حویلی آزاد کشمیر:حویلی کے جنگلات پر ٹمبر مافیا کا راج، میں محکمہ کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے جنگلات کا صفایا ہونے لگا۔

جنگلات کی بربادی کا ذمہ دار پورا ایک مافیا ہے ‘وزیر حکومت کو غیرذمہ دارانہ بات نہیں کرنی چاہیے ‘علی رضا بخاری

اسلام آباد(علی حسنین نقوی )محکمہ جنگلات آزاد کشمیر اعلی حکام نے ضلع حویلی کے جنگلات کو مقامی سیاست دانوں،عملے کے سپرد کر دیا۔ایک طرف درخت لگاؤ”بلین ٹری” منصوبہ دوسری جانب با اثر سیاسی شخصیات کی گرج کے سامنے بے بسی کی تصویر بن گئے۔مقامی سیاست دانوں کا ایک دوسرےپرپشت پناہی کا الزام،سیاسی چپقلش کے نام پر جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی جانے لگی۔
ذرائع کے مطابق ضلع حویلی کے گردو نواح کے تمام جنگلات پر ٹمبر مافیا کا راج،محکمہ جنگلات عملے کی مبینہ ملی بھگت سے جنگلات کا صفایا ہو چکا، ذرائع کے مطابق محکمہ جنگلات نے آزاد کشمیر میں درخت لگاؤ مہم چلا ئے رکھی اور بلین ٹری منصوبہ شروع کیا جس کیلئے کروڑوں روپے خرچ کئے جا رہےہیں جبکہ ضلع حویلی میں اس کے برعکس درخت خاتمے کی مہم جاری ہے۔اعلی آفیسرز کی مبینہ ملی بھگت سے ٹمبر مافیا درخت کاٹ کر فروخت کر کے لاکھوں روپے بٹور رہا ہے اور سالانہ کروڑوں روپے کی لکڑی کاٹ کر فروخت کی جاتی ہے اور خوبصورت جنگلات کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
درخت لگانے کیلئے سالانہ کروڑوں روپے کے منصوبے دئیے جانے کے بعد جنگلات کا تحفظ کرنے کیلئے ماہانہ لاکھوں روپے مراعات لینے والے افسران اور ملازمین کی روش بھی بدلی جائے اور ذمہ داری سے جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانے کا پابند بنایا جائے۔

ممبر اسمبلی علی رضا بخاری کا موقف ۔

جنگلات کی کٹائی کے معاملے پر ورلڈ ویوز اردو نے جب علی رضا بخاری سے موقف لیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہاں صرف جنگل کی کٹائی نہیں بربادی ہے، میں کسی فرد واحد یا محکمہ کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا، جنگلوں کی بربادی کا ذمہ دار پورا مافیا ہے ،مختلف طبقات ہیں جو مل بھانٹ کر کھاتے ہیں ۔
علی رضا بخاری کا مذید کہنا تھا کہ وزیر حکومت ہماری سپورٹ ہماری سپورٹ سے ہی وزیر بنے ہیں انہیں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے تھا اور کسی ایک فرد پر الزام نہیں ڈالنا چاہیے تھا، ہمارا روڈ کا منصوبہ تھا اور ہے وہ کورٹ تک گیا معاملہ اور کسی جنگل کو نقصان نہیں پہنچایا گیا، حویلی میں جہاں جہاں جنگل ہیں وہاں بربادی جاری ہے انکا ذمہ دار کون ہے؟
محکمہ جنگلات کو اس پر توجہ دینی چاہیے تاکہ قدرتی اثاثہ بچ سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں