کورنا کا قہر: کراچی کا نوجوان فزکس ٹیچر چپس کی ریڑھی لگانے پر کیوں مجبور ہوگیا؟ مذید جانیے اس لنک میں ۔۔

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان میں کورونا کے تابڑ توڑ حملوں نے جہاں ایک طرف دیہاڑی طبقے کو بری طرح متاثر کیا وہاں شعبہ تعلیم بھی بے حال ہوگیا ہے،ملک بھر میں لاکھوں ٹیچرز بے روزگار ہوگئے اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے مارے مارے پھر رہے۔
فرحان عابد کا تعلق کراچی ہے اور وہ فزکس کے ماہر استاد ہیں جنہوں نے M.Sc Physics کی ھے۔ تفصیلات کے مطابق فرحان عابد صبح کے وقت کالج اور شام کو ایک کوچنگ اکیڈمی میں پڑھا کر اپنی روزی روٹی پوری کرتے تھے ۔مگر کورونا کی عالمی وباء کے بعد کالج بند، کوچنگ اکیڈمی بند، تنخواہ بند ہونے روزی روٹی کے لالے پڑ گئے تو فرحان عابد نے مجبوراً چپس کا ٹھیا لگالیا اور اس طرح ایک ماہر طبیعیات آلو بیچنے پر مجبور ہوگیا اور یوں ایک سوال کھڑا ہوا کہ اس سب کا ذمہ دار کون؟
سکول کالج مالکان؟ حکومت وقت؟ یوں تو فرحان عابد نے سوشل میڈیا پر اپنے مختلف انٹرویوز میں کہا ہے کہ رزق حلال کمانے کے لیے کوئی بھی کام کیا جاسکتا ہے لیکن انہوں نے یہ کام تب شروع کیا جب انکے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا اور انہیں اس کام کی وجہ سے باتیں اور طعنے بھی سننے پڑے لیکن لوگوں کی ایک بڑی تعداد سوال اٹھا رہی ہے کہ
حکومت وقت Youth Empowermentکی بات کرتی ہے تو پھر ایک قابل ترین نوجوان کیوں چپس بیچنے پر مجبور ھے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں