ذات کا سناٹا

تحریر: لبنیٰ مقبول

نیوٹن کے پہلے قانونِ حرکت کی رو سے
“کسی بھی بیرونی قوت کی عدم موجودگی میں جو جسم حالتِ سکون میں ہوگا وہ ساکن رہے گا اور جو جسم حالتِ حرکت میں ہوگا وہ اسی رفتار سے اپنی سمت میں حرکت جاری رکھتا ہے۔”
اسی طرح اکثر رات کے پچھلے پہر زندگی کے سب ہنگاموں سے دور گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ آپ کے اس سناٹے کے سفر کا آغاز ہوتا ہے اور گھڑی ٹک ٹک کرکے وقت کو آگے بڑھا دیتی ہے لیکن آپ وہیں رُکے رہتے ہیں- پوری کائنات آپ کے اطراف چل رہی ہوتی ہے بس آپ رک جاتے ہیں- ٹھہر جانے کی یہ کیفیت صرف آپ خود ہی محسوس کر سکتے ہیں۔

دراصل یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جس میں سوچوں پر ایک جمود سا طاری ہوجاتا ہے اور سناٹا دھیرے دھیرے بہت اندر تک اترتا جاتا ہے- سناٹے کے اس مرحلے میں آپ اپنے محسوسات کو بظاہر بہت پیچھے چھوڑ دیتے ہیں- جو پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں ان کی رفاقت بھی طبیعت کو گراں گزر رہی ہوتی ہے-

سناٹے کے اثرات شدید ہونے کی صورت میں یہ سناٹا دن کی مصروفیات میں بھی ذات کا حصار کیے رہتا ہے اور اس کیفیت سے واپس بغیر کسی نقصان کے نکل آنا اتنا آسان نہیں ہوتا-
جمود رفتہ رفتہ انسان کی تمام صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اس کی خوشیوں، خوابوں، رشتوں اور محبتوں کے لئے زہرِ قاتل کا کام کرتا ہے اور کسی دیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ کر کھوکھلا کر دیتا ہے۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سناٹا کیوں اندر تک اتر آتا ہے جبکہ آپ ایک نارمل انسان کی طرح اچھا بھلا زندگی کی رنگینیوں سے لطف اندوز بھی ہو رہے ہوں-
کوئی بے چینی، یا کچھ آنے والے وقت کے اندیشے آپ کو بے سکونی دے رہے ہوتے ہیں-

حساس لوگ سناٹوں کے سفر پر دوسرے لوگوں کی بہ نسبت کچھ جلدی چلے جاتے ہیں جبکہ حساس ہونے کے ساتھ ساتھ جو لوگ مضبوط بھی ہوتے ہیں وہ اپنی اس کیفیت کو اس قدر قابو میں رکھتے ہیں کہ اپنے اندر اچانک رونما ہونے والی اس تبدیلی کی بھنک سامنے بیٹھے اپنے قریبی شخص تک کو لگنے نہیں دیتے کہ ان کے اندر کیا جوار بھاٹا چل رہا ہے اور اندرونی موسم کتنا بدل چکا ہے-

سناٹا انسان کو ایک ایسی کیفیت میں لا کھڑا کرتا ہے کہ جس میں نہ کسی غم کا احساس، نہ غصّہ نہ شکوہ، نہ کوئی درد و رنج کی کیفیت اور نہ کوئی گماں باقی رہ جاتا ہے- روح تک اتر جانے والا سناٹا آپ کو ان تمام کیفیات سے بری الذمہ کر دیتا ہے-

بعض دفعہ بہت قریبی ساتھی، دوست، یا پیارا بھی آپ کو سناٹے کے اس خاموش سفر پر بھیجنے کا ذمہ دار ہوتا ہے-

شاید اس کی وجہ حد سے زیادہ اس پیارے سے توقعات کا وابستہ کرلینا ہوتا ہے- خود کو بہت اونچائی پر تصور کرتے ہوئے یہ امید لگا لینا کہ جو نہیں کہا گیا شاید وہ بھی سمجھا جائے گا-

جب امید ڈھے جاتی ہے تو اندر دور تک خاموشی اتر آتی ہے-اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ خود کوئی اظہار کرنا چاہتے ہیں اور مناسب انداز میں نہیں کرپا رہے ہوتے ہیں تو یہ تشنگی لی ہوئی کیفیت بھی آپ کو بے چین کر دیتی ہے- شاید اس کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ آپ کو وہ میڈیم، وہ ذریعہ نہیں مل پا رہا ہوتا ہے جہاں آپ اپنے اندر ہونے والی اس تبدیلی کو من و عن بیان کر سکتے ہیں- آپ کے اطراف ہجوم ہوتا ہے لیکن خال خال ہی کوئی اس قابل ہوتا ہے کہ جس سے ان سب ذہنی کیفیات کا برسبیل ہی سہی تذکرہ کیا جاسکے اور سامنے والا اس سب کو اسی پیرائے میں جا کر سمجھ بھی سکے-

آپ کی ان تمام کیفیت کو صرف اور صرف آپ کا وہ قریب ترین ساتھی ہی سمجھ سکتا ہے کہ جس سے آپ کا دماغی اور روحانی براہِ راست تعلق ہو، جو جسمانی طور پر آپ کے ساتھ نہ ہوتے ہوئے بھی آپ کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے-

جب ہم روحانی ساتھی کے ساتھ کی بات کرتے ہیں تو اسکا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی میں آپ کے اندر رہنے والا وہ انسان جو آپ کے اندر موجود سارے رنگوں سے واقفیت رکھتا ہے ۔ اور وہی اندر کی دنیا کے مد و جزر کو سمجھ سکتا ہے۔اسکے کھو جانے کا احساس آپ کو ایسا کر دیتا ہے کہ جیسے آپ اپنے آپ میں نا رہے ہوں۔
کھو جانے کا احساس دراصل اندر کی روشنیوں کو معدوم کر دیتا ہے بس ایک گھنگھور سناٹا آپ کے وجود کو اندر سے کھانے لگتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہوتی ہے کہ جیسے سارے در بند ہو جاٸیں اور آپ پھر کو لگے کہ جیسے آپ واپس اُسی بے کیف دنیا کے عام سے باسی بن کر روشنی کی تلاش میں ادھر سے اُدھر بھاگ رہے ہوں۔

ذہنی سطح کا وہ لیول کہ جس پر جا کر آپ کی دماغی فریکوینسی اپنی جیسی فریکوئنسی سے مل جاتی ہے۔ پھر لاکھ آپ دماغوں سے ملیں مگر آپ کو وہی فریکوٸنسی اور وہی ردھم چاہیے ہوتا ہے جو کہ آپ کے اندر اُس لمحے میں پیدا ہونے والی اس مخصوص کیفیت میں لے جا کر آپ کی خود سے ملاقات کرواتا ہے ۔

قدرتی طور پر ہر کسی سے آپ کا ذہنی ردھم نہیں مل پاتا ۔ بغیر بولے بات سمجھ جانے والی اس کیفیت کے ساتھ جب آپ اپنی جیسی ذہنی فریکوئنسی کے عادی ہو جاتے ہیں تو پھر کوئی اور دماغ آپ کو سمجھ نہیں آتا اور بےشمار لوگوں کے ساتھ رہ کر بھی آپ خود کو تنہا محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ دنیا آپ کو کبھی بھی اسی طرح سمجھ نہیں پا رہی ہوتی ہے جیسا کہ ذہنی مطابقت رکھنے والا روحانی ساتھی جس کا ساتھ آپ کو میسر ہو جائے تو آپ دنیا کو بہت اچھے سے سمجھنے لگتے ہیں۔

اسی طرح حساس لوگ اگر تخلیق کار بھی ہوں تو اپنے اس سناٹے کو اپنے فن کی جِلا کے لیے بہترین انداز میں استعمال کرتے ہیں، یہ کیفیت ان کے فن اور ہنر پارے کو زمانے کے لیے ایک شاہکار بنا دیتی ہے-
ان لوگوں کے برعکس ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس خاموش بیٹھنے کے بجز کوئی چارہ نہیں ہوتا اس طرح وہ تخلیق کی جہتوں سے کبھی روشناس نہیں ہوپاتے اور اپنی زندگی میں مزید یاسیت کی طرف چلے جاتے ہیں –

آپ کے اندر کا سناٹا آپ کی خود سے خود کی ملاقات کراتا ہے- خود احتسابی کا شفاف عمل بہترین طریقے سے سر انجام پاتا ہے کہ جس میں آپ خود ہی ملزم، خود ہی وکیل، خود ہی گواہ اور خود ہی منصف کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں اور ستم یہ کہ فیصلہ سنا کر سزا بھی آپ کو خود ہی بھگتنی ہوتی ہے-
خود احتسابی کے عمل سے گزر کر جو لوگ اپنے اوپر اس وقتی طور پر چھا جانے والی کیفیت کا استعمال مثبت طریقے سے کرتے ہیں وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے اپنی زندگی میں بہت کامیاب رہتے ہیں- اس کے برعکس جو لوگ خود کو جلد اس کیفیت سے باہر نہیں نکال پاتے وہ ایک مستقل یاسیت کا شکار رہتے ہوئے اپنی زندگی میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر لیتے ہیں- زندگی کی حرارت کو اسطرح محسوس نہیں کر پاتے جیسے کرنا چاہیے اور تمام عمر ڈپریشن جیسی کیفیت کا شکار رہتے ہوئے تنہائی کی دلدل میں دھنستے جاتے ہیں اور خود ساختہ تنہائی ہمیشہ سے لاعلاج رہی ہے-

نوٹ :لبنیٰ مقبول، کراچی سے تعلق، شاعرہ، نثر نگار، کالم نویس، اور افسانہ نگار ہیں- بزنس منیجمنٹ، معاشیات، اور انگلش لٹریچر میں ڈگری حاصل کرچکی ہیں- درس و تدریس سے وابستگی رہی- انسانی نفسیات میں گہری دلچسپی ہے ۔ انسان میں چھپی صلاحیتوں کو دریافت کرنے کا شوق ہے ۔ اردو، انگریزی کے علاوہ فرینچ لینگویج پر بھی عبور رکھتی ہیں- “چارہ گر بھی وہی” کے نام سے شعری مجموعہ زیرِ طبع ہے اور اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایک بہت مقبول سلسلہ “مستانہ” لکھ رہی ہیں جسے جلد ناول کی شکل دینے کا ارادہ ہے

ذات کا سناٹا” ایک تبصرہ

  1. عمدہ تحریر، مشکل موضوع کو خوبصورتی سے برتا، سمجھنے والے کے لیے بہت سی باتیں قابلِ توجہ ہیں اس میں

اپنا تبصرہ بھیجیں