ہے مگر بھارت کی حکومت نواز خبر رساں ایجنسی نے فوجی ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ انڈین فورسز کے ہاتھوں کم از کم 43 چینی فوجی مارے گئے ہیں۔ یہ تعداد کہاں سے آئی اور کس نے بتائی اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے اور نہ ہی چین یا کسی اور جانب سے اس خبر کی تصدیق ہوئی ہے۔ لیکن انڈین میڈیا نے اسے خوب نشر کیا تاکہ عوام کو کسی درجہ اطمنان حاصل رہے اور حکومت پر دباو کم ہو۔
چینی فوج اس خطے میں مئی کے اوائل سے موجود ہے۔ مئی کے اوائل میں بھی انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان آہنی سلاخوں اور کلب بیٹس اور ڈنڈوں کا استعمال ہوا تھا۔ بھارت کے ایک سرکردہ دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا کہنا ہے کہ مئی کے اس واقعے میں 72 انڈین فوجی زخمی ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ چینی فوجی اس وقت سے ایکچوئل کنٹرول لائن یعنی کے کئی پوائنٹس پر آگے بڑھ کر قابض ہیں۔
ہفتے کو وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ نہ کوئی ہمارے علاقے میں داخل ہوا نہ ہی کسی پوسٹ پر قبضہ ہوا۔ مبصرین کے مطابق مودی کے اس بیان سے شکست اور سرنڈر کرنا چھلک رہا ہے۔ گویا انھوں نے وادی گلوان پر چین کی عملداری کو تسلیم کرلیا ہے اور اگر وادی گلوان چین کی ہے تو گویا وہ چین کے اس الزام کو تسلیم کر رہے ہیں کہ بھارتی فوج نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول سے دراندازی کی تھی جس پر بجا طور پر پھر چینیوں نے بطور سزا بھارتی فوجکو نہ صرف اتنا بھاری جانی نقصان پہنچایا بلکہ بھارت کے لئے ایسی ذلت و رسوائی کا بھی سامان کردیا جس کی گذشتہ کئی دہائیوں سے مثال نہیں ملتی۔ جب وہ گلوان وادی پر چین کے حق کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر انکو اپنے ہلاک و زخمی فوجیوں کے احترام میں کھڑے ہونے کے بجائے ا نھیں مجرم یا کم از کم غلط کار تسلیم اور چین کے مطالبہ پر معاملے کی تحقیقات کر کے ذمہ دار فوجی قیادت کو سزا دینی چاہئے۔
عوام کو 43 فوجیوں کے مارے جانے کی پھکی دینے والی مودی حکومت کے، جھوٹ کو تو دنیا میں کہیں بھی تسلیم نہیں کیا جارہا تاہم گودی میڈیا، جسے غلبہ حاصل ہے سے ہٹ کر بعض بھارتی مبصرین بھی چبھتے سوالات کر رہے ہیں۔ مثلا انگریزی اخبار دی ہندو کی ڈپلومیٹک ایڈیٹر سوہاسنی حیدر نے پوچھا کہ وزیر اعظم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آج جہاں چینی فوجی ہیں وہ سارا ان کا علاقے ہے۔ ہمارے فوجی انڈین علاقے میں مارے گئے ہیں یا چینی علاقے میں؟اور وزارت خارجہ نے یہ کیوں کہا کہ تھا کہ چین نے ایل اے سی پر انڈیا کی جانب سے گلوان میں کچھ تعمیرات کرنے کی کوشش کی تھی؟ انڈین ایکسپریس کے سوشانت سنگھ نے پوچھا کہ 20 فوجی مارے گئے، 76 زخمی ہیں، 10 قید کر لیے گئے، کس لیے؟دفاعی امور کے تجزیہ کار برہم چیلانی نے کہا کہ کیا مودی کا یہ بیان اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ انڈیا نے وادی گلوان میں چین کی جانب سے جبرا بدلی گئی صورتحال کو قبول کر لیا ہے؟
دراصل بھارتی اپنی غلطیوں کیساتھ ساتھ اپنے جھوٹ میں بہت بری طرح پھنس گئے ہیں۔کشمیر کے معاملے پر تو انھوں نے ہمیشہ بھارتی عوام کو جھوٹ کے بل پر اندھیرے میں رکھا مگر لداخ خطے میں چین کیساتھ سرحدی کشیدگی کے بارے میں نظر آرہا ہے کہ انھیں جوتے بھی اور سو پیاز بھی کھانا پڑ رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث مودی سرکار کے لئے آگے جاکر کئی چلینجز مگر مچھ کی طرح منہ کھولے نظر آرہے ہیں۔
پہلا تو یہ کہ وہ عوام کو مطمئن کر سکیں کہ گلوان کی جھڑپ یکطرفہ نہیں تھی۔ اور اس میں بڑی تعداد میں چینی فوجی بھی مارے گئے تھے۔ لیکن اس کے لیے انھیں کسی طرح کا ثبوت دینا پڑے گا۔ ابھی تک تو انڈیا یہ بھی ماننے کے لیے تیار نہیں تھا کہ چینی فوجیوں نے انڈین فوجی پکڑ رکھے تھے۔ انھیں اپنا یہ دعوی بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ نہ کوئی ہمارے علاقے میں داخل ہوا نہ ہی کسی پوسٹ پر قبضہ ہوا۔ اور کل کلاں جب یہ آفیشلی ثابت ہوگا کہ 56انچ چھاتی والے وزیراعظم کی سرکار نے واقعی مار بھی کھائی اور زمین سے بھی دستبردار ہوگئے تو جواب دینا پڑے گا کہ چینی فوجی اگر انڈیا کے زیر قبضہ علاقے میں داخل ہو گئے ہیں تو انہیں واپس کیسے بھیجا جائے؟ حکومت نے اس واقعے کے بارے میں معلومات بہت روک روک کر اور بہت کم جاری کی ہیں۔ حزبِ اختلاف کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت یہ بتائے کہ چینی فوجیوں نے انڈیا کی کتنی کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا ہے؟ وہ یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ حکومت چین کو کس طرح پیچھے دھکیلے گی؟ بھارت کے اندر کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ چینی بہت اند تک آکر ڈیرہ جما چکے ہیں۔ لداخ سے متعلق ایک سابق بھارت فوجی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ چینی25 کلومیٹر تک اند آکر قابض ہوچکے۔ لداخ میں کانگریس کے ایک لیڈر کی نجی ٹیلی فونک گفتگو پر مبنی آڈیو لیک ہوکر وائرل ہوگئی ہے جس میں وہ بے تکلفی میں دوسری طرف کے شخص کو بتارہے ہیں کہ چینی 130کلو میڑ اند ر آچکے ہیں اور لگتا یہی ہے کہ بھارت کے ہاتھ سے پورا لداخ چھوٹنے والا ہے۔ اس پر بڑا شور شرابا ہورہا ہے اور مذکورہ کانگریسی لیڈر پر غداری کا الزام عائد کرکے گرفتار کر لیا گیا۔ یہ ایک بڑا ثبوت ہے کہ بھارت میں ڈگڈگی پر مبنی قومیت کا ایک بیوقوفانہ معیار قائم ہے کہ جس کے تحت غیر ملکی افواج کے ہاتھوں اندر آکر مار کھائی جارہی ہے اس پر حکومت قومی غیرت کا عملی مظاہرہ کرنے کے بجائے حملہ آوروں کے سامنے بھیگی بلی بن رہی ہے بلکہ تلخ حقیقت آشکار ہونے کے ڈر سے قبضہ کئے گئے علاقہ سے ہی دستبردار ہوگئی ہے مگر اسی معاملہ پر بے تکلفی کے انداز میں خدشات کا اظہار کرنے والے ایک سیاسی کارکن کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔بھارت کے دائیں اور بازو والے میڈیا سے لیکر افراد بھی یہی کہتے ہیں کہ چین نے دراندازی کرکے بڑے علاقہ میں ڈیرہ جمالیا ہے مگر انکے خلاف غداری کے الزامات نہیں لگتے؟
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی نے ملک میں قوم پرستی کی ایک ایسی لہر چلائی ہے جس میں انڈیا کی کسی طرح کی کمزوری اب قابل قبول نہیں ہے۔ میڈیا 15 اور 16 جون کی درمیانی شب کو ہونے والی خونریز جھڑپ سے پہلے تک یہی کہتا رہا کہ انڈیا کی فوجی طاقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ چین کسی طرح کی فوجی مہم جوئی کی جرات نہیں کر سکتا۔مگر اب وہ بھارت کے زیر قبضہ علاقہ میں بہت اندر تک آچکا اور بھارتی فوج کو بدترین نقصان پہنچاکر بھارتی حکومت پر غرا رہا ہے اور جواب میں بھارتی حکومت میاؤں میاؤں کررہی ہے۔ اسکی حالت اُس کتے کی جیسی ہوچکی ہے جو اپنی دم کو پچھلی ٹانگوں کے درمیان دبا کر اگلی ٹانگوں کیبل کھڑا ار زبان نکال کر خوشامد کررہا ہوتا ہے۔
مودی نے قریب از 100 فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کے اتنے بڑے واقع کے بعد اپوزیشن کی چیخ و پکار کے بعد صرف ایک بیان دیا اور اس میں بھی کہیں پر چین کا نام نہیں لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر کے مظلوموں پر تیز چھری کی طرح چلنے اور پاکستان کے خلاف بھڑکیں مارنے والا بھارت چین کے آگے کس ذلت آمیز انداز میں لیٹ گیا ہے ۔ جھوٹ کے دودھ پر پلنے والے بھارتی عوام کب تک جھوٹے قومی وقار ، 43 چینی فوجیوں کی ہلاکت اور چینی اشیا کے بائیکاٹ کی مدہوشی میں رہیں گے جب انھیں حقائق کا علم ہوگا کہ بھارت ماتا بیچ چوراہے پر لٹ گئی ہے ، مئی سے پونے دو سو فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کے نقصانات، ذلت و رسوائی اور پسپائی کے باوجود چین کے آگے لٹی پٹی یہ ماتا اتنی مجبور ہے کہ چین کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا بھی اسی کے لئے نقصان دہ ہے تو ان کا ردعمل کیا ہوگا؟چین انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تقریبا 90 ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔لیکن چین بھارت کی طرف سے اقتصادی بائیکاٹ کے ذریعے اس پر کوئی دباؤ ڈالنے کے حربے کے لیے پہلے سے ہی تیار ہے اور وہ پہلے ہی اپنی کمپنیوں کو انڈیا میں نئی سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں متنبہ کر چکا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ چین کے اقتصادی بائیکاٹ سے چین سے زیادہ خود انڈیا کو نقصان ہوگا۔ مجموعی طور پر یہ کہ یہ معاملہ مودی حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ مودی جس حزب اختلاف کو ملک دشمن گردانتے تھے گذشتہ روز اسی کو ملکی سلامتی کی صورتحال پر کل جماعتی اجلاس میں بلایا ۔ اگرچہ اس میں بھی انھوں نے جھوٹ کا سہار الیکر وقتی طور پر اس بلا کو ٹال دیا ہے مگر نظر آرہا ہے کہ یہ بلا آگے جاکر انھیں بہت بری طرح پڑ جائے گی۔ انھیں بتانا ہوگا کہ اگر وادی گلوان پر چین کا حق ہے تو اس پہلے وہ اس پر دعویٰ اور اسکے دفا ع کی باتیں کیوں کرتے تھے؟ انکی وزارت داخلہ خارجہ اور فوج کے متعدد متضاد بیانات ہیں جن کی انھیں صفائی دینا ہوگی۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ چینی فوج واقعی در آئی ہے تو انھیں بتانا ہوگا اسے مئی سے پہلے والی پوزیشن میں واپس کیسے بھیجا جائے گا۔ انھیں معلوم ہے کہ طاقت کے زور پر چینی فوج کو پیچھے دھکیلنا یا سرحد کے کسی دیگر علاقے میں چین کے علاقے پر قبضہ کرنا ایک خطرناک کھیل ہوگا۔چین کے ساتھ یہ ٹکرا ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے جب بھارت کی معیشت کورونا کے آنے سے پہلے ہی نیچے جا چکی تھی اور کورونا کے بعد تباہ کن سطح پر پہنچ چکی ہے۔یہ ٹکر مودی حکومت کے لئے ایک ایسا چیلنج ہے جو نہ صرف ان کی قیادت بلکہ انکی نازی طرز کی قوم پرستانہ سیاست کے لئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ بھارتی عوام کے بس مذہبی قومیت کے جنون سے نکل کر حقائق جاننے کی دیر ہے۔چین کی پیش قدمی سے کشمیری اصولی طور پر خوش نہیں ہوسکتے تاہم بھارتی فوج کو پڑنے والے مار اور بھارتی غرور و عزائم کے خاک میں ملنے پر خوش ہونے کا وہ حق ضرور رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں